25سال سے جیل میں بندملزم ابررحمت کوپیرول پر21دنوں کیلئے رہاکئے جانے کا حکم جاری

Share Article

ممبئی:گذشتہ 25 سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید عمر قید کی سزا کاٹ رہے ایک شخص کو آج اس وقت راحت حاصل ہوئی جب سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے اسے 21؍ دنوں کے لیئے پیرول پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔جئے پور کی سینٹرل جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ٹاڈا ملزمین کی پیرول پر رہائی کا بیڑا جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر اٹھایا ہے اور اب تک اس کوشش میں چھ ملزمین کی پیرول پر رہائی عمل میںآئی ہے جس میں ابر حمت ( یوپی) بھی شامل ہے جسے آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی دور کنی بینچ کے جسٹس ادئے امیش للت اور جسٹس اندو ملہوترانے21؍ دنوں کے لیئے پیرو ل پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے،یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی اور مزید بتایا کہ گذشتہ25؍ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید عمر قید کی سزا کاٹ رہے ابر رحمت کی پیرول پر رہائی کے لیئے سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران یڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد حنیف نے دو رکنی بینچ کو بتایا کہ اس معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے دیگر قیدیوں کو سپریم کورٹ نے پیرول پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے ہیں لہذا عرض گذار کو بھی پیرول پر رہا کیا جانا چاہئے کیونکہ اس کی گرفتاری کے بعد سے وہ آج تک جیل کی چہار دیواری سے باہر نہیں گیا ہے۔

ایڈوکیٹ ارشاد حنیف نے عدالت کو بتایا کہ ابر رحمت گذشتہ25؍ سالوں سے جیل میں مقید ہے اور اس دوران اسے اس کی فیلی اور دیگر رشتہ داروں سے ملنے کا موقع نہیں ملاہے نیز عدالت نے حال ہی میں ملزم کے ساتھ جیل میں مقید اشفاق احمد و دیگر کو پیرول پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے لہذاابر رحمت کو بھی پیرول پرر ہا کیا جائے تاکہ وہ بھی اس کے اہل خانہ سے ملاقات کرسکے۔حالانکہ یونین آف انڈیا کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے عرض گذار کو پیرول پرر ہا کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی اور عدالت میں حلف نامہ بھی داخل کیا لیکن دو رکنی بینچ نے ایڈوکیٹ ارشاد حنیف کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ابر رحمت کو ۲۱؍ دنوں کے لیئے پیرول پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ سپریم کورٹ سے عمر قید کی سزا پانے والے ڈاکٹر جلیس انصاری، ڈاکٹر حبیب احمد خان جمال علوی، محمد اشفاق خان، فضل الرحمن صوفی، محمد شمش الدین، محمد عظیم الدین، محمد امین ، محمد اعجاز اکبر، ابر رحمت انصاری نے صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کو متعدد خطوط ارسال کرکے ان سے انسانی بنیادوں پر درخواست کی تھی کہ وہ ان کی پیرول پر رہائی کے لیئے کوشش کریں جس کے بعد مولانا ارشدمدنی کی ہدایت پر پہلے جئے پور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا اور پھر اب عدالت عظمی میں عرضداشت داخل کی گئی۔

واضح رہے کہ انڈین جیل قانون 1894 کے مطابق ان قیدیوں کو سال میں 30 سے لیکر 90 دنوں تک پیرول پر رہا کیا جاسکتا ہے جو جیل میں سزائیں کاٹ رہے ہیں اور وہ بیماری سے جوجھ رہے ہوں یا ان کی فیملی میں کوئی شدیدبیمار ہو ، شادی بیاہ میں شرکت کی خاطر، زچکی کے موقع پر، حادثہ میں اگر کسی فیملی ممبر کی موت ہوجائے تو جیل میں مقید شخص کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے لیکن حالیہ دنوں میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ٹاڈا ، پوٹا، مکوکا اور دیگر خصوصی قوانین کے ذمرے میں آنے والے ملزمین کو پیرول پر رہا نہیں کیئے جانے کے تعلق سے جی آر جاری کیا تھا جس کے بعد سے جیل حکام نے ملزمین کو پیرول پر رہا کیئے جانے کی عرضداشتوں کو مسترد کردیا تھا لیکن جمعیۃ علماء نے حکومت کے جی آر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جس کے بعد سے ملزمین کو راحتیں ملنا شروع ہوئیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *