کرناٹک میں نااہل قرار دیے گئے ممبران اسمبلی کے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ضمنی انتخابات کی تاریخ آگے بڑھانے کے نوٹیفکیشن کے خلاف کانگریس کے ہائی کورٹ جانے پر ناخوشی ظاہر کی ہے۔ اس معاملے پر سماعت کل یعنی 23 اکتوبر تک کے لئے ملتوی ہو گئی ہے۔
گزشتہ 26 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ اس نے ریاست کی 15 نشستوں کے لئے 21 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کو ٹال دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ نااہل ممبران اسمبلی کی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انتخابات ہوں گے۔ ممبران اسمبلی کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے بدنیتی سے اسمبلی کے پورے دور اقتدار کے لئے انہیں نااہل قرار دے دیا جس کی وجہ سے وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے ہیں۔
گزشتہ 25 ستمبر کو کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لئے ایک ہدایات جاری کی جائے۔ تشار مہتہ نے کہا تھا کہ ہم کسی کا حق نہیں لے رہے ہیں، بلکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نااہلی کے معاملے کے حل کے لئے ہدایات جاری کی جائیں۔
سماعت کے دوران نااہل قرار دیے گئے ممبران اسمبلی کی جانب سے سینئر وکیل مکل روہتگی نے کہا تھا کہ ممبر اسمبلی عوام کے درمیان جانے سے ہچکچا نہیں رہے ہیں۔ لوگوں کوان ممبران اسمبلی کے رویے کے بارے میں فیصلہ لینے دیجئے۔نااہل قرار دیے گئے ممبران اسمبلی نے الیکشن کمیشن کے ضمنی انتخاب کرانے کے بارے میں نوٹیفیکیشنپر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ گزشتہ 23 ستمبر کو عدالت نے ان ممبران اسمبلی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے اسمبلی اسپیکر، جے ڈی ایس اور کانگریس دونوں پارٹیوں کے صدور کو نوٹس جاری کیا تھا۔ اسپیکر نے اراکین اسمبلی کے استعفے مسترد کرتے ہوئے انہیں اسمبلی کے پورے دور اقتدار کے لئے نااہل قرار دیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here