نوئیڈا،  گوتم بدھ نگر اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) نے فرضی فارم اور ای- بل بنا کر جی ایس ٹی محکمہ کے ساتھ کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کرنے والے گروہ کے چار ارکان کو گرفتار کیا ہے۔
 
ایس ٹی ایف کے علاقائی افسرراجکمار مشرا نے ہفتہ کو بتایا کہ اس گروہ کے کام کرنے کا طریقہ بہت مختلف تھا۔گروہ کا سرغنہ دہلی کا باشندہ راجیو کمار (35) ہے۔ اسی نے دیگر تین ملزمین نتن بنسل (33)، ستیندر کمار (36) اور وپن (33) کو اپنے ساتھ گروہ میں شامل کیاتھا۔ ایس ٹی ایف نے بتایا کہ ملزم ستیندر پہلے جی ایس ٹی محکمہ میں کنٹریکٹ پر کام کرتا تھا۔ وہیں دوسرا ملزم وپن اب بھی کام کررہاتھا۔
 
راجکمار مشرا نے کہا کہ چاروںملزمینفرضی شناختی کارڈ، گھر کے کرایہکا ایگریمنٹ وغیرہ اور فرضی ای بل بناتا تھا۔ اس گروہ کی دھوکہ دہی سے جی ایس ٹی محکمہ کو کل 55 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان ملزمین نے کل 20فرم اور 615 کروڑ کی فرضی ای بل بنا کر یہ لوٹ کی تھی۔
 
راجکمار مشرا نے بتایا کہ جی ایس ٹی محکمہ نے 26 نومبر 2018 کو خط کے ذریعہ ایس ٹی ایف کو بتایا تھا کہ گریٹر نوئیڈا میں چھ نقلی فرم کیجانبسے فرضی ای بل بنا کر ٹیکس چوری کرنے کا کھیل چل رہا ہے۔جانچ میں بات سچ پائی گئی اس کے بعد سورج پور تھانے میں تین اور بسرکھ تھانے میں ایک مقدمہ درج کیا گیا۔ مشراکے مطابق جمعہ کو گروہ کے سبھی ارکان کے سورج پور جی ایس ٹی آفس میں آنے کی اطلاع ملی تھی۔ اطلاع کے بعد ایس ٹی ایف نے ملزمین کا محاصرہ کرکے چاروں ملزمین کو گرفتار کیا ۔ ان کے پاس سے فارچیونر کار، ایک لاکھ بیس ہزار نقد، لیپ ٹاپ، موبائل، دستاویزات وغیرہ برآمدگئے۔یہ گروہ گاہکوں کو جعلی ای بل دے کر کمیشن وصول کرتا تھا۔
 
 
گروہ کا سرغنہ راجیو کمار صرف بارہویں تک پڑھا ہے۔ وہ پہلے دہلی میں اپنے رشتہ دار کے یہاں ٹیکس اور جی ایس ٹی کا کام کرتا تھا۔ سال 2017 میں راجیو سورج پور جی ایس ٹی آفس کسی کام سے آیا تھا، وہی ستیندر سے اس کی ملاقات ہوئی تھی۔ ستیندر سورج پور واقع جی ایس ٹی کے دفتر میں سال 2014-2017 کے دوران کنٹریکٹ پر ڈرائیور کی نوکری کرتا تھا۔ ستیندر نے راجیو کی دوستی وپن سے کرائی تھی۔ وپن 2013 ہی کمپیوٹر آپریٹر کی ملازمت کرتا تھا۔اسی دوران راجیو نے ستیندر اور وپن کو بتایا کہ وہ اپنے دوست نتن کے ساتھ جعلی فرم بنانے کا کام کرتا ہے اور وہ دونوں اس کی مدد کرکے اچھے پیسے کما سکتے ہیں۔ اس کے بعدیہ لوگ اس کام میں لگ گئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here