سوامی اسیما نند سے چند سوالات

Share Article

جیساکہ سب کو معلوم ہے کہ گزشتہ 16 اپریل 2018 کو حیدرآباد کی مکہ مسجد بلاسٹ کیس کے ملزم سوامی اسیما نند دیگر 4ملزمین سمیت حیدر آباد کی این آئی اے عدالت کے ذریعے بے داغ قرار دیے گئے ہیں۔ ویسے یہ گزشتہ 23 مارچ کو حیدرآباد کی میٹروپولیٹن سیشنز عدالت کے ذریعے دی گئی ضمانت کے تعلق سے کارروائیوں کے مکمل کیے جانے کے بعد 30 مارچ کو چنچل گڈا جیل سے باہر آگئے تھے۔ یہ 2007 کے اجمیر بلاسٹ کیس میں جے پور کی ایک عدالت کے ذریعے رہا کیے جانے کے بعد 19 نومبر 2010 کو مکہ مسجد بلاسٹ کیس میں ہری دوار سے گرفتار کیے گئے تھے اور چنچل گڈا جیل میں رکھے گئے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ 18 مئی 2007 کو ہوئے مکہ مسجد بلاسٹ میں9 افراد جاں بحق اور 58 زخمی ہوئے تھے۔ اس کیس میں یہ مزید 4 افراد کے ساتھ گرفتار کیے گئے تھے۔ ان کا کیس ابتدا میںسی بی آئی کو دیا گیا تھا مگر بعد میں2010 میںیہ این آئی اے کو سونپا گیا۔
سوامی اسیما نند کا اصل نام نبا کمار سرکار ہے۔ یہ جتن چٹرجی اور اومکار ناتھ کے نام سے بھی پکارے جاتے رہے ہیں۔ یہ مغربی بنگال کے ہگلی ضلع میں کمر پکار میں والدین ببھوتی بھوشن اور پرمیلا سرکار کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ ان کا سنگھ پریوار سے تعلق بتایا جاتا ہے۔
سوامی اسیما نند اب ایک آزاد شخص ہیں۔ مگر یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ان پر اجمیر بلاسٹ کے علاوہ سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ کے بھی الزامات تھے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انھوں نے 2011 میںیہ سب الزامات قبول کیے تھے۔ ان کے اس ا قبالیہ بیان کے بعد ایک مخصوص حلقے میںاودھم مچ گیا تھا۔ ان پر چاروں طرف سے دباؤ پڑنے لگا تھا کہ اپنا بیان واپس لیں۔خود ان کے وکیلوں نے بیان کی لیپا پوتی کی اور کہا کہ سوامی اسیما نند نے یہ اقبالیہ بیان سی بی آئی کے دباؤ میں آکر دیا ہے۔ ہریانہ میں پنچکولہ کی عدالت میںبارہا ایسا ہوا لیکن سوامی اسیما نند نے اپنا بیان نہیںبدلا۔ بار بار اپنے ضمیر کا حوالہ دیا مگرایک روز وہ وقت بھی آگیا جب انھیں دباؤ اور مشیروں کے سامنے سرینڈر کرنا پڑا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اب جبکہ سوامی اسیما نند کو دھماکوں کے الزامات سے بری کر دیا گیا ہے، یہ نہیں معلوم کہ 11 برس قبل انھوں نے جو اقبال جرم کیا تھا، اپنے ضمیر اور قلب کی آواز پر، اس کی اب کیا کیفیت ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا ا ب انھیںحیدر آباد کے شیخ عبدالکلیم، اس کی خدمات اور اس کی باتیں یاد آتی ہیں اور کیا وہ احساس بھی دل میںکبھی ابھرتا ہے جس نے 2011 میںانھیںاقبال جرم کرنے پر مجبور کیا تھا اور وہ کیا کیفیت بھی کبھی دل و دماغ پر طاری ہوتی ہے جو کلیم کی باتیںسننے کے بعد جیل میں راتوںکو طاری ہوئی تھی۔
عیاںرہے کہ سوامی اسیما نند نے اپنا اقبالیہ بیان 18 دسمبر 2010 کو دہلی کے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ دیپک ویاس کے سامنے دیا تھا جسے تہلکہ میگزین نے اسی وقت اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیا تھالیکن عام میڈیا میںاس کی خبر 8 جنوری کو آئی۔ اس وقت سوامی اسیما نند کا یہ اقبال جرم یقینا غیر معمولی اور اہم تھا لیکن اس سے بھی زیادہ اہم جیل کے اندر ان کا وہ تجربہ تھا جو اس بیان کا محرک بنا تھا۔ دراصل ہوا یہ تھاکہ چنچل گڈا جیل میں شیخ عبدالکلیم نامی ایک 21 سالہ قیدی سے ملاقات اور ربط نے سوامی اسیما نند کے بقول خود، ان کے دل و دماغ کی دنیا بدل دی۔ شیخ عبدالکلیم جیل کے 670 قیدیوں میں سے ان آٹھ دس قیدیوں میںتھا جن کے بہتر طرز عمل کے سبب جیل کے عملے نے انھیں اپنے ساتھ لگا رکھا تھا۔ شیخ عبد الکلیم سوامی اسیما نند کے ساتھ نہایت ادب سے پیش آتا تھا، خدمت کرتا تھا، اپنے گھر سے آئے ہوئے کھانے میںانھیں شریک کرتا تھا اور ان کی ضروریات معلوم کرتا رہتا تھا۔ اس کی اس خوش اخلاقی سے سنگھ پریوار کے اس شخص کے دل کی کیفیت بدلنے لگی۔ پھر جب سوامی اسیما نند کو جیل کے اسٹاف سے معلوم ہوا کہ کلیم اس سے قبل بھی مکہ مسجد بلاسٹ کے الزام میںگرفتار ہوکر جیل آچکا ہے اور لگا تار ڈیڑھ برس تک ذہنی ایذا اور جسمانی ٹارچر سے گزرچکا ہے جبکہ بعد میںعدالت نے اسے بے قصور قرار دے کر بری کردیا تھاتو سوامی اسیما نند کا اندرون ہل کر رہ گیا۔ لہٰذا 18 دسمبر کے بیان میں برملا کہا کہ ’’میںجانتا ہوںکہ اس جرم میں مجھے سزائے موت ہوسکتی ہے لیکن میںبہر حال سچ بول کر رہوںگا تاکہ بلاسٹس کے اصل مجرم اپنے کیفر کردار کو پہنچیں اور آئندہ کلیم جیسے بے قصور افراد اور ان کے خاندانوںکو ان مصیبتوںسے نہ گزرنا پڑے۔ یہ خبر انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ میں 8 جنوری 2011 کے شمارے میںاسی طرح آئی تھی۔
ذرا غور کیجئے کہ سوامی اسیما نند کے عدالت میں منصف سے مکالمے کے مندرجہ ذیل نکات جو آج بے ساختہ یاد آتے ہیں:
’’مجسٹریٹ:کیا تم جانتے ہو کہ تمہیں یہاںکس لیے لایا گیا ہے؟
سوامی اسیما نند: مجھے یہاں اپنا اقبالیہ بیان ریکارڈ کرانے کے لیے لایا گیا ہے کیونکہ میںاپنا اقبال جرم کرنا چاہتا ہوں۔
مجسٹریٹ: کیا تم جانتے ہو کہ تم اقبالیہ بیان دینے کے پابند نہیںہو لیکن اگر تم نے ایسا کوئی بیان دیا تو اسے تمہارے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پھر کیا تم اس کے نتائج سے واقف ہو؟
اسیما نند: جی ہاں۔ میںیہ بھی جانتا ہوںکہ اس مقدمہ میںمجھے موت کی سزا ہوسکتی ہے لیکن میںیہ اقبالیہ بیان بہر حال دینا چاہتا ہوں، میںاس کے نتائج سے پوری طرح باخبر ہوں۔
مجسٹریٹ: کیا میرے سامنے یہ بیان تم رضاکارانہ طور سے دے رہے ہو؟

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اسیما نند: جی ہاں۔
مجسٹریٹ: کیا پولیس یا سی بی آئی نے تمہیں دھمکایا ہے، زبردستی آمادہ کیا ہے یا تمہارے ساتھ کچھ وعدے کیے ہیں؟
اسیما نند: جی نہیں۔
مجسٹریٹ: کیا تم جانتے ہو کہ اگر تم نے اقبالیہ بیان نہ بھی دیا تو تمہیںسی بی آئی کی تحویل میںنہیںدیا جائے گا؟
اسیما نند: جی ہاں، میںجانتا ہوں۔
مجسٹریٹ: کیا تم جانتے ہو کہ تمہیں لیگل ایڈکی طرف سے ایک وکیل بغیر فیس کے فراہم کیا جاسکتا ہے؟
اسیما نند: جی ہاں لیکن میںلیگل ایڈ سے کوئی وکیل نہیں چاہتا۔ ‘‘
دہلی کے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ دیپک ویاس اور سمجھوتہ ایکسپریس اور مکہ مسجد بلاسٹس کے ملزم سوامی اسیما نند کے درمیان یہ مکالمہ 18 دسمبر 2010کو دہلی کی تیس ہزاری عدالت میںہوا تھا جب سی بی آئی نے سوامی اسیما نند کو اقبالیہ بیان ریکارڈ کرانے کے لیے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا تھا۔ انگریزی روزنامہ ’میل ٹوڈے‘ کے رپورٹر امن شرما کی یہ تفصیلات جمع کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ سوامی اسیما نند کے ایک وکیل منوہر راٹھی نے رپورٹروں کے سامنے دعویٰ کردیا تھا کہ سوامی اسیما نند نے یہ بیان سی بی آئی کے دباؤ میںآکر دیا ہے۔
11 جنوری 2011 کے ’میل ٹوڈے‘ میںعدالتی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے امن شرما نے یہ انکشاف کیا تھا کہ سوامی کو پہلے 16 دسمبر کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا مگر مجسٹریٹ نے کچھ سوالات کرنے کے بعد مزید سوچنے کے لیے سوامی کو مزید دو روز کا وقت دے دیا تھا لہٰذا دور وز کے بعد سی بی آئی نے انھیںدوبارہ پیش کیا تو سوامی کے دل و دماغ میںکوئی تبدیلی واقع نہیںہوئی تھی۔ اس پر مجسٹریٹ نے کارروائی کے آغاز میںاپنا یہ نوٹ لگایا کہ ’’مذکورہ بالا پوچھ تاچھ کے بعد یہ شبہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ملزم نے یہ اقبالیہ بیان کسی کے دباؤ میںآکر یا دھمکیوںسے ڈر کر دیا ہے۔ ‘‘
یہ بھی سچ ہے کہ معاملہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فاضل مجسٹریٹ نے جتنی احتیاط ان کے لیے ممکن تھی، کی۔ ان دنوں یہ خبر بھی ملی تھی کہ کمرہ عدالت سے سی بی آئی کے افسروں اوراپنے اسٹینوگرافر کو بھی انھوںنے ہٹادیا تھا۔ سوامی اسیما نند کا یہ بیان یقینا غیر معمولی اور اہم تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ عدالت سے تو سوامی اسیمانند بری ہوکر باہر آگئے ہیں مگر کیاوہ اپنے ضمیر کی آواز سے بھی واقعی باہر آسکے ہیں یا نہیں؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا تعلق ان کے اندرون قلب سے ہے اور اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *