سوڈان: ایرانی جوہری مواد کودفن کرنے میں عمر البشیر کی اہلیہ کے ملوث ہونے کا انکشاف

سوڈان میں با خبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے اپنا استعمال شدہ جوہری مواد (جوہری ری ایکٹر میں استعمال شدہ ایندھن) سوڈان میں دور دراز دیہی علاقوں میں دفن کیا جو ام درمان شہر کے نزدیک واقع ہیں۔سوڈان میں امبدہ ڈسٹرکٹ میں مغربی دیہی علاقے کی مزاحمتی کمیٹی کے سربراہ علی حامد الشبلی نے انکشاف کیا ہے کہ معزول صدر عمر حسن البشیر کی اہلیہ وداد بابکر نے ڈسٹرکٹ کی 50% زرعی اراضی کو غیر قانونی طریقے سے اپنی ملکیت میں لیا۔

سوڈان کے مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے بیان میں الشبلی نے کہا کہ “خاتون اول نے ہمارے سارے حقوق اور اراضی غصب کر لی۔ ہم نے متعدد بار رپورٹ درج کرائی مگر حکومتی اہل کاروں کے ذریعے ان کو مسترد کر دیا گیا۔الشبلی نے مزید بتایا کہ ام درمان سے 30 کلو میٹر کی دوری پر مغربی دیہی علاقوں کے بیچ استعمال شدہ جوہری مواد مدفون ہے۔ اس مواد کو دفن کرنے کا عمل خفیہ طریقے سے کیا گیا۔الشبلی نے تصدیق کی کہ یہ جوہری مواد ایران سے آ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اس معاملے کو نظر انداز کرنے کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ اس لیے کہ مذکورہ جوہری مواد لوگوں میں سرطان، شکم مادر میں جنین کے ضیاع اور خواتین میں اسقاط حمل کے علاوہ جانوروں اور پودوں کی زندگیوں کے خاتمے کا باعث بن رہا ہے۔

الشبلی کے مطابق عمر البشیر کی اہلیہ کے ایک شراکت دار نے مذکورہ رقبے میں عالمی طور پر ممنوعہ یوریا کھاد کا استعمال کیا اور اسے مٹی میں ملا دیا۔ الشبلی کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں واقع کھیتوں کی کاشت خرطوم ریاست کی تمام منڈیوں میں جاتی ہے۔الشبلی نے خود مختار کونسل اور کابینہ کے سربراہ سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے فوری مداخلت کریں۔دوسری جانب سوڈانی عہدے دار کے بیان نے ملک میں عمر البشیر کی حکومت کے خلاف عوامی غصے کی وسیع لہر بھڑکا دی ہے کیوں کہ استعمال شدہ جوہری معاد انسان، جانور اور پودوں کے لیے انتہائی خطر ناک ہے۔بعض حلقوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ خطرہ آئندہ کئی نسلوں تک پھیل سکتا ہے ،،، ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ عمر البشیر کے خلاف عظیم غداری کا مقدمہ چلایا جائے اور سوڈانی اراضی میں استعمال شدہ جوہری مواد کی تدفین کا عمل روکا جائے۔

یاد رہے کہ سوڈان میں ناجائز اور مشتبہ دولت سے متعلق استغاثہ نے دسمبر میں معزول سوڈانی صدر عمر البشیر کی اہلیہ وداد بابکر کو حراست میں لینے کا حکم دیا تھا تا کہ بدعنوانی سے متعلق الزامات کی تحقیقات کی جا سکے۔واضح رہے کہ جیل میں قید معزول صدر عمر البشیر کی دوسری اہلیہ وداد کے حوالے سے سوڈانی عوام کے درمیان کئی برسوں سے شکوک اور الزامات گردش میں ہیں۔وہ 11 اپریل 2019 کو عمر البشیر کی حکومت کے سقوط کے بعد سے نظروں سے روپوش تھیں۔ بعد ازاں ستمبر میں “وداد باب?ر” کا نام ایک بار پھر منظر عام پر آیا جب مقامی میڈیا نے بتایا کہ وہ شدید فوجی پہرے کے ساتھ اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔

سوڈان میں استغاثہ کی جانب سے حراست میں نہ لیے جانے کے باوجود وداد بابکر کے بارے میں سوڈانی رائے عامہ یہ رہی کہ انہوں نے غربت کے انسداد سے متعلق اپنی تنظیم (سند الخیریۃ) کے بینک اکاؤنٹ میں 4 کروڑ ڈالر کے قریب رقم منتقل کی۔ یہ رقم انہوں نے سوڈان میں ایڈز کا شکار بچوں کی سپورٹ کے لیے افریقی خواتین رہ نماؤں سے حاصل کی تھی۔ یہ رقم اْس مال سے زیادہ ہے جس کو قبضے میں رکھنے کے الزام میں وداد کے شوہر عمر البشیر کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے۔ عمر البشیر پر غیر قانونی طور پر 69 لاکھ یورو، 3.51770 لاکھ ڈالر اور 57 لاکھ سوڈانی پاؤنڈز کے علاوہ قیمتی اراضی اور جائیداد رکھنے کا بھی الزام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *