ہونہار تھیٹراداکار محمد یاسین نوجوانوں کیلئے موجب تحریک

Share Article

 

محمد یاسین جموں و کشمیر کے وہ خوش نصیب، بلاصلاحیت،ڈرامہ کے فن پر عبور رکھنے والے وہ نوجوان فنکار ہیں جنہیں وزارت ثقافت حکومت ہند نے دو سال کے لئے جونیئر فلیو شپ ایوارڈ سے نوازہ ہے۔ اس فیلوشپ کے تحت محمد یاسین دو سال کے اندر ’اوریجن آف کنٹمپریری ڈوگری ٹھیٹر‘ کے موضوع پر اپنا پروجیکٹ مکمل کریں گے۔وزارت ثقافت حکومت ہند نے ملک بھر کے دوسو فنکاروں مختلف پروجیکٹ کے لئے فیلوشپ دیا ہے جن میں محمد یاسین جموں و کشمیر سے واحد شخص ہیں جن کو یہ اعزاز ملا ہے۔ یہ پورے جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے فخر کی بات ہے۔ ریاست جموں و کشمیرکے ضلع ریاسی کے دور افتاد ہ گاؤں بھبھرکنڈرہ سے تعلق رکھنے والے محمد یاسین کودیگرانسانوں کی طرح اللہ تعالیٰ نے مختلف صلاحیتوں سے نوازاہے جن کوبروئے کارلاکرسخت جدوجہدکے بعدوہ تھیٹرکے شعبے میں اپنی منفرشناخت بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ 1991؁ء میں عبدالقادربھبھرکنڈرہ کے گھرپیدا ہونے والے محمدیاسین کوبچپن سے ہی تھیٹرکاشوق تھااوراپنے شوق کی تکمیل کیلئے وہ صرف 12سال کی عمر میں ہی نٹرنگ نامی ایک تھیٹرتنظیم کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔نٹرنگ تھیٹر جموں وکشمیرکی ایک غیرسیاسی تنظیم ہے جوتھیٹرکے شعبے میں دلچسپی رکھنے والے بچوں کیلئے گزشتہ کئی برسوں چلڈرنزتھیٹرورکشاپوں کااہتما م کرنے کے ساتھ ساتھ ہفتہ وارتھیٹرسیریزچلارہی ہے جس کے نتیجے میں تھیٹرکے شعبے میں نئے نئے نوجوان اپنی صلاحیتوں کوآزماکرآگے بڑھنے کیلئے راہیں ہموارکررہے ہیں۔محمد یاسین کے والدمحترم عبدالقادر کندریہ کی شروع سے ہی خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کواس کی دلچسپی کے مطابق شعبے میں کیرئیربنانے کاموقعہ فراہم کریں گے جس کیلئے انہوں نے محمدیاسین کوہرممکن کوشش کی۔ محمدیاسین کوادب،فن،تھیٹراورثقافت سے گہرا لگاؤہے جس کی وجہ سے انہوں نے تھیٹرکے شعبے میں اپناکیرئیرسنوارنامناسب سمجھااوراس میں پوری طرح داخل ہونے کیلئے محنت شروع کردی۔یاسین جب گھر سے اپنے کیرئیرکوسنوارنے اوردیگرارمان اورخواہشوں کے گٹھری لیکرکوگھرسے نکلاتھاتواُسے اپنی تعلیم کی تکمیل کرنے کامسئلہ درپیش تھا جواس کیلئے ایک بڑاچیلنج تھا لیکن باہمت نوجوان نے اپنی تعلیم اور تھیٹرکوایک ساتھ جاری رکھا۔تعلیم سے انسان کے اندرعلم کاخزانہ جمع ہوتاہے اورکام کرنے سے تجربہ اوربردباری پیداہوتی ہے جواس کی زندگی کے ہرموڑپر رہنمائی کرتی ہے۔

 

نٹرنگ تھیٹرنے یاسین میں نظم وضبط،تعلیم اورشاندارمستقبل کیلئے محنت اورثابت قدمی کے ساتھ جدوجہدکی اہمیت کوسمجھنے میں اہم رول اداکیا۔محمدیاسین نے رورل ڈیولپمنٹ میں ماسٹرس ڈگری اور ماس کیمونی کیشن اینڈ جرنلزم میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں مکمل کرکے اپنی تعلیم کومکمل کیا۔وہ ہرپل سیکھنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں اوراس کے ساتھی بھی اکثران سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔تھیٹرمیں آنے سے پہلے محمدیاسین اسکول میں پچھلی سیٹ پربیٹھتے تھے لیکن تھیٹرکی زندگی نے ان میں ایسااعتمادپیداکیاکہ وہ ہرجگہ سامنے آکراپنارول نبھانے میں خوشی محسوس کرنے لگے۔نٹرنگ تھیٹرمیں عرصہ دس سال کلاکارکی حیثیت سے کام کرتے ہوئے یاسین نے بہت کچھ سیکھاہے یایوں کہاجائے کہ محمدیاسین اداکاری کے فن سے بخوبی واقف ہوچکے ہیں۔بقول سینئرآرٹسٹ سنجیوگپتا ”ایک ایکٹر کے لئے اس کریکٹر میں رہنا،جو کہ اسکی اصل زندگی میں نہیں ہے،ایک بہت بڑا چلینج ہے“۔نٹرنگ کے مہابھوج،باواجیتووغیرہ کئی ڈوگری اورہندی ڈراموں اورناٹکوں میں محمدیاسین نے مختلف قسم کے رول اداکیے اورمشکل کریکٹروں کونبھاکراپنی صلاحیتوں کوثبوت دیا جس کااعتراف نٹرنگ کے ڈائریکٹر اورپدم شری بلونت ٹھاکرنے سال 2019 میں شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کرتے ہوئے کہاکہ ”یاسین نٹرنگ کا روح رواں ہے،جب نٹرنگ ٹیم کہیں بھی جاتی ہے تو وہ ہرکام خواہ وہ ویڈیوشوٹنگ ہویاپریس ریلیز تیارکرنے کاہو کوبخوبی انجام دیتاہے اورآنے والے ہرچیلنجزسے نمٹنے کیلئے ہمہ تن تیاررہتاہے۔یاسین راستے کی رکاوٹوں سے بالکل بھی نہیں گھبراتابلکہ پراعتماداورپرجوش رہ کرہرمرحلے میں سرخروہوتاہے۔یاسین کی کام کے تئیں لگن اورجدوجہدکودیکھتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی طاہر مشتاق نے اس کی زندگی پر بچپن سے لیکر تھیٹر تک شاندار فیچربھی تحریر کیا۔فیچرمیں طاہرمشتاق لکھتے ہیں کہ تھیٹر میں کافی مواقع ہیں،لیکن عملی کام کے دوران ایک شخص کاتھیٹرکے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوناضروری ہوتاہے۔یاسین مواقعوں کے انتظار میں اپنی زندگی کا بیش قیمتی وقت گُذارنے کے بجائے ہردستیاب وسائل کوموقعے میں تبدیل کرنے کیلئے کام کرتاہے۔

 

 

محمد یاسین نے تھیٹر میں اپنی شروعات نٹرنگ کے چلڈرن کیمپ میں 2001میں بطور ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پرشروع کی اور اب تک 70سے زائد ڈراموں کیلئے350پرفارمنس دینے کے ساتھ ساتھ درجنوں ریاستی، زونل اور قومی اور بین الاقوامی تھیٹر فیسٹولوں میں کام کرچکے ہیں۔ محمدیاسین نے جن اہم ڈراموں میں رول اداکیے ہیں ان میں ”گھمائیں، باوا جتو، آپ ہماری ہے کون، ہولی، میرے حصے کا دھوپ کہاں ہے، سینیاں بھائے کوتوال، باگیا بنچھارام کی، حوالات، سنو ٹائیگور دی، چھونا ہے آسمان، سنو یہ کہانی، مائنڈ گیمز، کریزی کئیا رے، بچھو، ایک تھا گدھا، چھوٹے بڑھے، پرواز، دی گئیم آف چیس، سوا سیر گیہوں، فروتی، تیزاب،اس گران گی سورگ بناؤ، شروعات سے پہلے، بالک، شئیر پیلو پیل گئے، چور کون، رنگ بدلتی دنیا، گرگٹ، گاٹ، نیا جنم، انتظار، بیمار، بھیڑ میں روندھا ہوا آدمی، سب سے بڑا آدمی، ایک خوش انسان، تین پہاڑ، پنچ فٹ کی شیشی، اتھل پُتھل، گھر کا مالک، دو زاویے، بہو کی ودا، خاندانی گواہ، مت کرو برباد، تین اپاہج، بھارت چھوڑو، ایہھ جموں ایہھ، ہمیں بولنے دو، ریڈ ٹیپ، کہانی ہماری، کہانی ایک کتے دی، مجرم فرار ہے، جنتا پاگل ہوگئی ہے، سہسا کیوں لوٹ آئی، آندولن، داماد، جیب کُترا، ننھا نقلچی، لوک تنتر کا منتر،وغیرہ“ شامل ہیں۔اس کے علاوہ محمدیاسین نے مذکورہ ڈراموں میں نٹرنگ اور سنگیت ناٹک اکیڈمی کی جانب سے منعقدہ چلڈرن سمر تھیٹر ورکشاپ میں بھی کام کیا۔

 

 

وزارت کلچر،حکومت ہند سے لوک/روایتی اور مقامی آرٹ کیلئے2سالوں کے لئے(2011سے2013تک) قومی سکالر شپ یافتہ یاسین نے اس زندہ تھیٹر جسے عام طور سے بھانڈ پاتھر کہا جاتا ہے، سے بہت کُچھ سیکھا ہے۔ان دو سالوں میں انہوں نے تھیٹر کے عظیم کلا کاروں کے ساتھ مل کر قریبی تال و میل کے ساتھ کام کیا اور بعد میں اپنے کو تھیٹر کے ساتھ جوڑ کر سنگیت ناٹک اکیڈمی نئی دہلی کے معاونت سے ’بھانڈ پاتھر‘ بحال کرنے کا کام کیا۔ ان دو سالوں میں انہوں نے تھیٹر کے عظیم کلاکاروں کے ساتھکام کیا،جنھوں نے اُسے بھانڈ پاتھر کی روایت کے لئے کام کرنے کی ترغیب دی اور بعد میں اس نے اپنے آپ کو ”بھانڈ پاتھر بحال“ کرنے کے پروجیکٹ کے ساتھ منسلک کیا، جسے سنگیت ناٹک اکیڈمی،نئی دہلی نے2011، 2012 اور2015کے دوران معاونت کی۔،60نئے دلکش بھانڈ پاتھر،جو کہ چھ سال سے زائد عرصہ تک پھیلی رہی،کی اس پوری پروڈکشن کا ایک گواہ بن کر اُسے اس عظیم پرفارمنگ آرٹ،روایت اور ہنر کا باریک بینی سے مثاہدہ کرنے کا موقعہ مل گیا اور جموں و کشمیر میں دم توڑ رہے کلچرل ورثہ کو فروغ دینے اور محفوظ رکھنے کے لئے اپنی زندگی وقف کی۔

 

 

محمد یاسین نے اب تک ریاستی، زونل اور قومی وبین الاقوامی تھیٹر فیسٹولز میں 70سے زائد ڈراموں میں 350 رول اداکئے ہیں۔اس کے علاوہ محمدیاسین نے 50سے زائد قومی تھیٹر فیسٹولوں میں بھی شرکت کی ہے ان میں جشن بچپن،نئی دہلی۔2003، وویچنا کے10 قومی تھیٹر فیسٹول۔جبلپور 2003-،نیشنل تھیٹر فیسٹول، بالا گھاٹ (ایم پی) 2003-، ستابدریہ کلار کا چھٹا نیشنل تھیٹر فیسٹول، بھو نیشور، اُڑیسہ۔2004،نیشنل تھیٹر فیسٹول،ٹرویندرم۔2007 جوپبلک یلیشنز ڈیپارٹمنٹ،کیرلہ اورسنگیت ناٹک اکیڈمی،نئی دہلی کے اشتراک سے منعقد کیاگیا تھا۔نیشنل تھیٹر فیسٹول کولام (کیرالہ)۔2007، 5واں نیشنل تھیٹر فیسٹول، امرتسر۔2008جواین زیڈ سی سی،پٹیالہ اور این ایس ڈی،نئی دہلی نے منچ رنگ منچ،امرتسر کے اشتراک سے کیا تھا، نیشنل تھیٹر فیسٹول، نئی دہلی۔2008(ایس این ائیز کا ایوارڈزکا فیسٹول)،نیشنل تھیٹر فیسٹول،چندی گڑھ۔2008،جو این زیڈ سی سی اور این سی زیڈ سی سی نے منعقدکیا تھا، نیشنل تھیٹر فیسٹول،کولکتہ۔2008،انٹرنیشنل تھیٹر فیسٹو ل،بہرام پور(مغربی بنگال)۔2008، وویچنا کا 17 واں نیشنل تھیٹر فیسٹول،جبلپور۔2010،نیشنل تھیٹر فیسٹول۔2011جو رویندر بھون،بھوپال میں منعقد کیا گیا تھا۔ نارتھ زون تھیٹر فیسٹول۔ 2011،جوچندی گڑھ،کور کھیشتر، شملہ اور جالندھر میں منعقدکیا گیا تھا۔نیشنل تھیٹر فیسٹول،جوبھارت بھون،بھوپال میں 2012 اور 2015 میں منعقدکیا گیا تھا، ینشنل تھیٹر فیسٹول 2013-بھونیشورجو اُڑیسہ سنگیت ناٹک اکیڈمی نے منعقدکیا تھا،ینشنل تھیٹر فیسٹول جے پور،2013-جو راجستھان سنگیت ناٹک اکیڈمی نے منعقدکیا تھا، نارتھ زون تھیٹر فیسٹول2013،جوکورو کھیشتر،یمنا نگر، روہتک وغیرہ،امراوتی تھیٹر فیسٹول وجے واڑا (اے پی)،2017اور یوا بسمہ اللہ خان ایوارڈ فیسٹول جو سنگیت ناٹک اکیڈمی،نئی دہلی نے 2008اور 2009میں نئی دہلی،2014 کو اگرتلا میں اور2017 گوہاٹی میں کیا تھا۔ اتناہی نہیں محمدیاسین وہ خوش نصیب کلا کاروں میں بھی شامل ہیں جنھوں نے دولت مشترکہ کھیلوں۔2010،نئی دہلی اور جشنِ جموں و کشمیر 2014؁ء گوہاٹی اورامپھال میں نارتھ ایسٹ سنٹر آف سنگیت ناٹک اکیڈمی،گوہاٹی اور راشٹریہ پورو اُتر رنگ اُتسو۔2017،جس کاانعقاد نیشنل سکول آف ڈراما نے کیا تھا،میں پُر جوش ڈوگری ڈراما ”باوا جتو“ پیش کیا گیا تھا میں شرکت کی ہے۔اسی کے ساتھ۔محمدیاسین سال2016میں لندن میں منعقدہ جموں و کشمیر فیسٹول کے کلا کاروں کے15نفری گروپ کابھی حصہ تھے اور نٹرنگ کے بیشتر ڈراموں کوجمع کرنے میں محمد یاسین کااہم رول تھا۔

 

Thumb

یاسین کو عظیم فیسٹولوں جیسے کہ سنگیت ناٹک اکیڈمی کی جانب سے جموں میں منعقدہ ”ناٹیہ سماگم“ میں بطور ایک نامور رضاکار اور ایک اعلیٰ کارڈی نیٹر و ٹیکنیشن کام کرنے،بھارت بھون،بھوپال میں منعقدہ جموں و کشمیر فیسٹول میں بطور ایک ٹیکنشن سربراہ کے طورپرکام کرنے کاشرف حاصل رہاجہاں پر نٹرنگ ڈائریکٹر بلونت ٹھاکور کے دو ڈرامے ”میرے حصہ کی دھوپ کہاں ہے، اور گھمائیں“ دکھاے گئے تھے۔جشنء جموں و کشمیر اودھے پور،بیلونیا اور اگرتلہ،تری پورہ میں نارتھ ائیسٹ سنٹر آف سنٹرل سنگیت ناٹک اکیڈمی،نئی دہلی نے مارچ2017میں منعقد کیا گیا تھا۔ پورو اُتر تھیٹر فیسٹول،جو نیشنل سکول آف ڈرامہ نے2016 میں منعقدکیا تھا،میں ایک کار گر رضاکار کے طور شرکت کی جس سے جموں کے تھیٹر شائقین کو ملک کے شمال مشرقی خطوں میں جدید دور کے تھیٹر سرگرمیوں میں شرکت کرنے کا موقعہ حاصل ہوا۔

 

محمدیاسین کا پدم شری بلونت ٹھاکور کو اُنکی اہم تمدنی دوڑ دھوپ جیسے کہ ”رنگلا جموں“،”کشمیر فیسٹول“، ”جموں فیسٹول“، ”جشنء بھدرواہ“، ”کلچرل ڈائیورسٹی“، ”نگوٹ کلچرل فیسٹول“، ”گلاب گاتھا“ و دیگران کا گُذشتہ9 برسوں میں نٹرنگ کی جانب سے منعقد کرنے میں معاونت کرنے کا ایک بہت ہی ذہین تجربہ ہے۔وہ ایک جواں سال امتیازی اسسٹنٹ رہے ہیں،جنھوں نے لائق ڈائریکٹروں جیسے کہ ہریش کھننہ، عادل حسین، بنسی لعل کول، موتی لعل کیمو کی قیادت میں کام کیا ہے۔یاسین نٹرنگ اور سنگیت ناٹک اکیڈمی کی جانب سے منعقدہ چلڈرن تھیٹر ورکشاپ میں گُذشتہ 7سال سے بطور پروڈکشن اسسٹنٹ اور کارڈی نیٹر کام کر رہے ہیں۔

 

 

اپنے ایک انٹرویوجوفیس بُک پرریاسی اپ ڈیٹ نامی صفحہ پرشائع ہوامیں یاسین کہتے ہیں کہ”تھیٹر کا سب سے اہم اور یاد گار حصہ وہ تھا،جب مجھے2016 ؁ء میں لندن میں جموں و کشمیر کے تمدن کی عکاسی کے سلسلے میں ریاست جموں و کشمیرکی 15رکنی ٹیم کاحصہ بنایاگیا“۔ یاسین کامانناہے کہ ادب میری زندگی میں جوش پیدا کرتا ہے اورمیں جوکچھ لکھتاہوں،کسی خاص قسم کے زمرے تک محدودرہ کرلکھنے کاقائل نہیں ہوں۔میں سڑکوں،ٹی اسٹالوں اور بھیڑ بھاڑ والے بازاروں کا مشاہدہ کرتا ہوں،جہاں پر بہت زیادہ رش ہوتاہے۔بطورمصنف میں سماج کی عکاسی کرنے کی کوشش کرتاہوں“۔یاسین انٹر ویو کے دوران مزید کہتے ہیں کہ ”میں غیر مستحکم ہوں اور ہمیشہ غیر مطمئن رہتاہوں،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ میں نے کتنی بلندیوں کوچھواہے۔میرا ماننا ہے کہ آرام جسے ہم مطمئن ہوجانابھی کہہ سکتے ہیں ترقی اور نشوو نما کی راہ میں رکاوٹ ہے،کتنابھی اچھاکام کیوں نہ کرلیاجائے بہتری کے گنجائش پھربھی رہتی ہے۔ایک شخض کو لگاتار ایک خاص شعبہ کی طرف توجہ مرکوزکرکے کام کرناچاہیئے“۔
اس کے ساتھ ساتھ محمد یاسین کا پدم شری بلونت ٹھاکور کے ساتھ ان کے تھیٹرکے سلسلے میں اہم کام مثلاً ”رنگلا جموں“،”کشمیر فیسٹول“، ”جموں فیسٹول“، ”جشنء بھدرواہ“، ”کلچرل ڈائیورسٹی“، ”نگوٹ کلچرل فیسٹول“، ”گلاب گاتھا“ وغیرہ کا گزشتہ9 برسوں میں نٹرنگ کی جانب سے منعقد کرنے میں معاونت کا وسیع تجربہ ہے۔یاسین ایک جواں سال امتیازی اسسٹنٹ رہے ہیں جنھوں نے اہم ڈائریکٹروں مثلاً ہریش کھنہ، عادل حسین، بنسی لعل کول، موتی لعل کیمو کی قیادت میں کام کیا ہے۔کلا کاروں (آرٹسٹوں)کے سلسلہ میں یہ ایک عام تاثرپایاجاتاہے کہ وہ صرف ایکٹنگ، گلو کاری اور رقص تک ہی محدود ہوتے ہیں لیکن محمدیاسین نے ادب کے میدان میں بھی ایک خاص مقام پیداکرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔یاسین نے سب سے پہلے نٹرنگ تھیٹرکے کام کاج اورنظم وضبط سے متاثرہوکراس کی کامیابی کیلئے اپنی قلم کوجنبش دی اورتھیٹر کی اہمیت اورنٹرنگ تھیٹرکے اس میں فروغ کوپرنٹ میڈیاکی وساطت سے اُجاگرکیا۔اسکے بعد ریاست جموں و کشمیر کے نامور کلاکا روں جن میں انل تکو، چندر شیکھر، پنکج شرماوغیرہ کی زندگی سے متعلق ایک کہانی تحریرکرکے نٹرنگ کے حوالے کی۔

 

یاسین کی شخصیت کے مختلف پہلوہیں جہاں وہ ایک کلاکارہیں وہیں وہ ایک دوراندیش فوٹوگرافراورتحقیقی تجزیہ نگاربھی ہیں۔یاسین تھیٹر کے شعبے سے وابستہ کلاکارہونے کے باوجود ادب اورادیبوں کوبھی سراہتے ہیں۔محمد یاسین کو آرٹ سے بے انتہالگاؤہے،آرٹ کوسنوارنے کیلئے وہ ادب سے کام لیتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ یاسین تا حال نٹرنگ کے ساتھ بطور میڈیا ہیڈ (الیکٹرانک اور پرنٹ) گذشتہ5سال سے کام کررہے ہیں۔وہ اپنے کئیریر میں تھیٹر میں کام کوجاری رکھ کر تھیٹر اور لوک ثقافت کے فروغ اوراس کی بحالی کے خواہشمند ہیں۔تھیٹرسے متعلق محمد یاسین کاکہناہے کہ ”تھیٹر دل بہلائی، اظہار آمادگی کیلئے مجبور نہیں ہے بلکہ یہ بیداری پیدا کرنے،عوامی رائے قائم کرنے، علاقہ کے روایت اور تمدن کو منتقل کرنے کیلئے کیمونی کیشن کا ایک مستحکم ذریعہ ہے“۔

 

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے ہونہار فنکار، ڈرامہ آرٹسٹ اور ’بھانڈ پاتھر‘ کو جموں و کشمیر میں زندہ کرنے والا محمد یاسین اس وقت بے روزگار ہے اور مرکزی حکومت سمیت ریاستی حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے۔ گزروبسر کے لئے ان کے پاس روزگار نہیں ہے۔حکومت نے اب تک ان کو کوئی نوکری نہیں دی ہے۔جہاں مرکزی حکومت دیگر فنون پر بے تحاشہ خرچ کرتی ہے وہیں جموں و کشمیر کا ہونہار فنکار اس سے محروم ہے اور مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر حکومت نے بھی اس کو نظر انداز کردیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کو نہ صرف نوکری دی جائے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ نہ صرف جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کرسکیں بلکہ وہ جموں و کشمیر میں گم ہوتے لوک ناٹک اور ڈراموں کو زندہ کرسکے۔ اس کے لئے حکومت کے ساتھ صاحب ثروت لوگوں کو بھی سامنے آنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *