جنوبی ہند کی سیاست میں گرمی کرونا ندھی کے بیٹے الا گری کی بغاوت

Share Article

نیرج سنگھ
p-4جنوبی ہند کی سیاست ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ درون مُنیتر کشگم (ڈی ایم کے) کے سربراہ کرونا ندھی نے اپنے بیٹے ایم کے الاگری کوپارٹی سے نکال دیا، تو الاگری باغیانہ تیور اپناتے ہوئے اپنی ہی پارٹی کو نمٹانے اور پارٹی میں پھیلی بدعنوانی کی قلعی کھولنے کا اعلان کر رہے ہیں۔دراصل، یہ سیاسی الٹ پھیر کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ آخر اپنے ہی باپ اور اپنی ہی پارٹی کے خلاف الاگری کیوں اتر آئے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ آخر کرونا ندھی اپنے ہی بیٹے کو پارٹی سے کیوں نکال رہے ہیں۔ ان سبھی سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں پہلے کرونا ندھی کے خاندان اور ڈی ایم کے کی سیاست کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ڈی ایم کے خاندان میں چل رہی سیاسی جانشینی کی لڑائی پچیس سال پرانی ہے۔ کرونا ندھی نے چار شادیاں کی ہیں۔ ریاستی اسمبلی اور ملک کی پارلیمنٹ میں اس کنبے کے مجموعی طور پر16 نمائندے ہوتے ہیں، جن میں ان کے بیٹے، بیٹیاں، داماد اور ان کی بیوی کے رشتہ دار شامل ہیں۔ ایم کے الاگری اور ایم کے اسٹالن ایک ہی ماں دیالوامّل کے بیٹے ہیں۔ اس کنبے کے سیاست کو قریب سے جاننے والے سیاسی تجزیہ کار یہ مانتے ہیںکہ کروناندھی اپنے چھوٹے بیٹے اسٹالن کو شروع سے ہی زیادہ پیار کرتے تھے اور ان کے بڑے بیٹے الاگری کو ان کا یہ پیار ہمیشہ کھٹکتا تھا۔ تھل پتی (ایم کے اسٹالن، پارٹی کارکنوں میں اسی نام سے مشہور ہیں) نہ صرف باپ کے چہیتے ہیں، بلکہ ڈی ایم کے کارکنوں میں بھی الاگری کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کروناندھی کی ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ اسٹالن ہی ان کا سیاسی جانشین بنے، لیکن ان کے سامنے بھی وہی مسئلہ درپیش تھا، جو جانشینی کے معاملے میں دوسرے سیاسی خاندانوں میں دکھائی دیتا ہے۔ پہلے بھیبڑے بڑے سیاسی گھرانوں میں جانشینی کے تعلق سے بٹوارے ہوئے ہیں۔ ہریانہ میں ایسی ہی مشکلیں چودھری دیوی لال کے ساتھ پیش آئی تھیں، جنھیں اپنے بیٹے رنجیت سنگھ اور اوم پرکاش میں سے کسی ایک کو اپنی وراثت سونپنی تھی۔ ایسی ہیپریشانی کچھ دنوں بعد اوم پرکاش چوٹالہ کو پیش آئے گی، کیونکہ ان کے بھی دو بیٹے اجے اور ابھے ہیں۔ ہریانہ میں بھجن لال اور بنسی لال بھی ایسی ہی مشکلوں سے دوچار ہوچکے ہیں۔ مہاراشٹر میں شوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کو بھی کم و بیش ایسے ہے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب انھوں نے پارٹی کی کمان اپنے بھتیجے کے بجائے بیٹے کو سونپی، تو راج ٹھاکرے بغاوت پر اتر آئے اور انھوں نے اپنی الگ پارٹی بنالی۔ لالو پرساد یادو کے سامنے بھی یہ مشکل ہے کہ وہ اپنی سیاسی کمان تیج پرتاپ کو سونپیں یا تیجسوی کو۔
بہر حال، الاگری کسی بھی قیمت پر نہیں چاہتے تھے کہ اسٹالن جانشین بنے، اس لیے انھوں نے ہراس آواز کودبانے کی کوشش کی، جو اسٹالن کے حق میںاٹھ رہی تھی۔ کرونا ندھی کے بھتیجے آنجہانی مراسولی مارن کے اخبار ’دناکرن‘ نے 2007 میں ایک سروے شائع کیا تھا، جس کے مطابق، کروناندھی کے جانشین کے روپ میں عوام کی پہلی پسند اسٹالن تھے۔ اس سے ناراض ہو کر الاگری کے حامیوں نے اخبار کے دفتر پر حملہ کردیا، جس میں کئی لوگ مارے گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد کرونا ندھی اور مارن فیملی کے تعلقات بھی خراب ہوئے۔ دیاندھی مارن کو انھوں نے وزارت مواصلات سے ہٹادیا اور ان کی جگہ اے راجہ کو وزیر بنایا۔ اس واقعہ کے بعد کروناندھی نے کلاندھی مارن سے بات چیت کرنا بھی بند کردی۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کروناندھی، اسٹالن کی تنظیمی صلاحیت کے ہمیشہ ہی قائل رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ الاگری بولتے زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے اکثر سیاسی بھولیں کر بیٹھتے ہیں، جبکہ اسٹالن کا پارٹی کیڈر پر کافی کنٹرول ہے۔ ان کی قیادت میں اے ڈی ایم کے سرکار کے خلاف تامل ناڈومیں چلایا گیا ’جیل بھرو آندولن‘ کافی کامیاب ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 1990کے وسط میں کروناندھی نے انھیں (اسٹالن کو) چنئی کا میئر بنایا اور پھرپچھلی ڈی ایم کے سرکارمیں اسٹالن کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا ۔ حالانکہ اس وقت جانشینی سے متعلق کسی اعلان سے کروناندھی نے پرہیز کیا تھا۔ اس کے بعد حالات ایسے بنے کہ کروناندھی کے سامنے ایک متبادل کے طور پر اسٹالن ہی بچے، کیونکہ مرکزی وزیر کے روپ میں ایم کے الاگری کی پہچان ایک غیر فعال وزیر کے طور پرہوئی اور ان کے بیٹے دورئی دیاندھی کروڑوں روپے کیغیر قانونی کانکنی کے معاملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ان کی بیٹی کنی موجھی 2جی معاملے میں اپنی ساکھ گنوا چکی ہے اور مارن کنبہ بھی اس وقت ڈی ایم کے سپریمو کے زیادہ قریب نظر نہیں آرہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی میں بھی ایسا کوئی بھی چہرہ نہیں ہے، جس کی ریاست میں دھمک ہو اور وہ اپنے دم پر الیکشن جتانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
کروناندھی کے اعلان پر پارٹی میں مخالفت کا سُر ان کے بیٹے الاگری نے ہی اٹھایا ہے۔ ان کے علاوہ کوئی اور مخالفت نہیں کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کے باقی لیڈر پارٹی سپریمو کے عہدے کا خواب ہی نہیں دیکھتے، کیونکہ پارٹی کو خاندانی کاروبار کی مانند چلایا جاتا ہے۔ الاگری چونکہ اسی خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور پارٹی سُپریمو کے عہدے پر اپنا برابر کا حق سمجھتے ہیں، اس لیے ان کے تیور باغیانہ ہیں۔ ایک سال پہلے بھی وہ اس بات کو لے کر برہم ہوئے تھے اورانھوں نے مرکزی وزیر اور تنظیم کے سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ انھوں نے کہا تھا کہ ڈی ایم کے کوئی شنکراچاریہ کا مٹھ نہیں ہے، جہاں جانشین کا اعلان ہو۔ 2جی معاملے میں بھی دونوں بھائیوں کے درمیان نااتفاقی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ کنی موجھی کی گرفتاری پر الاگری خاموش رہے، جبکہ کروناندھی اور اسٹالن تہاڑ جیل میں کنی موجھی سے کئی بار مل کر آئے۔ الاگری نے اس وقت پارٹی صدر کا الیکشن لڑنے کا بھی اعلان کر دیا تھا۔ اس سے کروناندھی کافی ناراض ہوئے تھے۔تب ان کی بیوی دیالو امّل نے انھیں سمجھایا کہ فی الحال وہ ایسا نہ کریں، ورنہ دونوں بیٹوں کے بیچ ٹکراؤ بڑھ جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت کروناندھی مان گئے تھے اور انھوں نے اسٹالن کو جانشین بنانے کا اپنا اعلان ملتوی کردیا تھا۔ تب ایک منصوبہ کے تحت کروناندھی نے الاگری کو چنئی سے دور رکھنے کے لیے جنوبی تامل ناڈو میں پارٹی کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ اس کے لیے انھیں خاص طور سے تنظیم کا سکریٹری بنایا گیا، لیکن الاگری کی وہاں بھی نہیں چلی۔ پھر جب اسٹالن نے وجے کانت کے ساتھ سیٹوں کے تال میل کی بات کرنی شروع کی، تو الاگری نے ان کی مخالفت کرنا شروع کر دی۔ انھیں لگا کہ وجے کانت کے ساتھ جانے سے جنوبی تامل ناڈو میں ان کی بنیاد ہیختم ہوجائے گی۔ انھیں اس معاملے میں اپنے بھائی اسٹالن کی سازش نظر آئی۔لہٰذاانھوں نے وجے کانت کے خلاف پھر بیان بازی شروع کر دی۔ جواب میں وجے کانت نے کہا کہ وہ 2011میں ہی ڈی ایم کے کے ساتھ تال میل کرنے کا من بنا چکے تھے، لیکن الاگری کے سبب انھوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔
اسٹالن ایسے ہی ایک موقع کی تلاش میں تھے۔ انھوں نے پہلے سے ہی الاگری کے حامیوں کو توڑنا شروع کر دیا تھا اور پارٹی کی مُدرے ا کائی بھی تحلیل کر دی تھی۔ الاگری کی بیان بازی کے بعد اپنی بہن کنی موجھی کے ساتھ انھوں نے کروناندھی سے ملاقات کر کے کہا کہ اب پانی سر سے گزر رہا ہے۔ اگر پارلیمانی انتخاب بھی ہار گئے، تو اگلی سرکار اور زیادہ دقتیں پیدا کرے گی۔ واضح ہو کہ 2جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں اے راجہ اور کنی موجھی، دونوں ہی جیل جاچکے ہیں اوریہ معاملہ عدالت میںزیر سماعت ہے۔ اکثر دونوں بیٹوں میں سمجھوتہ کرانے والی ماں دیالو امّل ان دنوں کافی بیمار چل رہی ہیں، فی الحال سمجھوتہ کی کوئی تصویر بھی نظر نہیں آتی اور کروناندھی نے اسٹالن کو اپنا جانشینبنانے کا اعلان کردیا۔ الاگری کے باغیانہ تیور جاری ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے باپ کو گمراہ کیا جارہا ہے، لیکن اس کے جواب میں کروناندھی کا یہ بیان سمجھ سے باہر ہے کہ انھوں نے الاگری کو پارٹی کوپارٹی سے اس لیے نکالا، کیونکہ انھوں نے کہا تھا کہ تین مہینے میں اسٹالن کی موت ہو جائے گی۔ بھلا ایک باپ یہ کیسے سن سکتا ہے۔
بہر حال معاملہ جو بھی ہو، کروناندھی نے جس خاندانی سیاست کے برگد کومضبوطی دے رکھی تھی، وہ اب کمزور پڑ رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الاگری ہر بار کی طرح کسی آفر کے ساتھ پارٹی میںواپسی کرتے ہیں یا پھر بغاوت کے ساتھ ڈی ایم کے، کے لیے مہلک ثابت ہوتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *