سرینگر : پرتاپ پارک میں کشمیری سکھوں کا احتجاجی دھرنا

Share Article
kashmiri-sikhs
سرینگر: کشمیری سکھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست اور مرکز کی متواتر حکومتوں نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جہاں اقلیتوں کی مدد کے نام پر درجنوں اقتصادی اور دیگر قسم کے پیکیج فراہم کئے ہیں ، وہیں اس ضمن میں سکھ فرقے کو مکمل طور نظر انداز کردیا گیا ہے۔ آج سرینگر کی پرتاپ پارک میں سکھوں کی نمائندہ تنظیم آل پارٹیز سکھ کارڈی نیشن کمیٹی کے اہتمام سے ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ یہ مظاہرین مرکزی اور ریاستی سرکاروں کی جانب سے اب تک اقلیتوں کے نام پر دیئے گئے اقتصادی پیکیجز میں دھاندلیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیق کا مطالبہ کررہے تھے ۔ اس موقعے پر سکھوں کے مقامی لیڈر جگموہن سنگھ رینا نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہی کشمیر میں رہ رہی تمام اقلیتیوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا تھا لیکن جب جموں کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار قائم ہوئی تو اس حکومت نے اس ضمن میں مرکزی سرکار کے احکامات کی ترمیم کرتے ہوئے سکھوں کو اس پیکیج سے باہر رکھا۔ جگموہن سنگھ رینا کا کہنا تھا کہ اب تک کی حکومتوں نے اقلیتوں کے نام پر صرف اور صرف کشمیری پنڈتوں کے لئے پیکیجز دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تیس سال کے ناسازگار حالات کے دوران سکھوں نے وادی میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہم اپنے وطن کو چھوڑ کر نہیں گئے لیکن حکومت نے ہمیں مکمل طور نظر انداز کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں نہ ہی سکھوں کو سیاست میں مناسب نمائندگی ملی ہے اور نہ ہی روز گار اور دیگر معاملات میں کوئی حکومتی مدد حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کشمیری سکھوں نے پچھلی تین دہائیوں کے دوران انتہائی ناسازگار حالات کا مقابلہ کیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ریاستی اور مرکزی سرکاریں انہیں مکمل طور نظر انداز کریں۔رینا نے کہا ہے کہ اس بات کی اعلیٰ سطحی تحقیق ہونی چاہیے کہ مرکزی اور ریاستی سرکاروں نے گزشتہ رتیس سال کے دوران کشمیری مائیگرنٹ پنڈتوں کو کتنے پیکیج دئیے ہیں اور نان مائیگرنٹ اقلیتوں کی کیا مدد کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کی کوئی تحقیق ہوجاتی ہے تو بہت ساری باتیں سامنے آجائیں گی۔انہوں نے کہ ایس آر او425 ( صدر ریاست آڈی نینس) ، جو اکتوبر 2017کو ریاستی سرکار نے جاری کردیا ہے ، کے مطابق پرائم منسٹر پیکیج کے تحت ان کشمیری پنڈتوں کو نوکریاں فراہم کی جائیں گی ، جنہوں نے وادی سے ہجرت نہیں کی ہے۔ جگموہن سنگھ نے کہا ہے کہ یہ کشمیری سکھوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایس آر اور بنیادی طور پر غیر قانونی ہے اور اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔سکھوں کا احتجاجی دھرنا کافی دیر تک جاری رہا ، جس کے بعد کئی افسران نے موقعے پر آکر مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات کو گورنر انتظامیہ کی نوٹس میں لایا جائے گا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *