ابناء مدارس اسلامیہ کے زیر اہتمام بعنوان’ کیا جمہوریت زندہ ہے ؟‘ اسٹوڈنٹ کنونشن منعقد

Share Article
student-convention
ملک میں مخصوص طبقات کو جس طرح سے نشانہ بنایا جارہے اور ان بھیڑ کے ذریعہ تشدد کی جو بہیمانہ مثال کی قائم کی جارہی ہے اس کے خلاف گذشتہ رات دیوبند اسلامک اکیڈمی ،جامع المعارف ،کاروان امن وانصاف ،ابناء مدارس اسلامیہ کے زیر اہتمام بعنوان کیا جمہوریت زندہ ہے ؟پر ایک اسٹوڈینٹ کنونشن کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس موقع پر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طالب علم اور مشہور نوجوان لیڈر عمر خالد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فسطائی طاقتوں کو سمجھنا ہوگا کیونکہ وہ ہٹلر سے بہت زیادہ متأثر اسی لئے وہ سمجھتی ہیں کہ وہ ہٹلر کی طرح ہندوستان سے مسلمانوں کا وجود ختم کردیں گی لیکن ان کو سمجھنا ہوگا کہ ہندوستان کا مسلمان جرمنی کا یہودی نہیں ہے اورآج جب ملک جمہوریت کی 69؍ویں سالگرہ منارہا ایسے میں ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا واقعی جمہوری آئین نے اقلیتوں ،پچھڑوں اور کمزور طبقات کو جو حقوق دےئے تھے وہ واقعی ہمیں مل رہے ہیں یا نہیں ۔
انہوں نے ملک کے وزیر اعظم مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وکاس کے نام انہوں نے جو تصوراتی جنت دنیا کو دکھائی ہے اعداد وشمار اس جنت کو جہنم بناکر پیش کرتے ہیں۔کیونکہ اس ملک میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں میلا اٹھانے والے لوگ سیور میں دم گھٹنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں جبکہ دنیا کے کسی ملک میں بھی اب یہ سسٹم باقی نہیں کہ انسان کی غلاظت انسان ہی صاف کرتا ہو،انہوں نے کہا کہ ملک میں فسطائیت کے زور کو توڑنے کے لئے ہمیں ناامیدی سے نکل کر ایک عزم کے ساتھ عوامی تحریک کا آغاز کرنا ہوگا اور اپنے ووٹ کی طاقت کا صحیح استعمال کرنا ہوگا ۔ساتھ ہی انہوں نے اپنے خلاف میڈیا ٹرائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں لو جہاد یا اس طریقے کے جتنے بھی دوسرے شوشے اٹھائے جاتے ہیں وہ سب میڈیائی دہشت گردی کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک طرح پدماوتی ہے دوسری طرف جملہ وتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مدرسوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کا کردار خود ہی مشکوک ہے ۔
اس موقع پر یونیائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کے کنوینر ندیم خان نے کہا کہ ہم مسلمان بہترین امت سے موسوم کئے گئے ہیں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں انہیں سمجھنا ہوگا اور جذباتیت سے پرے ہوکر ملک کی ترقی اور اپنے سماج کو آگے بڑھانے کے لئے اجتماعی طور پر اٹھ کھڑا ہونا ہوگا انہوں نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور اس کی یکجہتی کی بقاء کے لئے ہمیں مظلوموں کی ایک جماعت بنانی ہوگی ،انہوں نے بھیم آرمی کے صدر چندر شیکھر آزاد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آج ان کی لڑائی میں ان کے ساتھ رہنا چاہئے کیونکہ جب تک مظلوم ظالم کے خلاف متحد نہیں ہوگا ملک میں امن وامان قائم نہیں ہوگا نا ہی ظلم وبربریت کا یہ طوفان بدتمیزی رکے گا ۔کسانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاؤں سے کسان شہر آجاتا ہے کیونکہ اسے اپنی زمینوں کی سینچائی کے لئے پانی نہیں ملتا اور وہی کسان شہر میں آکر سوئمنگ پول تعمیر کرتا ہے انہوں نے کہا کہ کسانوں کی خودکشیوں پر سوال اٹھایا جارہا ہے اور حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم تحقیق کریں گے کہ خود کشی کرنے والے کسان ہی ہیں یا نہیں آپ بتائیں کہ بٹائی پر کھیتی کرنے والے افراد کے پاس کاغذات کہاں موجود ہوتے ہیں ۔انہوں نے طلبہ مدارس اسلامیہ سے کہا کہ آپ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا آپ ان اکابرین کے فرزند ہیں جنہوں نے ملک کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا آپ کو بھی جمہوریت کی بقاء کے لئے انہیں کے نقش قدم پر چلنا ہوگااور مین اسٹریم میں آکر حقائق پر گفتگو کرنی ہوگی ۔ آپ سوال کرنا سیکھیں کیونکہ اس ملک کو تقسیم کرنی والی طاقتیں آپ سے سوال کا حق ہی چھیننا چاہتی ہیں۔ جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر موہت کمار پانڈے نے کہا کہ گجرات میں بی جے پی جیتی نہیں ہے بلکہ کانگریس ہار گئی ہے کیونکہ کانگریس میں خود ہی آر ایس ایس کے لوگ ہیں ،گجرات الیکشن مہم کا ذکر کرتے ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی نے اس مرتبہ منظم طریقے سے ای وی ایم کیپچرنگ کی ہے تاکہ ماحول بھی نا بگڑے اور حکومت بھی حاصل ہوجائے ۔اور یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ ہم مذہب اور مسلک کے پاٹوں میں پس رہے ہیں انہوں نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کو اختیار کیا ہے آرایس ایس کی سوچ وہی ہے جو انگریزوں کی تھی ۔
پروگرام کی صدارت کررہے معروف اسلامی اسکالر مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ جمہوریت علماء دیوبند کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ،اس کو حاصل کرنے کے لئے شاملی کی شکست کے بعد سے 1947تک علماء دیوبند نے ملک کے دیگر طبقات کو ساتھ لیکر پیہم قربانیاں دیں اور آج ہم انہیں کے نتیجہ میں 69واں یوم جمہوریہ منا رہے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جمہوری حقوق آج تک اس ملک کے باشندوں کو میسر نہیں ہوسکے۔انہوں نے پروگرام کے آرگنائزس کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مشہور ومعروف نوجوان لیڈروں کا دیوبند کی سرزمین پر آنا اور دیوبند سے انقلاب کی تحریک کو ہوا دینا ایک خوش آئند پہلو ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر عاطف سہیل صدیقی ،مفتی انوار خان قاسمی ،خالد سیفی ،شارق حسین ،محمد شہاد ،اشفاق اللہ خان وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔پروگرام کی نظامت کے فرائض مولانا محمود الرحمن صدیقی نے انجام دےئے پروگرام کو کامیاب بنانے والوں میں مولانا محمد احمد ،مولانا مہدی حسن عینی قاسمی ،مولانا محمد اعظم قاسمی ،مولانا محمد شاہنواز قاسمی ،مولانا محمد سلمان قاسمی ،مولانا محمد ارمان قاسمی ،مولوی لقمان ،مولوی محمد آباد ،قاری مطیع الرحمن ،مفتی انعام ،محمد فیصل ،محمد بلال ،محمد نیاز،محمد ابرابر،محمد حسان وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔اس موقع پر شہر کے معززین کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں طلبہ موجود رہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *