سپریم کورٹ نے بی جے پی لیڈر چنمیانند پر جنسی استحصال کا الزام لگانے والی طالبہ کے معاملے کاازالہ کر دیا ہے۔ یوپی حکومت نے سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو بتایا کہ طالبہ اور اس کے بھائی کے لئے دوسرے کالج میں داخلے کے پورے انتظام کر دیئے گئے ہیں۔ یوپی حکومت نے کہا کہ دونوں کو ہاسٹل فراہم کر دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اب طالبہ اور اس کے والدین دونوں، شاہ جہاں پور واپس جانے کے لئے آزاد ہیں۔ کورٹ نے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ طالبہ اور اس کے والدین کو ان کے گھر لے جائیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اب ہم طالبہ سے نہیں ملیں گے اور طالبہ کو جو بھی کہنا ہے وہ ایس آئی ٹی کے سامنے کہہ سکتی ہے۔ کورٹ نے واضح کیا کہ طالبہ کے غائب ہونے کی وجہ سے اس نے اس معاملے پر نوٹس لیا تھا۔ اب جبکہ اس کا پتہ چل گیا ہے اور یوپی حکومت نے اسے دوسرے کالج میں داخلے کا بندوبست کر دیا ہے، ایسے میں اب اس درخواست کو توسیع دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
گذشتہ2 ستمبر کو سپریم کورٹ نے اتر پردیش کی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ طالبہ کی شکایت کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کرے۔ سپریم کورٹ نے پورے معاملے کو الہ آباد ہائی کورٹ ٹرانسفر کر دیا تھا۔ کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کو ایس آئی ٹی کی تفتیش کی مانیٹرنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ہدایت دیاتھا کہ وہ اس معاملے کی جانچ کی مانیٹرنگ کے لئے ایک بینچ تشکیل کرے۔ کورٹ نے کہا تھا کہ طالبہ جس کالج میں پڑھتی ہے، وہاں کے لوگوں سے الزامات کی تحقیقات کی حقیقت کا پتہ لگایا جائے۔ کورٹ نے کہا تھا کہ اس کے احکامات کا مطلب الزامات کی سچائی پر کوئی رائے بنانا نہیں ہے۔
کورٹ نے کہا تھا کہ ایس آئی ٹی دونوں ایف آئی آر کو دیکھنے کے بعد قانون کے مطابق آگے کا کام کرے گی۔ ایف آئی آر لڑکی نے کی تھی اور دوسرا لڑکی کے خلاف کیا گیا ہے۔
جسٹس آر بھانومتی کی صدارت والی بنچ نے اترپردیش حکومت کو ہدایت دی تھی کہ لڑکی کی ایل ایل ایم کی پڑھائی متاثر نہیں ہونی چاہئے۔ اس کے لئے اسے شاہ جہاں پور کے لاء کالج سے دوسرے کالج میں ٹرانسفر کر دیا جائے، جہاں سے وہ اپنی ایل ایل ایم کی تعلیم جاری رکھ سکے۔ 30 اگست کوطالبہ سے ججوں نے چیمبر میں بات کی تھی۔ جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس ایس بوپنا نے کہا تھا کہ جب انہوں نیطالبہ سے بات کی تو اس نے کہا کہ وہ اتر پردیش نہیں جانا چاہتی ہے۔ وہ اس وقت تک دہلی میں ہی رہنا چاہتی ہے جب تک اس کے والدین نہیں آ جائیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here