بہار کو خصوصی ریاست کے درجہ کا مطالبہ نیتی آیوگ میں زوردار طریقے سے اٹھائیں گے: نتیش کمار

Share Article

 

بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ زور دار طریقے سے نیتی آیوگ کے سامنے اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ اس معاملے پر مرکزی حکومت کی پالیسی میں چاہے جو بھی تبدیلی ہوا ہو وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔عوامی گفتگو کے بعد پیر کو پریس کانفرنس میں نتیش کمار نے یہاں کہا کہ بہار کے مفاد اور اس کی ترقی کو دیکھتے ہوئے نیتی آیوگ کی اگلی میٹنگ میں اس مسئلے کو اٹھایا جائے گا۔ بہار کی ترقی کے لئے ضروری منصوبوں پر بھی گفتگو کی جائے گی اور ریاست کو اس پسماندگی سے چھٹکارا دلانے کے مسئلے کو بھی اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔

 

 

بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کی اپنی درخواست پر قائم رہتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ اگرچہ مالیاتی کمیشن کے ایک جملہ پر حکومت نے خصوصی ریاست کا درجہ نہیں دینے کا فیصلہ لے لیا ہو، پھر بھی وہ نیتی کمیشن کی میٹنگ میں بہار کے حق کی آواز کومضبوطی سے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 14 ویں مالیاتی کمیشن نے اپنے ایک جملہ سے اسے مسترد کر دیا تھا، لیکن 15 ویں مالیاتی کمیشن کے سامنے بہار این ڈی اے کے تینوں اتحادیوں نے اپنی بات رکھی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ کسی بھی حال میں بہار کی ترقی سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی ترقی میں مرکزی حکومت مسلسل تعاون کر رہی ہے، لیکن خاص درجہ حاصل کرنا ان کا مقصد ہے۔ مرکزکے ذریعہ اسپانسرڈ منصوبوں کو ختم کرکے اس کی جگہ مرکزی منصوبوں کو شروع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ اس مسئلے کو بھی وہ نیتی آیوگ کے سامنے رکھیں گے۔ ریاست میں خشک سالی کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ ریاست میں پینے کا پانی اور آب پاشی کے مسائل بہت بڑے چیلنج ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے ریاستی حکومت مستعدی سے کام کر رہی ہے اور اس سے منسلک کاموں کی نگرانی سینئر افسر کررہے ہیں۔

 

 

ریاست میں قانونی نظام کے تئیں اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے نتیش کمار نے کہا کہ ریاست کی قانونی نظام اور جرائم کا خاص طور پر جائزہ لینے کے بعد وہ وزراء ، حکام کے ساتھ مسلسل میٹنگیں کر رہے ہیں۔ قانون وانتظام کیلئے اگلی جائزہ 25 جون کو دوبارہ کی جائے گی۔ زمین تنازعہ کے تصفیے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ اس کے حل کے لئے نئے سروے سیٹلمینٹ کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کی بنیاد پر 100 روپے میں رجسٹریشن کیا جا رہا ہے اور بھی کئی کام کرکے زمین تنازعہ سے متعلق مسائل کے حل کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ویشالی ضلع میں تھانوں کے درمیان سرحدی تنازعے کو لے کر ایک لاش کو اٹھانے کے لئے امین کے ذریعے زمین کی پیمائش کرتے ہیں اور اس وقت تک لاش کے پڑے رہنے کے سوال پر وزیر اعلی نے ریاست کے پولیس کمشنر کو اس کی جانچ کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی واقعہ ہو تو جس تھانے کو پہلے نظر آئے اسے کارروائی کرنی ہوگی اور بعد میں اس تحقیق کے لئے متعلق حد میں پڑنے والے تھانہ کے سپرد کرنا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *