جموں وکشمیر: وادی میں یاسین ملک سمیت اہم علیحدگی پسندوں کے گھر چھاپہ ماری کرنے پہنچی این آئی اے ٹیم پر حملہ

Share Article

NIA-team-par-hamla

سرینگر: پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد حکومت نے کئی علیحدگی پسند لیڈران کے خلاف بھی اپنی کارروائی شروع کر دی ہے۔ وادی میں منگل کو این آئی اے نے اہم علیحدگی پسند لیڈر میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک، شبیر شاہ سمیت نو علیحدگی پسندوں کے گھروں پر چھاپے مارے۔ اس دوران تلاشی لی گئی۔ اس دوران جب NIA ٹیم جیکے ایل ایف کے لیڈر یاسین ملک کے گھر پہنچی تو وہاں پتھربازوں نے ٹیم پر حملہ کر دیا۔جس کا مکمل ویڈیو بھی سامنے آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ حملہ وہاں موجود ملک کے حامیوں کے اکسانے کے بعد ہی کیا گیا۔
ویڈیو میں بھی صاف دکھائی دے رہا ہے کی NIA کی ٹیم جیکے ایل ایف کے لیڈر یاسین ملک کے گھر کی تلاشی لے کر نکل رہی ہے۔جہاں پہلے سے بڑی تعداد میں لوگوں کی بھیڑ ہے۔ جیسے ہی ٹیم نکلی پیچھے سے کچھ لوگوں نے ان پر پتھر برسانے شروع کر دیے۔کسی طرح ٹیم کو وہاں سے جان بچا کر بھاگنا پڑا۔

جانچ ایجنسی NIA نے یہ کارروائی فنڈنگ کے معاملے کولیکرکر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان لیڈران کے گھر چھاپہ ماری میں جانچ ایجنسی کو کچھ دستاویزات بھی برآمد ہوئیہیں۔ اس کے علاوہ ایجنسی کی ٹیم نے ان کے گھر میں موجود الیکٹرانک آلات بھی کھنگالے ہیں۔

این آئی اے کے حکام نے منگل کی صبح ہی پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ مل کر چھاپہ ماری کی کارروائی شروع کر دی تھی۔پوری وادی میں نو مقامات پر چھاپہ ماری کی گئی۔ ان میں حریت (جی) سربراہ سید علی شاہ گیلانی کے بیٹے نعیم گیلانی، اشرف سحرئی، ظفر بھٹ اور مسرت عالم کے مکان بھی شامل ہیں۔

مرکزی حکومت نے علیحدگی پسندوں پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ پہلے ان کی سیکوریٹی واپس لی گئی۔ اس کے بعد پوری وادی میں علیحدگی پسندوں اور پتھربازوں پر شکنجہ کستے ہوئے یاسین ملک سمیت 300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ان میں زیادہ تر جماعت اسلامی کے کارکن ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *