خواتین حقیقی امپاورمنٹ سے اب بھی بہت دور

Share Article

’’مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ہم نے روایتی بندھنوں کو توڑنے کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے‘‘ یہ ہیلری کلنٹن کے الفاظ ہیں جو انھوں نے جولائی 2016 میں ڈیموکریٹس کی نامزدگی کے بعد کہے تھے۔ہیلری کے ان الفاظ کو خواتین کے امپارمنٹ سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔دراصل دنیا بھر میں زندگی کے ہر شعبہ حیات میں مردوں نے جو اجارہ داری قائم کررکھی ہے، اس میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے اور یہ تبدیلی ہندوستان سمیت پوری دنیا میں ہورہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں عالمی سطح پر منتخب شدہ برِسر اقتدار خواتین کی تعداد دوگْنی ہو گئی ہے۔پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، دنیا بھر میں 15 خواتین بر سرِ اقتدار ہیں جن میں سے 8 اپنے ملک کی پہلی خاتون رہنما ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خاتون رہنما واضح طور پر روایتی بندھنوں کو توڑ رہی ہیں اورکیا وہ اپنے ملکوں کی دیگر خواتین کو ساتھ لے کر چل رہی ہیں؟ خواتین کے امپاورمنٹ کی جو باتیں ہورہی ہیں اس میں وہ کوئی نمایاں کردار انجام دے رہی ہیں۔
امید افزا پہلو
ہندوستان کی مقامی حکومتوں میں سیاسی کوٹے کے نظام سے اس تعلق سے کچھ حوصلہ ملتاہے 2012 میں ہزاروں ہندوستانی نوجوانوں اور ان کے والدین پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو خواتین روایتی بندھنوں کو توڑ سکیں انھوں نے اپنی ہم وطنوں کی اْمنگوں میں اضافہ کیا اور ملک میں خواتین کے لیے بہتر معیار زندگی کے امکانات کوبھی روشن کیا۔
2016 میں آئس لینڈ، فِن لینڈ اور ناروے وہ ممالک تھے جن کا مجموعی صنفی فرق کم ترین سطح پر تھا اور وہاں سیاست میں عورتوں کی شمولیت کا بھی زیادہ امکان تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان ممالک میں جہاں خواتین کو سیاست میں نمائندگی ملتی ہے ،وہاں وہ زیادہ بہتر انداز میں کام کرتی ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں خواتین کو گھر کی چہار دیواری تک محدود رکھ کر ان کی صلاحیتوں کو درگور کردیا جاتا ہے ۔یہ وہ ممالک ہیں جہاں مرد زندگی کے تمام شعبہ حیات میں اپنی اجارہ داری چاہتے ہیں اور عورتوں کی شرکت کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ان میں خلیج کے کچھ ممالک کے علاوہ جنوبی ایشیا کے اندر مخصوص طبقات ہیں جو خاندانی ثقافت ،مذہبی روایت اور سماجی بندھنوں کی وجہ سے خواتین کو حصہ داری دینا معیوب سمجھتے ہیں۔
خلیج میں خواتین کا امپاورمنٹ
اس کی مثال سعودی عرب کے ایک اہم فیصلے سے دی جاسکتی ہے۔اس فیصلے میں سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے حال ہی میں سعودی خواتین کو محرم کی اجازت کے بغیر ڈرائیونگ لائسنس بنوانے اور گاڑی چلانے کی قانونی طور پر اجازت دے دی ہے جس سے سعودی خواتین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
سعودی عرب میں عبدالرحمٰن بن فیصل یونیورسٹی کی ڈین ڈاکٹر الہام العتیق کہتے ہیں کہ سعودی حکومت کا یہ قدم یقیناً خوش آئند ہے اور یہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔ اس سے خواتین اور خاص طور ملازمت پیشہ خواتین کیلئے سفر کی آسانی ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ تاہم اْنہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں ثقافتی مسائل کی وجہ سے اس اقدام پر عملدرآمد میں بہت سی مشکلات پیدا ہوں گی لیکن اہم بات یہ ہے کہ اسے جاری رکھنا ہو گا۔ ڈاکٹر الہام نے بتایا کہ سعودی عرب میں اب خواتین مجلس شوریٰ اور ملکی سیاست میں بھی پہلے سے زیادہ فعال ہیں۔
ہیومن رائٹس کی نشا واریہ کہتی ہیں کہ حالیہ برسوں میں خواتین کو حقوق دینے کے سلسلے میں یقیناً کچھ پیش رفت دکھائی دیتی ہے جو خود خواتین سماجی کارکنوں کی جرات اور جدوجہد کی مظہر ہے۔ تاہم گاڑی چلانے پر پابندی ختم کرنے جیسے اقدامات مجموعی طور پر سعودی عرب میں خواتین کی حالت کو سدھارنے کی جانب محض ایک چھوٹا سا قدم ہے۔
لیکن یہ فیصلہ وہاں کے کچھ علماء کو قطعی ناپسند ہے اور انہوں نے یہ کہہ کر اس فیصلے کی مخالفت کی کہ عورت کم تر عقل کی حامل ہیں۔ لہٰذا وہ ڈرائیونگ کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ عسیر کے علاقائی افتا کونسل کے رکن اور عالم دین ڈاکٹر سعدبن سعید حجری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مردوں کے مقابلے میں عورت کے پاس چونکہ ایک چوتھائی عقل ہوتی ہے لہٰذا انہیں ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ملنی چاہئے۔ان کے اس بیان کے بعد پور ے ملک میں ہلچل پیدا ہوئی ۔بہر کیف حکومت نے ان کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا اور عہدہ سے برخاست کردیا۔

 

 

 

 

 

 

خواتین کی بڑھتی سرگرمیاں
شیخ نے کس نقطہ نظر سے یہ باتیں کہیں،یہ تو مجھے معلوم نہیں لیکن ایک بات جو عملی طور پر دیکھا جارہا ہے ،وہ یہ کہ آج خواتین نہ صرف سیاست میں بلکہ دیگر میدانوں میں بھی مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں ۔ابھی حال ہی میں ایک رپورٹ آئی ہے کہ زراعت کے میدان میں خواتین اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کررہی ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ زراعت میں خواتین کا کردار بڑھا ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اقتصادی طور پر سرگرم خواتین کی ایک چوتھائی تعداد زرعی شعبے سے منسلک ہیں۔اگرچہ ان اعداد و شمار میں علاقائی طور پر فرق پایا جاتا ہے۔ ملازمت فراہم کرنے میں زرعی شعبے کا اہم کردار ہے لیکن امیر اور غریب ممالک میں یہ شرح مختلف ہے کیونکہ امیر ممالک میں مرد و خواتین صنعتوں اور خدمات کے شعبوں میں ملازمت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ غریب ممالک میں زراعت کو ترجیح دیتی ہیں۔چنانچہ شمالی افریقہ میں زراعت میں خواتین کا کردار 30 فیصد سے بڑھ کر 43 فیصد ہو گیا ہے۔ ایسے ہی رجحانات مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا، لاطینی امریکہ میں دیکھنے کو ملے۔اسی طرح نیم صحرائی افریقی علاقوں میں بھی زرعی شعبے میں خواتین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ تین دہائیاں قبل یہاں زراعت میں خواتین مزدوروں کی تعداد میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا تھا۔ ماہرین کے خیال میں یہاں پہلے سے ہی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔کاشتکاری میں خواتین کا بڑھتا ہوا کردار مثبت اقدام ہے۔ کچھ خواتین خود اپنی زمینوں پر کاشتکاری کرتی ہیں تو کچھ کسی اور کی زمین پر ملازمت کرتی ہے۔زرعی شعبے کی افرادی قوت میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے لیکن ان کی ملازمت کی نوعیت اکثر غیر واضح ہوتی ہے۔ خواتین اکثر اوقات جز وقتی ملازمت کرتی ہیں۔
ابھی بہت کچھ کرنا باقی
ان سب کے باجود خواتین کو مساوات کا حق دلانے اور ان کے امپاورمنٹ کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے کیونکہ اب بھی بہت سے ملکوں میں خواتین سے کام تو لیا جاتا ہے لیکن ان کی اور مردوں کی مزدوری میں بہت فرق ہے۔دستیاب شواہد کے مطابق اکثر خواتین کی تنخواہ مردوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صنف کے لحاظ سے 14 ممالک میں خواتین کی اوسطً تنخواہیں مردوں کے مقابلے میں 28 فیصد کم ہیں۔ماہرین کے خیال میں ’پیداوار کا فرق‘ ہے اور ترقی پذیر ملکوں میں خواتین کاشتکاروں کی پیداوار اوسط پیدوار سے 20 سے 30 فیصد کم ہے اور کم پیداوار کا الزام خانگی امور کی ذمہ داری ادا کرنے پر عائد کیا جاتا ہے۔ایف اے او کی پروگرام اسسٹنٹ ماریہ لوئیس کے مطابق خواتین کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ روایات کو چیلنج کریں۔کیونکہ مردوںکے مقابلے میں گھر میں آمدنی لانا ان کے لئے مشکل ہے۔
ایف اے او کا کہنا ہے کہ کئی معاشروں میں گھر بار سنھبالنا اور بچوں کی دیکھ بہال کی ذمہ دار خواتین ہوتی ہیں اور دیہی علاقوں میں پانی لانا، ایندھن جمع کرنے کا کام بھی عورتیں کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے آمدنی کمانے والے ذرائع میں اْن کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔بہر کیفابھی آغاز ہے لیکن زیادہ توجہ سماجی روایات پر دینا ہو گی جو خواتین کو وراثت میں حق دینے کے خلاف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے میں زیادہ خواتین کے کام کرنے سے کسی حد تک معاشرے میں صنفی عدم توازن تو کم ہو گا لیکن اس کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔ہم جوں جوں عورت کی صلاحیت کو سمجھتے جائیں گے ،ان کے امپاورمنٹ کی طرف قدم بڑھتا چلا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *