رزلٹ خراب ہونے پر طالب علم نے کیا سوسائڈ، خبر پڑھ کر IAS افسر نے شیئرکیا بورڈ امتحان کے مارکس

Share Article

 

چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ میں 18 سال کے ایک طالب علم نے بورڈ امتحان میں دوسری بار فیل ہو جانے کی وجہ سے خود کشی کر لی. ایسے میں ایک آئی ایس افسر نے اپنے بورڈ امتحان کے نمبر فیس بک پر شیئر کئے دیگر طالب علموں کو نصیحت دیتے ہوئے سمجھایا کہ امتحان میں کم نمبر آنے یا فیل ہو جانے سے زندگی ختم نہیں ہو جاتی ہے. آپ کے اندر پوشیدہ قابلیت آپ کے آگے بہترین موقع دے گی۔

 

چھتیس گڑھ واقع كبيردھام کے ضلع مجسٹریٹ اونیش کمار پناہ سال 2009 بیچ کے اےےس افسر ہیں. امتحان میں فیل ہو جانے کے بعد خود کشی کرنے والے طالب علم کی خبر پڑھ کر انہیں کافی دکھ پہنچا. اس کے بعد انہوں نے اسٹوڈنٹس میں امید جگانے کے لئے سوشل میڈیا کو ذریعہ بنایا.

 

انہوں نے فیس بک پر طالب علموں سے کہا کہ وہ خراب رزلٹ سے مایوس نہ ہوں اور نہ ہی ہار مانیں. انہوں نے نونہالوں کے نام جو پیغام لکھا، وہ ملک بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے. اسٹوڈنٹس اور ان سے امید لگائے والدین کو اس آئی اےایس افسر کی خط ضرور پڑھنی چاہئے.

 

IAS اونیش کمار پناہ نے لکھا ہے- آج میں نے اخبار میں ایک چونکانے والی خبر پڑھی کہ ایک طالب علم نے امتحان میں فیل ہو جانے کی وجہ سے خود کشی کر لی. میں نے تمام طالب علموں اور ان کے والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ نتائج کو سنجیدگی سے نہ لیں. یہ ایک نمبر گیم ہے. آپ کو اپنے سطح کو ثابت کرنے کے بہت سے اور موقع ملیں گے.

 

یہی نہیں، سٹوڈنٹس کو موٹویٹ کرنے کے مقصد سے IAS افسر نے اپنی کلاس 10 ویں اور کلاس 12 ویں کی بورڈ امتحانات، کالج کے نمبر بھی بتائے. اس میں انہوں نے کلاس 10 ویں میں 44.5 فیصد، 12 ویں کے امتحانات میں 65 فیصد اور گریجویشن میں 60.7 فیصد مارکس حاصل کئے تھے.

 

افسر نے اپنے پیغام میں یہ بھی بتایا ہے کہ انہوں نے 10 ویں کے امتحانات 1996 میں، 12 ویں کے امتحانات 1998 اور بیچلر کی ڈگری سال 2002 میں مکمل کی تھی. اگرچہ اونیش کمار پناہ کے نمبر کم آئے ہوں، لیکن انہوں نے یو پی ایس سی کا امتحان پاس کر دکھا دیا کہ قابلیت نمبر دیکھ کر نہیں ماپا جا سکتی.

 

غور طلب ہے کہ چھتیس گڑھ بورڈ کے 10 ویں -12 ویں کے امتحانات کے نتائج 10 مئی کو جاری کیے گئے تھے اور انہوں نے یہ پوسٹ فیس بک پر 11 مئی کو اسٹاک کیا تھا. ان کا یہ پوسٹ ان اسٹوڈنٹس کے لئے ہے جو امتحان میں اچھی کارکردگی نہیں کر پائے.

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *