ثالثی سے حل ہوگا اجودھیا تنازع ، سپریم کورٹ نے طے کئے یہ تین نام، پینل تشکیل

Share Article

 

’’سپریم کورٹ نے بابری مسجد -رام جنم بھومی زمینی تنازع معاملہ ثالثی کیلئے سونپا* سپریم کورٹ نے جسٹس ابراہیم خلیف اللہ، شری شری روی شنکر اور سینئر وکیل رام پنچو کو ثالث بنایا* 4 ہفتے میں ثالثی کمیٹی کو اپنا رپورٹ سونپناہوگا * سپریم کورٹ نے ثالثی کے عمل کی رپورٹنگ پر پابندی عائد‘‘

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے بابری مسجد -رام جنم بھومی تنازعہ معاملہ ثالثی کے لئے سپرد کر دیا۔ ریٹائرڈ جج ایف ایم خلیف اللہ کو سپریم کورٹ نے ثالثی کرنے والے پینل کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ ساتھ ہی ثالثی کے لئے دو اور رکن شری شری روی شنکر اور سینئر وکیل رام پنچو ہوں گے۔ ایک ہفتے کے اندر یہ کارروائی شروع ہو جائے گی۔ عدالت نے کہا ہے کہ چار ہفتے کے اندر ثالثی پینل کو بتائیں گے کہ بات کہاں تک پہنچی۔

 

اس سے قبل بدھ کے روز سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے سبھی فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد ثالثی کے لئے نام بتانے کو کہا تھا۔ سماعت کے دوران جسٹس بوبڈے نے کہا تھا کہ اس معاملہ میں ثالثی کے لئے ایک پینل کی تشکیل کی جانی چاہئے۔

ہندو مہا سبھا ثالثی کے خلاف ہے، جبکہ نرموہی اکھاڑا اور مسلم فریق ثالثی کے لئے راضی ہیں۔ مسلم فریق نے عدالت میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ ہی طے کرے کہ بات چیت کیسے ہو؟

 

سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ہوئی سماعت میں کہا تھا کہ اس کا ماننا ہے کہ اگر ثالثی کا عمل شروع ہوتا ہے تو ہونے والی پیش رفت پر میڈیا رپورٹنگ پر پوری طرح سے پابندی ہونی چاہئے۔ عدالت نے کہا تھا کہ یہ کوئی گیگ آرڈر( نہ بولے دینے کا حکم) نہیں ہے بلکہ مشورہ ہے کہ رپورٹنگ نہیں ہونی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *