سوڈان میں عمر بشیر کی مشکلیں

Share Article

p-8bتئیس ستمبر 20 13 کو سوڈان شہری سڑکوں پر مظاہرہ کرتے ہوئے نکل آئے۔وہ عمر بشیر کے ایک فیصلہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔سوڈانی حکومت نے ماہ ستمبر میں تیل پر دی جانے والی سبسڈی واپس لے لی ۔سبسڈی واپس لینے کی وجہ سے پہلے سے ہی مہنگائی میں دبی قوم پر مزید60 فیصد مہنگائی کا بوجھ بڑھ گیا ہے جس کے لئے وہ تیار نہیں ہیں اور حکومت سے اپنا فیصلہ واپس لینے اور صدر اور ان کی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس مظاہرے میں بھی وہی سب کچھ ہورہا ہے جو عرب ملکوں کے دیگر مظاہروں میں ہوتا آیا ہے۔ گرفتاریاں،ہلاکت اور کارو بار ٹھپ۔سوڈان کے اس مظاہرے میں 700 سے زیادہ لوگ گرفتار کیے جاچکے ہیں،50 سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور کارو بار تھپ ہیں۔
یہاں پر دو باتیں غور طلب ہیں۔پہلی بات تو یہ کہ کیا ایک ایسے وقت میں جب سوڈانی عوام پر مہنگائی کا بوجھ پہلے سے ہی بہت زیادہ ہے ، تیل پر سے سبسڈی ہٹانا صحیح ہے؟ دوسری بات یہ کہ کیا عوام کے لئے مظاہرہ کا یہ موقع صحیح ہے اور کیا مظاہرے سے مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے؟
جہاں تک مہنگائی میں پھنسے عوام پر سبسڈی ہٹا کر تیل کو مزید مہنگا کرنے کی بات ہے تو اس سلسلے میں سوڈانی صدر عمر البشیر کہتے ہیں کہ جنوبی سوڈان کی علیحدگی اور تیل سے ہونے والی آمدنی کے نقصانات کی وجہ سے معیشت پر بہت منفی اثر پڑا ہے، ان تازہ ترین معاشی اقدامات کا مقصد مہنگائی اور کرنسی شرح تبادلہ میں اضافے کے بعد ملک کی معیشت کو گرنے سے بچانا تھا‘‘۔کسی بھی ملک میں جب قومی خزانے پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے تو سبسڈی ہٹائے جانے کی بات سامنے آتی ہے۔ گاہے بگاہے ہندوستان میں بھی اس طرح کے مسئلے اٹھتے رہتے ہیں اور تیل اور گیس کی قیمت میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہیں۔پڑوسی ملک پاکستان میں بھی انہی دنوں بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔مگر ان ملکوں میں سبسڈی ہٹانے پر کبھی بھی ایسا رد عمل سامنے نہیں آیا جیسا سوڈان میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔جس سے کہیں نہ کہیں اس مظاہرے کو کسی خاص منصوبے کے تحت انجام دیے جانے کا اشارہ ملتا ہے ۔ممکن ہے یہ اندازہ غلط ہو اور یہ مظاہرے عوامی جذبوں کے تحت وجود میں آئے ہوں مگر پھر بھی ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا وہاںکے غریب عوام اپنے اس مظاہرے کو زیادہ دنوں تک باقی رکھ سکیں گے؟ ۔
اس سلسلے میں ہمارے سامنے دونوں مثالیں موجود ہیں ۔ ملک شام میں ڈھائی سال تک وہاں کے عوام نے اپنے حکمراں کے خلاف شدید ترین مظاہرے جاری رکھے،یمن کا مظاہرہ کئی برسوں تک جاری رہا جبکہ لیبیا اور مصر میں بھی مظاہرے ہوئے مگر یہ مظاہرے مختصر وقت کے لئے تھے۔جلد ہی یہ دونوں مظاہرے اپنے انجام تک پہنچ گئے۔اس تناظر میں ہمیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ سوڈان کا یہ مظاہرہ کب تک جاری رہ سکے گا۔ ہفتہ،مہینہ یا برسوں؟۔
مظاہرے کو انجام تک پہنچانے کے لئے جن وسائل اور اسباب کی ضرورت پڑتی ہے غالباً وہ وسائل سوڈانی عوام کے پاس موجود نہیں ہیں جبکہ وہ تمام وسائل یمن یا شام کے عوام کے پاس موجود تھے۔ ان دونوں ملکوںمیں عوام کی قوت خرید قدرے بہتر پوزیشن میں تھی یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے مظاہرے کو لمبے عرصے تک جاری رکھاجبکہ مصر اور لیبیا کی صورت حال اس کے برعکس تھی۔ حالانکہ لیبیا ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں تھا مگر وہاں کے عوام کو شروع سے یہ شکایت رہی کہ انہیں قومی وسائل سے استفادہ کرنے نہیں دیا جارہا ہے جس کی وجہ سے وہ بدترین معیشت سے دوچار ہیں۔مصر کے عوام کی بھی تقریباً یہی حالت تھی۔انہوں نے تو مہنگائی اور بے روزگاری کے ایشو پر ہی مظاہرے کا آغا ز کیا تھا۔ اب جب ہم سوڈان کا جائزہ لیتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں کا مظاہرہ بھی مصر اور لیبیا کی طرح زیادہ دنوں تک باقی نہیں رہ سکے گا۔اس مظاہرے کو کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچاہی ہوگا چاہے جس شکل میںپہنچے،عمر بشیر کا تختہ پلٹ کر یا مظاہرے کو کچل کر۔یہ سوچنا کہ عمر بشیر آسانی کے ساتھ عہدے سے ہٹ کر مظاہرین کو نئی حکومت بنانے کا مژدہ سنائیںگے ،غلط ہوگا۔وہ مظاہرین کو کچلنے کے لئے اپنی پوری طاقت کا استعمال کریںگے جس طرح سے مصر میں حسنی مبارک اور لیبیا میں کرنل قذافی نے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی۔جیسا کہ بشیر حکومت کے ایک سینئر وزیر اطلاعات احمد بلال عثمان نے صاف کردیا ہے کہ حکومت سبسڈی ختم کرنے کے فیصلے کو واپس نہیں لے گی۔ یہ فیصلہ سوڈانی معیشت اور 2011 میں جنوبی سوڈان کی علیحدگی کے بعد سے کمزور ہونے والی ملکی کرنسی کو سہارا دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
اب اگر سوڈان کا مظاہرہ جذبوں کی بنیاد پر ہوگا تو سوڈانی عوام بھوک اور پیاس کے ساتھ گائوں اور شہروں سے نکل کر سڑکوں پر آئیں گے اور عمر بشیر کو حسنی مبارک کی طرح اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیں گے۔مگر شاید یہ ممکن نہ ہو۔ کیوںکہ سوڈانی عوام کے پاس قومی جذبے ہوسکتے ہیں، مگر صرف جذبوں سے کامیابی ملتی تو نائجیر کی الشباب اور یمن میں حوثین کب کے کامیاب ہوچکے ہوتے ۔جذبوں کے ساتھ ساتھ وسائل کی فراہمی بھی لازمی ہوتی ہے۔اگر سوڈانی عوام کو وسائل کی فراہمی ہوجائے تو وہ عمر بشیر کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ورنہیہ ایک مشکل ترین کام ہوگا ۔
علاوہ ازیں اخوان المسلمون جو ماضی میں حکومت میں شامل رہی ہے، بھی یہاں فعال ہے۔اگر یہ سوچ صحیح ہے تو اس کامطلب یہ ہوگا کہ مصر اور تیونس میں اسلام پسندوں کی جڑیں کمزور ہونے کے بعد سوڈان میں اس نے پائوں پسارنا شروع کردیا ہے اور بہاریہ عرب نے یہاں بھی دستک دے دی ہے۔ویسے ایک بات یہ بھی ہیکہ جنوبی سوڈان علیحدہ ہونے کے بعد سے ہی عمر بشیر کو اپنے لئے سب سے بڑی رکاوٹ سمجھ رہا ہے۔خاص طور پر سرحدی علاقے میں تیل ایشو کو لے کر مسلسل تنازع چل رہا ہے اور یہ تنازع دونوں ملکوں کے بیچ کشمکش کا سبب بن چکا ہے۔یہ کشمکش اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک عمر بشیر کی حکومت قائم ہے لہٰذا جنوبی سوڈان عمر بشیر کا تختہ پلٹنے کے لئے مظاہرین کو لازمی وسائل فراہم کرسکتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سوڈان میں عمر بشیر اپنے خلاف ہورہے مظاہروں کا مقابلہ کر پاتے ہیں یا نہیں؟ اگر عمر بشیر کو اقتدار چھوڑنا پڑتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح مصر میں نوجوانوں کی بے چینی سے آئے انقلاب سے مصری اخوان نے فائدہ اٹھایا، اسی طرح حسن ترابی کی قیادت والی سوڈانی اخوان بھی وہاں قیادت کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔ گویا عرب بہاریہ کا سلسلہ اگر کہیں ختم ہورہا ہے تو یہ کہیں اب بھی اپنا جادو دکھائے جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *