کامیڈین ہارٹ اٹیک کی اداکاری کرتے وقت دل کا دورہ پڑنے سے فوت

Share Article

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی زندگی کسی لمحے بھی ختم ہوسکتی ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ کسی انسان کو ایک ایسے وقت پر موت آجائے جب وہ موت سے متعلق سوچ رہا ہو یا مرنے کی اداکاری کر رہا ہو۔

 

 

ایسا ہی کچھ حیران کن اتفاق برطانیہ کے اسٹینڈ اپ کامیڈین اداکار کے ساتھ بھی ہوا جن کی موت دل کا دورہ پڑنے سے عین اس لمحے ہوئی جب وہ ایک اسٹیج ڈرامے کے دوران ہارٹ اٹیک سے متعلق اداکاری کر رہے تھے۔جی ہاں، برطانیہ کے 60 سالہ اسٹینڈ اپ کامیڈین لین کاگنیٹو اسٹیج ڈرامے کی پرفارمنس کے دوران ہارٹ اٹیک سے چل بسے۔

 

Image result for heart attack or heart attack

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق لین کاگنیٹو کی موت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب انہوں نے کچھ لمحے قبل ہی ڈرامے میں ہارٹ اٹیک یا فالج سے متعلق اداکاری کا ایک سین پیش کیا۔لین کاگنیٹو اسٹیج ڈرامے میں براہ راست اداکاری کے جوہر دکھا رہے تھے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ آرام سے اسٹیج پر بیٹھ گئے اور انہوں نے اپنی بانہیں پیچھے کی جانب پھیلا کر آنکھیں بند کرلیں۔

 

 

رپورٹ کے مطابق لین کاگنیٹو کے اس عمل کو ناظرین نے ڈرامے کی سین سمجھا اور انتہائی خاموشی اور غور سے انہیں دیکھتے رہے۔ لین کاگنیٹو جب چند منٹ تک یوں ہی لیٹے رہے تو ان کے ساتھی اداکاروں نے اسٹیج پر آکر انہیں اٹھایا اور انہیں احساس ہوا کہ ان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق تھیٹر انتظامیہ اور اسٹیج اداکاروں نے ایمبولینس سروس اور میڈیکل عملے کو فون کیا تاہم جب تک میڈیکل عملہ پہنچا تب تک کامیڈین چل بسے تھے۔میڈیکل عملے نے تصدیق کی کہ لین کاگنیٹو کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی۔

 

 

کامیڈین کی اسٹیج پر ہونے والی ڈرامائی موت پر ان کے ساتھ اداکاروں نے سوشل میڈیا پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اورانہیں حقیقی کامیڈین قرار دیا۔متعدد برطانوی اداکاروں نے لین کاگنیٹو کو عظیم کامیڈین قرار دیا اور ان کی جانب سے کی جانے والی شاندار کامیڈی کو بھی سراہا۔برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق لین کاگنیٹو نے اسٹیج ڈرامہ شروع کرنے سے قبل ساتھی اداکاروں سے اپنی صحت اور موت سے متعلق مذاق بھی کیا اور کہا کہ اگر ان کی موت اسٹیج پر واقع ہو جائے تو کیا ہوگا؟لین کاگنیٹو کو برطانیہ میں اسٹینڈ اپ کامیڈی کا بادشاہ مانا جاتا تھا، انہوں نے کامیڈی سے متعلق متعدد ایوارڈ بھی جیت رکھے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *