Struggle in Shiv Sena-BJP? Sanjay Raut said – Fearful seat sharing from India-PAK sharing

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کا بگل بج گیا ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور شیوسینا کے درمیان سیٹوں کی تقسیم نہیں ہو پایا ہے۔ دونوں پارٹیاں زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر انتخاب لڑنا چاہتی ہے، لہٰذا سیٹ تقسیم پر اب تک اتفاق نہیں ہو پائی ہے۔ شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے سیٹ تقسیم سے منسلک مشکلات کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بٹوارہ بھارت-پاکستان سے بھی شدید ہے۔
 
مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کا بگل بج گیا ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور شیوسینا کے درمیان سیٹوں کی تقسیم نہیں ہو پایا ہے۔ دونوں پارٹیاں زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر انتخاب لڑنا چاہتی ہے، لہٰذا سیٹ تقسیم پر اب تک اتفاق نہیں ہو پائی ہے۔ شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے سیٹ تقسیم سے منسلک مشکلات کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بٹوارہ بھارت-پاکستان  سے بھی شدید ہے۔


شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے کہا، “اتنا بڑا مہاراشٹر ہے یہ جو 288 سیٹوں کی تقسیم ہے یہ بھارت پاکستان کی تقسیم سے بھی شدید ہے۔” سنجے راوت نے کہا کہ اگر ہم حکومت میں ہونے کے بجائے اپوزیشن میں ہوتے تو تصویر دوسری ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ سیٹوں کی تقسیم پر جو بھی فیصلہ ہوگا، اسے فوری طور پر میڈیا کو بتایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق شیو سینا اپنے لئے کم از کم 130 نشستیں چاہتی ہے، وہیں آر پی آئی کے سربراہ رام داس اٹھاولے اپنی پارٹی کے لئے 10 نشستیں چاہتے ہیں۔
بتا دیں کہ اس وقت 288 ارکان والی مہاراشٹر اسمبلی میں بی جے پی کے پاس 122 سیٹیں ہیں، وہیں شیوسینا کے پاس 63 سیٹیں ہیں۔ مہاراشٹر بی جے پی دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹ تقسیم کے ایسے فارمولے پر سمجھوتہ چاہتی ہے، جس پر بی جے پی کے پاس 122 نشستیں بنی رہیں اور شیوسینا پر اس حصے کی 63 نشستیں رہیں اور باقی سیٹوں میں سے کچھ سیٹیں ریپبلکن پارٹی آف انڈیا جیسے اتحاد کے چھوٹے جماعتوں کو دینے کے بعد آپس میں برابر بانٹ لی جائیں۔
شیوسینا کی مهاتواكاکنشا سے الگ بی جے پی زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر خود الیکشن لڑنا چاہتی ہے۔ دراصل بی جے پی ریاست میں اپنی فیصلہ کن کردار کو کسی بھی حالت میں ختم نہیں کرنا چاہتی ہے۔ اسی وجہ سے سیٹ تقسیم کو لے کر دونوں جماعتوں میں پیچ پھنسا ہوا ہے۔ 2019 لوک سبھا انتخابات سے پہلے بھی بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر كچ كچ ہوئی تھی۔ اس کی وجہ سے دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد میں بھی تاخیر ہوئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here