سدرشن کے بیان سے سونیا کا قد مزید بڑھ گیا

Share Article

راجیو رنجن تیواری
غیر ملکی ہونے اور  شوہر-ساس کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات سے گھرا سونیا کا مبینہ سیاسی سفر ہر زاویے سے کامیاب رہاہے، حالانکہ ان کے مخالفین نے مذکورہ الزامات کے سہارے ان کے سیاسی قدم کو روکنے کی پوری کوشش کی، لیکن ان الزامات کا سائڈ افیکٹ سونیا گاندھی کے لیے موافق رہا اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب جب ان پر نشانے سادھے گئے، تب تب ان کی سیاسی طاقت بڑھی ہے۔
سونیا انٹونیا مائنو یعنی سونیا گاندھی کا اس ملک سے رشتہ ایک رومانس سے شروع ہواتھا۔ آج یہ رشتہ پوری طرح سیاسی تھرلر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ 2004کے انتخابات میں کانگریس کا وجود داؤ پر لگا ہوا تھا۔ ملک نے کانگریس کو منتخب کیا اور کانگریس نے سونیا کو اور سونیا نے اس شخص کو منتخب کیا جو سیاست داں کم اور وفادار زیادہ تھا۔ سونیا گاندھی پر لکھی گئی اسپینش رائٹر جیویر مورو کی ایک کتاب دی ریڈ ساڑی میں لکھا ہے کہ 24مئی 1991کو راجیو کا جسد خاکی تین مورتی ہاؤس کے بڑے ہال میں رکھا تھا۔ سونیا نے راجیو کے جسدخاکی پرگلہائے عقیدت پیش کیا۔ اس دوران سونیا نے لوگوں کو جیکلین کنیڈی کی یاد دلا دی۔ راجیو کی موت سے ٹوٹ چکی سونیا واپس اٹلی جانے کو سوچنے لگیں۔ حالانکہ کتاب کے مصنف مورو کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی کتاب سونیا کی زندگی پر مبنی ضرور ہے، لیکن کہانی تخیلاتی ہے۔ مورو کا دعویٰ ہے کہ اب تک ان کی کتاب کی تقریباً ڈھائی لاکھ کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔ ظاہر ہے سونیا کی زندگی انٹرنیشنل بیسٹ سیلر کا درجہ پاچکی ہے۔ کتاب کے مطابق بچپن میں کانوینٹ اسکول میں پڑھنے والی سونیا نے پڑھائی اتنی ہی کی، جتنی ضرورت تھی۔ یعنی وہ اچھی اسٹوڈنٹ نہیں تھیں، لیکن خوش مزاج اور دوسروں کی مدد کرنے والی تھیں۔ خیر سونیا کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تصنیف کے لیے مورو کو کانگریس نے نوٹس تھما دیا ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں پرکاش جھا کی فلم ’راج نیتی‘ پر بھی کانگریس نے اعتراض کرتے ہوئے فلم کے کچھ مناظر ہٹوائے تھے۔ اس سے قبل ہند نژاد برطانوی فلم ساز جگموہن موندڑا کو بھی سونیا گاندھی کی زندگی پر فلم بنانے کا ارادہ ترک کرنا پڑا تھا، کیوں کہ کانگریس سینسر بورڈ نے اس کی اجازت نہیں دی۔ بھلے ہی اسے تخلیقی آزادی کی خلاف ورزی کا نام دیا جائے، لیکن کانگریس سونیا گاندھی کے نام پر کوئی رسک لینا نہیں چاہتی کیوں کہ سونیا نے ہی کانگریس کو نئی زندگی دی ہے۔ کانگریس نہیں چاہتی کہ سونیا کے حوالے سے کوئی تنازعہ پیدا ہو۔
سونیا کے شوہر راجیو گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈروں نے سونیا سے پوچھے بغیر انہیں کانگریس کا صدر بنا دیا، جسے انہوں نے یہ کہتے ہوئے قبول نہیں کیا کہ میں اپنے بچوں کو بھیک مانگتے دیکھ لوںگی، لیکن میں سیاست میں قدم نہیں رکھوںگی۔ سیتارام کیسری کے کانگریس صدر رہتے ہوئے پارٹی کی حمایت کم ہوتی جارہی تھی، جس  کے سبب کانگریس کے لیڈروں نے پھر سے نہرو-گاندھی خاندان کے کسی ممبر کی ضرورت محسوس کی۔ ان کے دباؤ میں سونیا گاندھی نے 1998میں کولکاتا کے پلینری سیشن میں کانگریس کی ابتدائی رکنیت لی اور اس کے 62دنوں کے اندر ہی کانگریس کی صدر منتخب ہوگئیں۔ سیاست میں قدم رکھتے ہی ان کے غیرملکی ہونے اور ان کی کمزور ہندی کا ایشو اٹھا۔ ان پر کنبہ پروری کو فروغ دینے کے بھی الزامات لگے، لیکن کانگریسی ان ایشوز کو درکنار کرتے ہوئے چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ سونیا گاندھی اکتوبر 1999 میں بلاری(کرناٹک) سے اور ساتھ ہی اپنے آنجہانی شوہر کے انتخابی حلقہ امیٹھی(اترپردیش) سے لوک سبھا کے لیے انتخاب لڑیں اور بھاری ووٹوں سے کامیاب ہوئیں۔ 1999میں ہی 13ویں لوک سبھا میں وہ اپوزیشن کی لیڈر بنیں۔ 2004کے انتخابات سے قبل عام رائے یہی تھی کہ اٹل بہاری واجپئی ہی وزیراعظم بنیںگے، لیکن سونیا نے پورے ملک میں گھوم کر خوب انتخابی تشہیر کی اور سب کو چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے۔ اس وقت یوپی اے کو غیرمتوقع طور پر200سے زیادہ سیٹیں ملیں۔ سونیا خود رائے بریلی (اترپردیش) سے ممبرپارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔ بایاں محاذ نے بی جے پی کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے کانگریس اور حامی پارٹیوں کی حکومت کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ 16مئی 2004کو سونیا گاندھی 16جماعتی اتحاد کی لیڈر منتخب کی گئیں۔ یعنی بایاں محاذ کی حمایت سے بننے والی اس حکومت کی وزیراعظم سونیا گاندھی ہی بنتیں، سب کو یہ امید تھی کہ سونیا گاندھی ہی وزیراعظم بنیںگی اس کے لیے سب نے ان کی حمایت کی۔ اس دوران پھر سے این ڈی اے کے لیڈروں نے سونیا گاندھی کے غیرملکی ہونے کا ایشو اٹھایا۔ سشما سوراج اور اوما بھارتی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر سونیا گاندھی وزیراعظم بنیں تو وہ اپنا سر منڈوا لیںگی اور زمین پر ہی سوئیںگی۔ تب 18مئی کو انہوں نے منموہن سنگھ کو اپنا امیدوار بنایا اور پارٹی کو ان کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے خود کے وزیراعظم نہ بننے کا اعلان کیا۔ سونیا گاندھی کے اس فیصلے کی کانگریسیوں نے مخالفت کی اور ان سے فیصلہ بدلنے کی اپیل بھی کی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بننا ان کا نشانہ نہیں ہے۔ خیر سب نے منموہن سنگھ کی حمایت کی۔ یہ اس لیڈر کی کامیابی تھی، جسے 1999 میں سیاست کا نوآموز کہا جاتا تھا۔ صدر جمہوریہ کے انتخاب، منافع بخش عہدہ کی مشکلات اور نیوکلیئر ڈیل پر تکرار جیسے جوکھم سے گزر کر سونیا گاندھی اقتدار میں حصہ داری کا فن اچھی طرح جان گئی تھیں۔ ایک طاقتور لیڈر اور ایک فرماں بردار وزیراعظم کے اتحاد نے اقتدار میں حصہ داری کی نئی روایت کو جنم دیا۔ سونیا گاندھی پارٹی کے لیے ذمہ دار تھیں تو منموہن سنگھ حکومت کے لیے۔
خیر، قومی صلاح کار کمیٹی کا صدر ہونے کی وجہ سے سونیا گاندھی کے منافع بخش عہدہ پر ہونے کے ساتھ لوک سبھا کا ممبر ہونے کا الزام لگا۔ نتیجتاً 23مارچ 2006کو انہوں نے قومی صلاح کار کمیٹی کے عہدۂ صدارت اور لوک سبھا کی رکنیت دونوں سے استعفیٰ دے دیا۔ مئی 2006میں وہ رائے بریلی(اترپردیش) سے دوبارہ ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔ 2009کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے پھر یو پی اے کے لیے ملک کے عوام سے ووٹ مانگا۔ ایک بار پھر یو پی اے نے جیت حاصل کی اور سونیا گاندھی یوپی اے کی صدر منتخب ہوئیں۔ اس سے الگ جب سبھی نے یہ مان لیا تھا کہ اب کانگریس کا دوبارہ اقتدار میں آنا مشکل ہے، تب سونیا نے نامساعد حالات میں کانگریس میں نہ صرف روح پھونکی بلکہ آج بلندی سے پارٹی کو چلا رہی ہیں۔ سونیا گاندھی کے ہندوستان کی گرینڈ اولڈ پارٹی میں شروعاتی قدم بے حد مشکل بھرے رہے۔ ملک کے معزز سیاسی خاندان کے بطور انہیں اقتدار کے خاص حقوق سے ضرور نوازا گیا، لیکن ذاتی  طور پر وہ ہمیشہ کسی نہ کسی خاندانی ٹریجڈی سے دو چار ہوتی رہیں۔ ان کے پاس کچھ نہیں تھا، نہ زبان اور نہ بنیاد ،جو تھا تو بس نام کے ساتھ ’گاندھی‘ اور گھر کے دروازے پر بڑھتی مایوسی کی لہر۔ 11سال بعد اب یہ طوفان تھم گیا ہے۔ 2009کے لوک سبھا انتخابات کی شروعات ہوتے ہی سونیا نے سیدھے دشمن کے کیمپ پر حملہ بولا۔ یہ حملہ تھا بی جے پی کے پرائم منسٹر ان ویٹنگ پر۔ حملہ بھی وہاں جہاں دشمن کو سب سے زیادہ چوٹ پہنچتی ہے۔قندھار معاملہ پر انہوں نے اڈوانی کو گھیرا۔ ویسے ان کا فوکس اس ملک کا عام آدمی رہا۔ یو پی اے حکومت کے پانچ سال کا رپورٹ کارڈ اور اس سے پہلے این ڈی اے کی حکومت۔ وہ اس دور میں حملہ آور رہیں۔ سونیا نے اس بار اپنے ماضی کی یاد دلانے اور خاندان کی وراثت سامنے رکھنے کا فیصلہ لیا۔ 2004میں بی جے پی نے سونیا گاندھی کی طاقت کو نظرانداز کیا تھا۔ تب بی جے پی کے سامنے ہی سونیا ایک خاص انداز میں اپنے لیے لکھی گئی تقریر پڑھ کر اس ہندوستان تک پہنچ رہی تھیں جو اتنا چمک دار نہیں تھا، جتنا دعویٰ کیا جارہا تھا۔ سونیا کی مسلسل ایک ہی کوشش تھی کہ کانگریس کو حکومت بنانے کے لیے حمایتی مل جائیں۔ پرانے دشمن اب دوست بن چکے تھے۔ کچھ ذات اور فرقہ میں سونیا نے بھی اپنا رسوخ بنا لیا تھا۔ اچانک سونیا کروناندھی، وائیکو، لالواور پاسوان جیسے لیڈروں کی بھی پسند بن گئی تھیں۔ اس وقت سونیا کے پاس جو تھا، وہ صرف ان کی ایمانداری تھی۔
تازہ معاملے میں گزشتہ دنوں آر ایس ایس کے سابق سربراہ کے ایس سدرشن نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل کی سازش رچنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے سونیا کو سی آئی اے(امریکی خفیہ ایجنسی) کی ایجنٹ اور ناجائز اولاد بھی کہہ دیا۔ سدرشن کی طرف سے لگائے گئے مذکورہ الزام غیرمتوقع نہیںتھے۔ سدرشن کے جواب میں اترپردیش کے مظفر نگر ضلع میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر دیپک کمار کہتے ہیں کہ سونیا گاندھی غیرمتنازع لیڈر ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کا عہدہ ٹھکرا کر ثابت کردیا کہ وہ اقتدار کے پیچھے نہیں بھاگتی ہیں۔ سونیاگاندھی اس نہرو-گاندھی خاندان کی نمائندگی کرتی ہیں، جس نے ملک کی آزادی کی لڑائی اور پھر ملک کی ترقی کے لیے اہم قربانیاں دی ہیں۔ دیپک کمار نے سدرشن سے جاننا چاہا ہے کہ ان کا اور ان کی تنظیم کا ملک کی آزادی میں کیا تعاون ہے؟ بہرحال سونیاگاندھی پر تو اس طرح کے الزام اسی وقت سے لگتے رہے ہیں، جب سے ہندوستانی سیاست میں ان کی طاقت کی توسیع ہوئی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ جب جب سونیا گاندھی پر داغ لگائے گئے تب تب ان کی سیاسی حیثیت بڑھی گویاسدرشن کے الزامات کے داغ کا سائڈ افیکٹ سونیا کے لیے نہایت موافق رہا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *