damiملائم گھرانے کی چیقلش پر صلح کی جدو جہدکی کوشش کا عوامی اسٹیج ثات ہوا سماج وادی پارٹی کا یوم تاسیس۔تقریب میں نہ کہیں کسی سیاسی پارٹی کی سلور جوبلی کا کوئی بڑا پروگرام دکھا نہ کہیں کوئی مہاگٹھ بندھن کی بڑی شکل لیتی دکھائی دی۔سماج وادی پارٹی کی سلور جوبلی تقریب کا اسٹیج چیقلش کے اونچ نیچ سے بھرا ہوا دکھا۔ایک طرف ریاستی صدر شیو پال یادو خم ٹھوکتے رہے تو دوسری طرف ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے تلوار بھانجتے رہنے کی منادی کی۔ اسٹیج پر بیٹھے سارے پرانے سینئر سماج وادی لیڈر اس چیقلش کے سلور جوبلی کے چشم دید بنے رہے اور پیچ اپ (رفو گری )کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ پارٹی میں عرصے سے جاری چیقلش کے باجود کچھ لوگوں کو امید تھی کہ سماج وادی پارٹی کی سلور جوبلی تقریب میں کچھ بھلا ہوگا۔ مہا گٹھ بندھن کو لے کر کچھ ٹھوس فیصلہ ہوگا،لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ سماج وادی پارٹی تقریب میں شریک رہے سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گوڑا سے لے کر جنتا دل یونائٹیڈ کے سابق صدر شرد یادو تک نے کہاکہ مہاگٹھ بندھن کو لے کر کوئی بات نہیں ہوئی۔ سماج وادی پارٹی کی سلور جوبلی تقریب میں شریک ہونے جتنے بھی لیڈر آئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ اکھلیش یادو کی طرف ہی اپنا رجحان دکھاتے رہے اور اکھلیش سے ہاتھ ملا کر یا ہاتھ کھڑا کر کے فخر محسوس کرتے رہے۔لالو یادو رہے ہوں یا دیو گوڑا، سب نے ملائم کے بعد اکھلیش پر ہی زیادہ توجہ دیا۔ شیو پال ان کا رتبہ پانے میں دوسری لائن میں رہے۔ پوری ریاست اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پورا ملک سماج وادی پارٹی کے یوم تاسیس کو دو پروگراموں کی کسوٹی پر رکھ کر دیکھ رہا تھا۔ ایک وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی’ وکاس یاترا ‘اور دوسرا شیو پال کا سلور جوبلی پروگرام ۔ دونوں پروگراموں کے درمیان حتمی تقسیم کا خاکہ کھینچ گیا تھا۔ اکھلیش نے ’وکاس یاترا ‘سے شیو پال اور ان کی ٹیم کو باہر رکھا تو سلور جوبلی پروگرام سے شیو پال نے اکھلیش اور ان کی ٹیم کو باہر رکھا۔ دونوں لوگ سماجوادی پارٹی کو اپنی اپنی طاقت دیکھا رہے تھے۔’وکاس یاترا‘ میں جمع بھیڑ سلور جوبلی تقریب میں جمع بھیڑ سے مختلف تھی،لیکن زیادہ مستعد اور موثر دکھ رہی تھی۔ شیو پال کے پروگرام میں جتنے بھی سینئر لیڈر باہر سے آئے تھے، وہ سب اکھلیش کو نظر انداز نہیں کرپائے۔سارے لوگ اکھلیش یادو کو گڈ ہیومر میں رکھتے ہوئے معاہدے کی کوشش ایسے کررہے تھے کہ جیسے پارٹی کے لئے اکھلیش ہی زیادہ ضروری ہوں۔ سیاسی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ اگر شیوپال کی اہمیت زیادہ سمجھی جاتی تو اکھلیش کو سیاسی طور پر نظر انداز کردیا جاتا ،لیکن ایسا نہیں ہوا۔ حالانکہ شیو پال کو اس کی امید تھی ، اور ایسا نہیں ہونے سے ان کی مایوسی عوامی طور پر ظاہر بھی ہوئی۔ اس سلسلے میں ان کے منہ سے ایسی بھی باتیں نکل آئیں جسے سیاسی طور پر غیر سنجیدہ بیان کہاجاسکتاہے۔ شیو پال نے کہا کہ ’کچھ لوگوں کو عہدہ قسمت سے مل جاتا ہے،کچھ لوگو کو محنت سے ملتا ہے اور کچھ لوگوں کو وراثت میں مل جاتاہے،وہیں کچھ لوگوں کو زندگی بھر کام کرنے کے بعد بھی کچھ نہیں ملتا۔ آج بھی ہم جانتے ہیں کہ اس سرکار میں بہت لوگ نظر انداز ہیں اور کچھ لوگوں نے ذرا سی چاپلوسی کرکے اقتدار کا پورا مزہ لے لیا جنہوں نے جان دی، انہیں کچھ نہیں ملا۔
بہر حال ہم جیسے جیسے خبر کی تفصیل میں جائیں گے ،سماج وادی پارٹی کی زمینی اصلیت کا خود بخود پتہ چلتا جائے گا۔ سماج وادی پارٹی کے 25ویں سالانہ یوم تاسیس تقریب کے پروگرام سے ہی ہم بات شروع کرتے ہیں۔ اس پروگرام میں پروگرام کا حصہ صرف اتناہی تھا کہ اس میں ملک کے سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گوڑا ، صدر راشٹریہ جنتا دل لالو پرساد یادو، راشٹریہ لوک دل سربراہ چودھری اجیت سنگھ، جنتا دل (یو) کے سابق صدر شرد یادو ، انڈین نیشنل لوک دل کے لیڈر ابھے چوٹالہ، سینئر قانون داں اور راجیہ سبھا ممبر رام جیٹھ ملانی ، سینئر صحافی سنتوش بھارتیہ جیسی کئی بڑی شخصیتیں موجود تھیں جن کا سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو اور ریاستی صدر شیو پال یادو نے استقبال کیا۔ ان میں سے کئی لیڈروں نے تقریر بھی کئے،لیکن کسی بھی تقریر کا کوئی سیاسی مطلب نہیں نکلا۔ ہاں لیڈروں نے اتنا ادب ضرور دکھایا کہ ملائم کو سب نے لیڈر مانا۔ ملائم کی سینئریٹی کے ناطے یہ ادب کا تقاضہ تھا۔ مہا گٹھ بندھن کے بارے میں باہری شور شرابہ بھلے ہی ہوتا رہا،لیکن اس کا کوئی اثر تقریب میں نہیں دکھا۔ ممکنہگٹھ بندھن کے اہم جزو اور عنصر جنتا دل (یو) کے قومی صدر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو مدعو کئے جانے کے باوجود غیر موجودگی اور کانگریس کو دعوت نہ دینا،دوسری ہی سیاسی سمت کا اشارہ دے رہا ہے۔
سماج وادی پارٹی کے سلور جوبلی تقریب کا نظم شیو پال نے سنبھال رکھا تھا، اس لئے مہمانوں کا استقبال انہیں ہی کرنا تھا۔ تقریب میں آئے لیڈروں کا استقبال کرتے ہوئے شیو پال قصداً یا بلا قصد پھٹ پڑے اور سماج وادی پارٹی کی چیقلش سلور جوبلی کو سمیٹ لے گئی ۔ شیو پال نے اپنے استقبالیہ تقریر میں اکھلیش یادو پر جم کر حملہ شروع کردیا۔ شیو پال بولے کہ ’ مجھے وزیر اعلیٰ کا عہدہ نہیں چاہئے۔ ضرورت پڑنے پر میں اپنا خون بھی دینے کو تیار ہوں۔ میری کتنی بھی توہین کرلو، اف نہیں کروںگا۔ خون مانگوں گے وہ بھی دے دوں گا۔ ‘ اسٹیج پر شیو پال کا یہ اظہار بالکل ہی غیر متوقع تھا،لیکن شیو پال کے حامی لیڈروں کا کہنا ہے کہ شیو پال کے لئے وہی سب سے صحیح وقت تھا۔
شیو پال سنگھ نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کا اسٹیج سے استقبال ضرور کیا لیکن کہا کہ پارٹی کو یہاں تک لانے میں پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو کی پوری زندگی کھپ گئی۔ میں بھی ان کے ساتھ لگا رہا۔ اس دوران مجھے کافی کچھ جھیلنا بھی پڑا۔ میری جتنی بھی توہین کر لینا، چاہے برخاست کر دینا۔لیکن مجھے کبھی بھی وزیر اعلیٰ نہیں بننا ہے۔ شیو پال نے کہا کہ بطور وزیر ہم نے اکھلیش کا بہت تعاون کیا۔ ابھی بھی ہماری صلاحیت کافی زیادہ ہے۔ آپ جتنی قربانی چاہیں گے ،اتنی دیںگے۔ خون بھی دیںگے۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش نے بہت کام کیا۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ وزیر کے طور پر کافی کام کیا۔ اس سے پہلے بھی تین مہینے کے کام کو ختم کرنے میں لوگوں نے کئی سال لگا دیئے۔ ہم نے ریاست کے 25 کوآپریٹیو بینک بند ہونے سے بچائے۔ ریاست میں 36 سال سے ریونیو کوڈ لاگو نہیں ہو پا رہی تھی۔ ریاست کے کئی افسروں نے بہت روڑے اٹکائے۔ اس کے بعد بھی ہم نے لاگو کرا دیا۔ میں نے اپنے محکموں میں بہت کام کیا۔ سینچائی اور ریونیو ڈپارٹمنٹ میں بہت کام کیا۔
شیو پال نے اکھلیش پر سیدھے سیدھے نشانہ لگایا۔ کہا کہ کچھ لوگوں کو عہدہ نصیب سے مل جاتاہے۔کچھ لوگوں کو محنت سے ملتا ہے اور کچھ لوگوں کو وراثت میں مل جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو زندگی بھر کام کرنے کے بعد بھی کچھ نہیں ملتا۔ سماجوادی سرکار میں بہت لوگ نظر انداز ہیں اور کچھ لوگوں نے ذرا سی چاپلوسی کرکے اقتدار کا پورا مزہ لے لیا، جنہوں نے جان دے دی، انہیں کچھ نہیں ملا۔ شیو پال یادو نے پھر یہ کہتے ہوئے بات سنبھالی کہ وہ لیڈروں کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کچھ گھس پیٹ لوگ آگئے ہیں ۔ان سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ شیو پال کا صاف اشارہ تھا کہ اکھلیش کے حامی پارٹی میں گھس پیٹ کرنے والے ہیں۔
اس پر وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ نیتا جی نے یہ پارٹی بہت جدو جہد اور خون پسینہ بہا کر بنائی ہے۔ میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔ ہم نے کافی لمبا راستہ طے کیا ہے اور اب ہم سماج وادی پارٹی کو نئی سطح پر لے جائیں گے ۔ہمیں ساتھ مل کر یہ کام کرناہوگا۔ کسی کو امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی کو امتحان دینا ہے تو میں تیار ہوں۔ اکھلیش نے ڈاکٹر لوہیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ لوہیا جی نے کہا تھا کہ لوگ سنیں گے ضرور لیکن میرے مرنے کے بعد ،میں اسے دوسرے لفظوں میں کہہ رہا ہوں کہ لوگ سنیں گے ضرور لیکن سماج وادی پارٹی کے بگڑنے کے بعد‘۔ اشاروں میں اپنا موقف صاف کرتے ہوئے اکھلیش نے کہا کہ آپ لوگ مجھے تلوار عطیہ کرتے ہو لیکن چاہتے ہو کہ تلوار نہیں چلائوں۔ نظریہ کو بچانے کے لئے تلوار چلانا بھی ضروری ہوتا ہے۔
تقریب میں گائتری پرجا پتی کے ہاتھوں ملائم کو گدا اور شیو پال اور اکھلیش کو تلواریں عطیہ دی گئی تھیں۔ عطیہ میں ملی تلوار کو ہی اشارہ بنا کر اکھلیش نے اپنی بات کہہ دی۔ اکھلیش نے کابینی وزیر گائتری پرجاپتی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ’ پرجا پتی ہمیں عطیہ میں تلوار دیتے ہو اور کہتے ہو کہ میں تلوار نہ چلائوں، ایسا کیسے ہو سکتاہے‘۔اکھلیش نے اشاروں میں بتایا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے اختیارات کا استعمال کریں گے۔کیونکہ شیو پال بھی صدر کے اختیارات کا پورا استعمال کررہے ہیں۔ اکھلیش نے بھروسہ دلایا کہ سماج وادی پارٹی کو آئندہ اسمبلی انتخابات میں جیت حاصل ہوگی اور سماج وادی پارٹی کی ہی سرکار بنے گی لیکن ہمیں متحد ہوکر رہنا ہوگا۔
سماج وادی پارٹی کے سلور جوبلی تقریب میں مہمان بن کر آئے راشٹریہ جنتا دل سپریمو لالو پرساد یادو رشتہ دار کے طور پر اکھلیش یادو اور شیو پال یادو کے بیچ صلح کرانے کی کوشش ہی کرتے رہ گئے۔ اس کے لئے لالو نے رشتہ داری کا حوالہ دیا،پھر برادری کا حوالہ دیا ،اکھلیش سے شیو پال کا پیر چھوایا، اکھلیش کے سر پر شیو پال کا ہاتھ رکھوایا، اس کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔
سماج وادی پارٹی کی سلور جوبلی تقریب میں بھی ملائم یہ کہنے سے نہیں چکے کہ سماج وادی پارٹی صرف اقتدار میں آنے اور زمینوں پر قبضہ کرنے کے لئے نہیں بنی ہے۔ ملائم یہ لگاتار ہی کہتے رہے ہیں کہ اکھلیش سرکار کے کئی وزیر اور کئی سماج وادی پارٹی لیڈر زمینوں پر غیر قانونی قبضہ کرانے کے دھندے میں ملوث ہیں۔ حالانکہ ملائم نے یہ بات بھی کہی کہ یو پی سرکار نے اپنے دور حکومت میں موثر کام کیا ہے۔ پھر یہ بھی بولنے لگے کہ آج سب سے زیادہ ظلم مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ سماج وادی سرکار میں بھی ہو رہا ہے۔
سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گوڑا نے ملائم کے تئیں پورا بھروسے کا اظہار کیا اور کہا کہ فرقہ وارانہ طاقتوں سے مقابلے کے لئے ہمیں ملائم کی قیادت میں لڑائی لڑنی ہے۔ میں 1997 میں چٗھوٹی ہوئی گاڑی ہمیں دوبارہ پکڑنی ہے۔ دیو گوڑا نے یہ بھی کہا کہ فرقہ وارانہ طاقتوں سے لڑنے میں سماج وادی پارٹی ہی لینڈ مارک پارٹی ہے۔ فرقہ وارانہ طاقتوں سے لڑنے کے لئے سیکولر لوگوں کو ساتھ آنا ہی ہوگا۔
راشٹریہ لوک دل کے چیف چودھری اجیت سنگھ نے کہا کہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنا ہے، تو ملائم کو مقامی پارٹیوں کو ساتھ لاکر لڑنا ہوگا۔ ہمیں 2019 کے لئے تیار رہنا ہے۔ جنتا دل (یو ) کے سابق صدر شرد یادو نے ملائم سنگھ کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان پر تاریخ بدلنے کی ذمہ داری ہے۔ پورے ملک کی نظر یو پی پر ہے۔ شرد یادو نے کہا کہ ملائم میں سماج وادیوں اور چودھری چرن سنگھ وادیوں کو متحد کرنے کی قابلیت ہے ۔ اینولو چیف ابھے چوٹالہ نے بھی مہا گٹھ بندھن کو ضروری بتایا۔ راشٹریہ جنتا دل کے چیف لالو پرشاد یادو نے کہا کہ بیٹھتے بیٹھتے ہی گٹھ بندھن بنتا ہے۔ ملائم کی ذمہ داری ہے کہ سب کو سمجھائیں۔ نیتا جی سب جانتے ہیں، بڑھیا علاج کر دیں گے۔
سماج وادی پارٹی کے سلور جوبلی تقریب کے اسٹیج سے سبھی لیڈروں نے مہا گٹھ بندھن کی ضرورت پر زور دیا،لیکن اسٹیج کے نیچے اصلی سیاسی زمین پر مہا گٹھ بندھن کی بات آگے نہیں بڑھی۔ سابق وزیر اعظم اور جنتا دل (ایس ) کے لیڈر ایچ ڈی دیو گوڑا سے جب الگ سے مہا گٹھ بندھن کے امکانات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اتر پردیش ، گجرات اور پنجاب کے انتخابات کے بعد ایسے حالات شاید پیدا ہوں۔ فی الحال ہم یہاں سماج وادی پارٹی کی دعوت پر سلور جوبلی تقریب میں حصہ لینے آئے ہیں۔ابھی گٹھ بندھن پر کوئی بت نہیں ہوئی۔
جنتا دل یونائٹیڈ کے لیڈر شرد یادو نے کہا کہ سماج وادی پارٹی سے پرانے رشتے ہیں اس لئے وہ تقریب میں حصہ لینے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گٹھ بندھن کو لے کر ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ اس بارے میں ملائم سنگھ یادو بہتر بتاسکتے ہیں۔ شرد یادو نے کہا کہ مہا گٹھ بندھن کے بارے میں ملائم سے پوچھیں۔ مہا گٹھ بندھن کو لے کر ابھی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ آگے کیا ہوگا، دیکھتے ہیں۔
اکھلیش نے اپنے خطاب میں کہا بھی کہ یہ’ وکاس یاترا‘ ہی ہماری سرکار بنوائے گی۔ اکھلیش نے کہا کہ یو پی کو ترقی کے راستے پر لے جانے اور عوام کی بھلائی کے لئے گزشتہ ساڑھے چار سال میں سرکار نے کئی تاریخی کام کئے ہیں۔ انہی کی بدولت ریاست میں ایک بار پھر سماج وادی پارٹی کی سرکار بنے گی۔ آگرہ، لکھنو ایکسپریش وے، لکھنو میٹرو، سماج وادی پنشن، لیپ ٹاپ تقسیم سمیت کئی منصوبے چلائے گئے جس کا سیدھا فائدہ عوام کو ملا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کی سرکار نے شہروں کو گائوں سے جوڑنے کا کام کیا ہے۔ ضلع دفتروں کو بھی گائوں سے جوڑنے کا کام کیا گیا ہے۔ عوام کو بجلی مہیا کرائی جارہی ہے۔ سماج وادی پارٹیپنشن یوجنا کے تحت 55لاکھ لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ اکھلیش کی’ وکاس یاترا ‘کو ان کی بیوی ممبر پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے بھی خطاب کیا۔
سلور جوبلی تقریب میں جمع بھیڑ اسٹیج پر موجود لیڈروں کو دیکھ کر آپس میں ہی یہ سوال دوہراتی رہی کہ یہ سب تو ہیں، لیکن وہ کہاں ہیں؟لوگوں کا سوال امر سنگھ ،پروفیسر رام گوپال یادو، اعظم خاں اور اکھلیش کے ساتھ ہمیشہ سایہ کی طرح رہنے والے راجیندر چودھری کی غیر موجودگی کو لے کر تھا۔ سلور جوبلی اسٹیج پر راجیہ سبھا ممبر بینی پرساد ورما، ریوتی رمن سنگھ، کابینی وزیر بلرام یادو، اسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے، سماج وادی پارٹی کے قومی نائب صدر کرن مئے نندا، ممبر پارلیمنٹ ڈمپل یادو ، دھرمیندر یادو، ابو اعظمی سمیت کئی دیگر لیڈر موجود تھے،لیکن وہ نہیں تھے جنہیں لوگ اسٹیج پر دیکھنا چاہتے تھے۔لوگوں کو وہ دھکا بھی یاد رہے گا جو شیو پال نے اکھلیش حامی وزیر کو لگایا ۔اسٹیج پر بول رہے اکھلیش حامی جاوید عابدی کو شیو پال یادو نے دھکا دے کر ہٹا دیا۔ شیو پال کا یہ دھکا صلح کی کوششوں کو دھکا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here