سبرامنیم سوامی کی اشتعال انگیزی:حکومت کب لگام لگائے گی

Share Article

عابد انور
ہندوستان میں مسلمانوںکے خلاف کوئی بھی کچھ بول سکتا ہے، لکھ سکتا ہے، اس کی زمین و جائداد ہڑپ سکتا ہے، وقف املاک پر قبضہ کرسکتا ہے۔یہ اختیار یہاں غیر معلنہ طور پر کچھ طبقہ کو حاصل ہے۔ مسلمانوں کی دل آزاری کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ 1857 کے بعد سے یہ سلسلہ شروع ہوا جو اَب تک جاری ہے۔ کبھی رنگیلا رسول نامی کتاب لکھ کر مسلمانوں کو مشتعل اور تکلیف پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے توکبھی چاند مل چوپڑا قرآن کی آیات کو حذف کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو کبھی حضرت محمدؐ کا خاکہ شائع کرکے مسلمانوں کو صدمہ پہنچانے کی سعی کی جاتی ہے تو کبھی مسلمانوں کے شرعی معاملات میں مداخلت کرکے انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانے کی مہم چلائی جاتی ہے۔ غرض کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حیثیت چوراہے پر رکھے لاوارث سامان کی ہے جس کا دل چاہے وہ ٹھوکر ماردے۔ابھی حالیہ دنوں میں جنتا پارٹی کے صدر سبرامنیم سوامی نے جو ہرزہ سرائی کی ہے وہ نہ تو کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی غیر متوقع ہے۔جو مسلمان مختلف جگہ کاسفر کرتے ہیں یا کسی ایسے پروگرام میں جاتے ہیں جہاں اہل مجلس کو معلوم نہیں ہوتا کہ یہاں مسلمان ہیں، تو اس طرح کی باتیں سننے کو مل جاتی ہیں۔ ٹرینوں میں سفر کرتے ہوئے بارہا ایسے جملے یا اس طرح کے اشارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس سے ان کی ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ مسلمانوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں،کس طرح کے خیالات رکھتے ہیں اور اگر اس دوران مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے تعلق سے کسی اسکیم کا اعلان ہوا ہے (حالانکہ نفاذ کے مرحلے سے کم ہی گزرتا ہے) تو مسلمانوں کے ساتھ متعلقہ حکومت اور وزیر کی بھی مغلظات سے تواضع کی جاتی ہے۔ اس لیے سبرامنیم سوامی کے اس نظریے سے مسلمانوں کو مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ زبردست طریقے سے احتجاج درج کرانا چاہیے اور اس سلسلے میں اپنی موجودگی کا احساس بھی دلانا چاہیے جو ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے بارے میں نہ تو مولویوں اور مسٹروں میں کوئی ہلچل نظر آرہی ہے جو کہ ہماری غفلت کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ اگر یہی مطالبہ کسی اور اقلیتی فرقہ کے خلاف کیا جاتا تو اب تک ہندوستانی سیاست میں طوفان آچکا ہوتا اور پوری دنیا میں اس کے خلاف بیانات کا سلسلہ شروع ہوجاتا لیکن ہندوستان میں برہمن ذہنیت کا حامل میڈیا مسلمانوں کے مسائل اٹھانے اور اس کی تکالیف سمجھنے سے ایسے بھاگتا ہے جیسے متعدی بیماری سے۔
سبرامنیم سوامی نے گزشتہ 16 جولائی کو ایک انگریزی روزنامہ (DNA) کے لیے ایک مضمون لکھا تھا۔ انہوں نے اپنے مضمون میں اسلامی دہشت گردی کو ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو ووٹنگ کا حق نہ دیے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں ملک مخالف قرار دیا تھا۔ حال ہی میں ممبئی میں ہوئے سیریل بلاسٹ کے تین دن بعد ممبئی کے ایک انگریزی اخبار میں شائع مضمون میںسوامی نے تجویز پیش کی ہے کہ ہندوستان کی ہندو قوم کو اعلان کر دینا چاہیے اور یہاں غیر ہندوؤں سے ووٹ دینے کا حق چھین لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں یا ان جیسے غیر ہندو کمیونٹی کے لوگوں کو ووٹ دینے کا حق تبھی ملنا چاہیے جب وہ فخر سے یہ بات تسلیم کریں کہ ان کے آباء و اجداد ہندو تھے۔انہوں نے یہ باتیں اسلامی دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقے تجویز کرتے ہوئے کہی تھیں۔ سوامی نے اپنے مضمون میں مبینہ طور پر کہا ہے کہ سخت گیر مسلمان ہندو اکثریت والے ہندوستان پر فتح کو اپنا ایسا ایجنڈا سمجھتے ہیں ، جسے پورا کیا جانا ابھی باقی ہے۔میں مسلم کٹر پسندوں کو ہندوؤں کو نشانہ بنائے جانے کے لیے قصور وار نہیں مانتا بلکہ ہندوؤں کو قصوروار مانتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا شخص جو خود کو وَن مین آرمی کے طور پر پیش کرتا ہے ، بیحد فرقہ وارانہ باتیں کرتا ہے اور اسے اخبار میں شائع کیا جاتا ہے۔سوامی نے اپنے مضمون میں یہ بھی لکھا تھا ، ہمیں مجموعی نقطہ نظر کی ضرورت ہے کیونکہ ہندوؤں کو اسلامی دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔اگر کوئی مسلم اپنی ہندو وراثت کو قبول کرتا ہے تو ہم ہندو اسے وسیع ہندو سماج کے حصے کے طور پر قبول کر سکتے ہیں ۔دوسرے لوگ جو اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیںیا جو غیر ملکی رجسٹریشن کے ذریعے ہندوستانی شہری بنے ہیں ، وہ ہندوستان میں تو رہ سکتے ہیں لیکن انہیں رائے دہندگی کا حق نہیں دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اپنے مضمون میں ہندوئوں کو متحد ہونے پر زور دیتے ہوئے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’ہندو ئوں کو حلال کیا جانا قبول نہیں کر سکتے‘‘۔  یہ مضمون جتنا مشتعل کرنے والا ہے اتنا جھوٹ کا پلندہ بھی ہے۔ ہندوستانی تفتیشی ایجنسیوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ملک میں بم دھماکے کون کر رہا ہے۔ بم بناتے ، بارود کا ذخیرہ کرتے کون لوگ پکڑے جاتے ہیں۔کانپور، ناندیڑ یا اندور یا ملک کے دیگر مقامات میں ٹنوں بارودی ذخیرہ کے ساتھ کون پکڑا گیا ہے۔ اس ملک کو کون تباہ کرنا چاہتا ہے۔ کون اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے یہ مسلمان نہیں ہیں بلکہ اس کا تعلق دوسرے طبقے سے ہے۔ مسلمانوں نے تو ایک متحدہ ہندوستان دیا ہے جو متحد رہتا تو دنیا کا سب سے بڑا طاقتور ملک ہوتا، مسلمانوں نے اس ملک کو آزاد کرانے میں خون کی جتنی قربانی دی اتنی قربانی کسی نے نہیں دی ۔ مسلم بادشاہوں نے اس ملک کو اپنا وطن سمجھاور اسی لحاظ سے ہندوستان کی رعایا کے ساتھ سلوک کیا۔ یہ بات سبرامنیم سوامی کو اچھی طرح معلوم ہے۔ وہ ایک تمل ہندو برہمن خاندان سے ہیں۔ دہلی کے ہندو کالج سے گریجویٹ ہیں اور ہارورڈ یونیورسٹی سے انہوں نے پی ایچ ڈی کی ہے اور وہ اس وقت ہارورڈ یونیورسٹی میں گیسٹ لیکچرر ہیں اورطلباء کو اقتصادیات پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مضمون کو اسلامی دہشت گردی کا موضوع بنایا ہے ۔ اسلامی دہشت گردی کا ہندوستان میں کیا، دنیا میں کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ اکثریت اور طاقتور حکمرانوں کا مفروضہ ہے تاکہ وہ اپنے ظلم و جبر کو جائز ٹھہرا سکیں۔ ہندوستان میں بھی اس فلسفے کو رواج دینے کی کوشش کی گئی تاکہ مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جاسکے، اور اس میں کامیابی بھی ملی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی جیلوں میں 30 سے 40 فیصد مسلم قیدی ہیں، جب کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 13 فیصد ہے، لیکن جیلوں میں ایک تہائی سے زیادہ ہیں۔یہ اسی طرح کی سوچ کے حامل افراد کی کارستانی ہے۔ایسی فکر کے حامل افراد کی کمی نہیں ہے خواہ وہ عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ سے منسلک ہو یا دیگر سے، مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے۔
ہارورڈیونیورسٹی کے طلباء نے سبرامنیم سوامی کے مضمون پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ان کے خلاف ایک تحریک چھیڑ دی ہے۔ یونیورسٹی کے طلباء نے ڈاکٹر سوامی پر تعصب پسندی کا الزام عائد کیا ہے اور ہارورڈ یونیورسٹی سے ان کا رشتہ قطع کرنے کے لیے دستخطی مہم بھی شروع کردی ہے۔ڈاکٹر سوامی ہر سال موسم گرما میں اس یونیورسٹی میں معاشیات پڑھاتے ہیں۔ طلبہ نے کہا ہے کہ ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہارورڈ انتظامیہ سوامی کے تبصرے کی تردید کرے اور یونیورسٹی کے ساتھ ان کے تعلقات ختم کرے۔‘‘ ہارورڈ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر مہم کے بارے میں معلومات دی گئی ہے۔اس مطالبے کی 240 سے زیادہ طلباء اور اساتذہ نے دستخط کرکے اپنی حمایت دی ہے۔ہارورڈ سمر اسکول کے ڈین پروفیسر ڈونالڈ ایچ فسٹر نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر سوامی ہارورڈ سمر اسکول کے ساتھ طویل عرصے سے جڑے ہوئے ہیں۔اس سے پہلے وہ معاشیات کے شعبے کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے۔
سوامی مسلمانوں کے ازلی دشمن رہے ہیں،ہر موقع پرانہوں نے مسلمانوں کی مخالفت کی ہے، ان کی یہی مخالفت اس وقت بھی سامنے آئی تھی جب کیرالہ میں اسلامک بینکنگ کی شروعات کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ میں بینک کھولنے کے فیصلے کی خلاف مفاد عامہ کی دو درخواستیں داخل کی گئی تھیں۔ایک سبرامنیم سوامی اور دوسری ہندو تنظیم نے داخل کی تھی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومت کسی خاص مذہب کے معیار پر کام نہیں کر سکتی۔سماعت کے بعد کیرالہ ہائی کورٹ نے بینک کو کام کرنے کی اجازت دے دی تھی اور عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ آخر ریاستی حکومت کے اس فیصلے سے کس طرح ایک خاص مذہب کو بڑھاوا ملے گا ۔ سوامی کو اپنے مضمون پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور نہ ہی کسی طرح کا افسوس ۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں نہیں لگتا کہ کمیونسٹوں کو چھوڑکر ہندوستان میں کوئی میرے مضمون سے ناراض ہے۔سبرامنیم سوامی نے مسلمانوںپر جس طرح کی شدت پسندی ، سخت گیری اور اسلامی دہشت گردی کا الزام لگایا ہے اس کی تردید وکی لیکس کی ایک رپورٹ میں بھی کی گئی ہے۔ وکی لیکس کے مطابق ہندوستان میں بسنے والے پندرہ کروڑ مسلمانوں میں سے بیشتر کو شدت پسندی پر کشش نظر نہیں آتی ہے۔ہندوستان میں امریکہ کے سابق سفیر ڈیوڈ ملفرڈ نے اپنے ایک مراسلے میں لکھا تھا کہ ہندوستانی جمہوریت، ملک کی ثقافت اور فطری قومیت مسلم سماج کو اپنی طرف لبھاتی ہے۔ وکی لیکس کے یہ انکشافات کو برطانوی اخبار گارجین نے شائع کیا تھا جس کے مطابق ڈیوڈ ملفرڈ نے لکھا تھا کہ علیحدگی پسندی اور مذہبی شدت پسندی ہندوستانی مسلمانوں پر بہت کم اثر انداز ہوئی ہے اور زیادہ تر مسلمان جدید راستے کو اپناتے ہیں۔ جہاں ایک طرف ہندو، مسلمان اور سکھ برادریوں میں بھی کچھ شدت پسند عناصر ہیں وہیں سیاسی نظریات کے حامل سخت گیر بھی ہیں اور ساتھ رہتے ہیں۔
ہندوئوں کا ایک طبقہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو مشتعل کیا جائے تاکہ وہ تعمیری کاموں کو چھوڑ کر اشتعال انگیزی میں لگ جائیں۔ اس طرح کے مضامین، بیانات اور سرگوشیاں اسی طویل منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار سے متعلق کئی لیڈروں کا اس طرح کا بیان آچکا ہے لیکن اب تک کسی پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ضابطے کے مطابق ان لیڈروں کو الیکشن لڑنے کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔حیرانی اس بات کی ہے کہ پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوئے کئی دن گزرچکے ہیں لیکن اس معاملے کو اب تک ایوان میں اٹھایا نہیں گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں مسلم ارکان اور مسلم وزراء کی کمی نہیں ہے۔ اقلیتی امور کے ایک مسلم وزیر جو اتفاق سے وزیر قانون بھی ہیں، ان کا کوئی ٹھوس قدم سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ مسلم رہنمائوں کی مجموعی بے حسی ہے جو مسلمانوں کو قعرمذلت کی طرف دھکیل رہی ہے۔اس وقت تک مسلمانوںکو اس طرح کی تلخ، اشتعال انگیز اورصدمہ پہنچانے والے بیانات کا سامنا کرنا پڑے گا جب تک متحد ہوکر اس کا سامنا کرنے کے اہل نہیں ہوجاتے اور ان مسلم رہنمائوں کو بے نقاب نہیں کرتے، خواہ ان کا تعلق مولوی سے ہو یا مسٹر سے، جو رہزن کی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *