سلگتا لندن اور پولس کا کردار

Share Article

میگھناد دیسائی
برطانیہ کی راجدھانی لندن کے کئی شہروں میں گزشتہ دنوں ہوئے فسادات بے حد افسوسناک نظارے بیان کر رہے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ میں نے دو ہفتے قبل ہی لندن چھوڑ دیا تھا۔ شدید گرمی سے بچنے کے لئے ہم سبھی لندن میں شاندار موسم کا لطف لے رہے تھے۔ لندن میں تشدد اس وقت بھڑکا، جب وہاں اولمپک کھیل شروع ہونے میں محض ایک سال کا وقت رہ گیا ہے۔ حالانکہ لندن پولس پر الزام ہے کہ اس کی گولی باری میں مارک دگن نامی ایک برطانوی شخص کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ کے بعد ٹوٹینہیم میں بھڑکا تشدد دیکھتے ہی دیکھتے برطانیہ کے کئی شہروں میں پھیل گیا۔ لندن کے کئی حصوں سے آگ زنی کے بعد دھویں کا غبار اٹھتا دیکھ کر امن پسند لوگوں کے دلوں میں خوف و ہراس کی لہر پھیل گئی۔نقاب پوش فسادیوں نے سڑکوں پر جس طرح توڑ پھوڑ کی اور گاڑیوں اور گھروں میں آگ لگا دی، اسے دیکھ کر ایسا لگا کہ انسان کو شیطان بنتے زیادہ دیر نہیں لگتی۔ویسے لندن کے اس تشدد کے لئے وہاں کی پولس کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس واقعہ کی تفتیش کے لئے ایک آزادکمیشن بھی بنایا گیا ہے، تاکہ برطانوی شہری مارک دگن کی موت اور اس میں لندن پولس کے کردار پریکطرفہتفتیش ہو سکے۔
کیسا عجیب منظر تھا کہ لندن میں گرمی کی چھٹیوں کی وجہ سے اسکول بند تھے۔ وہاں پڑھنے والے نوجوان جو اب تک مستی میں چور تھے، وہ سبھی لوگ دیکھتے دیکھتے ہی اس غیر سیاسی گروپ کا حصہ بن گئے، جس نے لندن کے کئی شہروں میں نہ صرف تشدد کیا، بلکہ وہاں جم کر لوٹ مار کی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تمام نوجوان ماڈرن  3جی موبائل فون سے لیس تھے۔ اتنا ہی نہیں، فیس بک اور یو ٹیوب کے ذریعہ بھی وہ تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ ایسی سہولیات کا استعمال وہ اپنے ساتھیوں کی مدد اور پولس کو چکما دینے میں کر رہے تھے۔وہاں کی پولس یہ محسوس کرتی ہے کہ اس نے ڈیسک پر بہت زیادہ کام کیا ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں ایسے گروہ دوبارہ منظم ہو کر سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔ اب تک اس کا دھیان کائونٹر دہشت گرد ی پر رہا۔ اس نے اسلامی دہشت گردی اور سائبر دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اپنا دھیان مرکوز کیا، لیکن اپنے ملک میں اپنے لوگوں سے نمٹنیمیں اس نے پرانے طرز کار کو اپنا یا۔
ایک شہر سی فساد کی شروعات ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے دیگر شہروں میں پھیل گیا۔ یہ وہ شہر ہیں، جہاں سیاہ فام غریب اور گورے لوگوں کی آبادی میں ایک بڑا تناسب ہے۔ یہاں عموماً خاندانی ڈھانچوں اور ان کے استحکام میں کمی دیکھی جاتی ہے۔ دراصل برطانوی ریاستی فلاح کے ضوابط میں بھی کافی تضادات موجود ہیں۔ یہاں نہ تو شادی اور نہ مضبوط گھروں پر زور دیا جاتا ہے۔ بہتر عوامی سہولیات اور سماج میں مناسب شراکت کی کمی اور دیگر سہولیات سے محروم ہونا برطانیہ کے اس طبقہ کے اندر اشتعال پیدا کرتاہے، کیونکہ دیگر طبقوں کے مقابلہ سیاہ فام بے روزگاری کازیادہ سامنا کر رہے ہیں۔
سیاہ فام طبقہ کے نوجوان جو اس پر تشدد بھیڑ کا حصہ ہیں، ان کے والدین کا کہنا ہے کہ تعلیم اور روزگار کی کمی نے ان کے اندر ایک بے اطمینانی کو جنم دیا ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ گزشتہ کچھ سالوں میں وہاں کی ترقی پذیر حکومتوں، خاص کر لیبر پارٹی نے مستحقین کے ضوابط کو اور مزید لبرل بنا دیا ہے۔لہٰذا ہم لوگوں کو اپنی باتیں رکھنے کی بڑی آزادی ملی ہے۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت فلاحی ریاست میں مزید اصلاح کی ضرورت تسلیم کرتی ہے۔ موجودہ حکومت ایسا کر رہی ہے، لیکن اس میں تھوڑا وقت لگے گا، کیونکہ اب تک حوصلہ افزائی کے نام پر کچھ خاص نہیں کیا گیا۔ نوکری دینا اور ان کی حفاظت کرنا ایک بڑی بات ہے۔
تعلیم کے لئے ایک قانون نافذ کیا گیا ہے، اساتذہ کے حقوق کو ممنوع کیا گیا ہے۔ لبرل ضوابط کی آڑ میں اساتذہ کو دھتکارنا ، طلباء کے ساتھ برا برتائو پوری طرح حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے۔ فساد متاثرہ علاقوں میں اسکول اور پبلک اسکول بند رہے۔ جب ان اسکولوں کا دورہ کیا گیا تو سرپرست اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ ان سب کے باوجود آج ملک میں درپیش سنگین مسائل پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ کی معیشت کی موجودہ حالت صحیح نہیں ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں بجٹ گھاٹے کے مسئلہ پر بحث ہوئی، ایک امریکی طرز ڈائون گریڈ کی طرز پر ۔ لیکن ایک عوامی فلاحی حکومت کو عام آدمی کے مسائل کے حل پر بھی زور دینا چاہئے۔ سب سے پہلے لندن کے وقار کی بحالی پر ترجیحات طے ہوں، کیونکہ سبھی کو معلوم ہے کہ لندن میں اولمپک شروع ہونے میں محض کچھ مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *