کیا اسے ہی کھیل کا جذبہ کہتے ہیں

Share Article

آدتیہ پوجن
ویریندرسہواگ 99رنوں پر بلے بازی کر رہے تھے اور 171رنوں کے چھوٹے لیکن مشکل ہدف کا پیچھا کر رہی ہندوستانی ٹیم جیت سے صرف ایک رن دور تھی۔گیند سری لنکائی ٹیم کے آف اسپنر سورج رندیپ کے ہاتھوں میں تھی اور تمام ناظرین ہندوستان کی جیت کے ساتھ سہواگ کی سنچری کا انتظار کر رہے تھے۔تبھی پوائنٹ پر کھڑے دلشان کی آواز آتی ہے، ’تم چاہو تو نو بال کر سکتے ہو‘۔وکٹ کے پیچھے کھڑے کپتان کمار سنگکارا نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔سنگکارا نے دبے الفاظ میں رندیپ سے کہا کہ سہواگ شاٹ کھیلیں گے تو انہیں رن ملیں گے اور ان کی سنچری پوری ہو جائے گی۔ رندیپ نے ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کا اشارہ سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں کی اور اس کے بعد جو انھوں نے کیا وہ کرکٹ کے نام پر ایک سیاہ دھبہ بن کر رہ گیا۔ رندیپ نے دانستہ طور پر نو بال ڈالی، جس پر سہواگ نے زور دار شاٹ کھیلتے ہوئے چھکا لگایا، لیکن سنچری سے وہ پھر بھی محروم ہی رہے۔ رن گیری دانبولا اسٹیڈیم پر ہوئے اس واقعہ نے شریفوں کا کھیل کہے جانے والے کرکٹ کے کھیل جذبہ کو تار تار کر دیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رندیپ نے سہواگ کی سنچری پوری نہ ہونے دینے کے لئے دانستہ طور پر نوبال پھینکی تھی اور اس کی اس سازش میں ٹیم کے سینئر کھلاڑی بھی شامل تھے۔ سہواگ نے حالانکہ شروعات میں اس واقعہ پر کوئی خاص ردعمل نہیں دیا، لیکن بعد میں انھوں نے سری لنکائی ٹیم کے کھیل جذبہ پر سوال اٹھائے۔ سابق کھلاڑیوں، ماہرین اور کمنٹیٹروں نے بھی اسے غلط قرار دیا۔ چاروں جانب سے ملی سخت تنقید پر سری لنکا کرکٹ بورڈ نے لیپا پوتی کی کوشش میں معاملہ کی جانچ کی اور رندیپ پر ایک میچ کے لئے پابندی لگادی،لیکن رندیپ کو اس کام کے لئے کہنے والے سنگکارا اور دلشان کے خلاف کوئی خاص کارروائی نہیں ہوئی۔دلشان پر معمولی جرمانہ لگایا گیا ،جبکہ سنگکارا کوتنبیہ دے کر چھوڑ دیا گیا۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان سب کے درمیان انٹر نیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ میچ کے دوران آئی سی سی کے میچ ریفری بھی موجود تھے، لیکن انھوں نے قصوروار کھلاڑیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کے بعد آئی سی سی سری لنکائی بورڈ کی فوری کارروائی کے لئے اسے مبارکباد دینے لگی۔سوال یہ ہے کہ میچ ریفری کا کیا کام ہے؟ مقابلہ کے دوران کھیل کے قاعدے قانون کی تعمیل کھیل کے جذبات کے ساتھ کی جائے۔ یہ یقینی بنانا اس کی اولین ذمہ داری ہے،لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ میچ ریفری نے اس واقعہ کے لئے کسی کھلاڑی سے جواب طلب تک نہیں کیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میچ ریفری دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں سے پوچھ تاچھ کرتے اور پھر قصورواروں کے خلاف ضابطہ کی کارروائی کرتے ،جس سے مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آتے، لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اوپر سے سری لنکائی  ٹیم کے کپتان نے ہندوستان پریہ الزام عائد کر ڈالا کہ ہندوستان کرکٹ کنٹرول بورڈ(بی سی سی آئی)آئی سی سی کو اپنے مطابق چلانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
یہ وہی سری لنکا ئی ٹیم ہے جس نے آسٹریلیا میں امپائر ڈیریل ہیئر کے ذریعہ مرلی دھرن کی گیندوں کو بار بار نو بال قرار دئے جانے پر میدان سے واک آئوٹ کر دیا تھا۔اس معاملہ نے اتنا طول پکڑا تھا کہ آئی سی سی کو بالنگ ایکشن سے متعلق اپنے ضوابط کو بدلنا پڑا تھا۔ اگر ایسا نہیں ہوتاتو ٹیسٹ میچوں میں800وکٹ کا پہاڑ کھڑا کر کے ریٹائرمنٹ لینے والے مرلی دھرن بہت پہلے ہی کرکٹ کے میدان سے اوجھل ہو چکے ہوتے۔ اس تنازعہ میں بی سی سی آئی بھی سری لنکا بورڈ کے ساتھ تھا، لیکن آج جب سری لنکائی کھلاڑیوں کے کھیل جذبہ پر الزام عائد ہوئے ہیں تو سری لنکائی بورڈ بی سی سی آئی پر چھینٹا کشی کر رہا ہے۔
یہاں سوال صرف سری لنکائی کھلاڑیوں کے اسپورٹس مین اسپرٹ کا ہی نہیں ہے، آئی سی سی کے ضوابط پر بھی سوال کھڑے کئے جا سکتے ہیں۔ ضابطہ 24.12 کے مطابق ، امپائر کے ذریعہ نو بال کا اشارہ کرتے ہی گیند بازی کرنے والی ٹیم پر ایک رن کا جرمانہ لگایا جائے گا۔ یہ جرمانہ بلے باز کے ذریعہ اس گیند پر بنائے گئے رنوں کے علاوہ ہوگا۔ اس سے یہ صاف ہے کہ نو بال پر ملنے والا رن جرمانہ کے علاوہ ہوگا، لیکن ضابطہ 21.6اے کے تحت، میچ کا نتیجہ نکلتے ہی وہ ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد میدان پر ہونے والا کوئی حادثہ اس کا حصہ نہیں ہوگا۔ امپائر نے اسی ضابطے کا حوالہ دیتے ہوئے سہواگ کو سنچری سے محروم کردیا، کیوں کہ نو بال کے عوض ملے ایک رن سے میچ کا نتیجہ نکل چکاتھا اور اس گیند پر سہواگ کے ذریعہ لگائے گئے چھکے کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی، لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ دونوں ضابطے ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ضابطہ 24.12 کے مطابق اگر نوبال پر بنائے گئے رن جرمانے کے رن سے زیادہ ہیں توپھر سہواگ کے اس چھکے کو تسلیم نہ کرنا بالکل ناجائز ہے۔ ذرا ایک اور مثال دیکھئے، ضابطہ کے مطابق اگر گیندباز وائیڈ گیند پھینکتا ہے تو بلے بازی کرنے والی ٹیم کو ایک اضافی رن ملے گا۔ اگر بلے باز اس گیند پر آؤٹ بھی ہوجائے تو بھی اس کی ٹیم کو اضافی رن ملے گا، لیکن اگر اس ایک رن کی بنیاد پر میچ کا نتیجہ نکل جاتا ہے اور بلے باز آؤٹ ہوجاتا ہے تو اسے آؤٹ نہیں مانا جائے گا۔ یہ دونوں ضابطے ایک دوسرے کے برعکس ہیں۔ اس ضابطے کے مطابق اگر کسی ٹیم کو جیت کے لئے صرف ایک رن کی ضرورت ہے اور بلے باز چوکا یا چھکا لگا دیتا ہے تو اس کے کھاتے میں صرف ایک رن ہی جوڑا جانا چاہئے، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ پھر سہواگ کے کھاتے میں اس چھکے کو نہیں جوڑنا کیسے مناسب ہوسکتا ہے؟
دراصل کرکٹ کے کھیل سے متعلق آئی سی سی کے ضابطوں میں کئی خامیاں ہیں۔ ڈک ورتھ لوئس سسٹم ہو یا چکنگ سے متعلق ضابطے یا پھر کرکٹ میں تکنیک کے استعمال کا سوال ہو، ان سبھی موضوعات پر آئی سی سی کا قانون اور اس کا رویہ واضح ہے۔ ڈک ورتھ لوئس سسٹم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے بعد میں بلے بازی کرنے والی ٹیم کو فائدہ ہوتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسپن گیند بازوں کو 15ڈگری تک کلائی موڑنے کی اجازت دینے سے چکنگ کو بڑھاوا ملتا ہے۔ کرکٹ میں تکنیک کے استعمال کے سوال پر کھلاڑیوں اور آئی سی سی کے درمیان کوئی قابل قبول نتیجہ اب تک برآمد نہیں ہوا ہے۔ میدان پر کھلاڑیوںکے اخلاق اور رویے کے تعلق سے بھی آئی سی سی کا موقف پوری طرح واضح نہیں ہے۔ اکثر ایسے الزام عائدہوتے رہے ہیں کہ کونسل گورے اور کالے کھلاڑیوں کے درمیان امتیاز برتتی ہے۔آئی سی سی کے اس لچکدار رویے کا ہی نتیجہ ہے کہ کرکٹ آج تک گلوبل اسپورٹ نہیں بن سکا ہے۔ دنیا بھر میں کرکٹ شائقین کی تعداد فٹ بال ، والی بال یا رگبی سے کم نہیں ہے، اس کا بازار بھی اتنا مقبول ہوچکا ہے کہ میچوں کی اسپانسر شپ کے لئے اسپانسروں کے درمیان مقابلہ رہتا ہے، لیکن ضابطوں میں یکسانیت کے فقدان کی وجہ سے بیشتر ممالک کرکٹ سے دور رہنے کوہی ترجیح دیتے ہیں، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ آئی سی سی اپنے ضابطوں پر نظر ثانی کرکے اس میں موجود کمیوں اور خامیوں کو دور کرے، تبھی کرکٹ کے محفوظ مستقبل کی امید کی جاسکتی ہے۔ ورنہ سورج رندیپ جیسے کھلاڑیوں کے رویے سے کرکٹ کا میدان داغدار ہوتا رہے گا اور سہواگ جیسے کھلاڑی بار بار ان کی سازشوں کے شکار ہوتے رہیںگے۔

کیا اسے ہی کھیل کا جذبہ کہتے ہیں
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *