میڈیکل کالج ڈوڈہ کی چند عمارتیں ضلع اسپتال میں ہی تعمیر کی جا رہی ہیں، لوگوں میں ناراضگی

 

ضلع ڈوڈہ میں محکمہ صحت و طبی تعلیم جموں و کشمیر محکمہ تعمیرات عامہ کی مدد سے میڈیکل کالج ڈوڈہ کی تین سو بستروں والی عمارت کی غیر قانونی طور تعمیر کر رہی ہے۔ محکمہ ضلع اسپتال کے احاطہ میں نئی عمارتیں قائم کرکے وہاں موجود طبی اسٹور بلڈنگ کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ درس و تدریسی کے لئے تعمیر کی جا رہی عمارت کو تعمیر کرنے کے لئے محکمہ طبی تعلیم کو وہاں موجود عمارت کو منہدم کرنے کے لئے تکنیکی طور مشکلات آ رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک اعلیٰ حکام عمارتوں کو منہدم کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ غور طلب ہے کہ یہ عمارتیں صرف تین سال قبل تعمیر کی گئی ہیں جن میں سے ایک کو جموں کشمیر پروجیکٹ کنسٹریکشن کارپرویشن نے محکمہ کے حوالے نہیں کیا ہے۔کوئی بھی آفیسر عمارتوں کو گرانے کی اجازت دے کر معاملہ اپنے سرنہ لینا چاہتا ہے۔گھٹ کے سابق سرپنچ ریاض احمد نے بتایا کہ اب حکام غیر قانونی طور الگ راہ اختیار کرکے ان عمارتوں کو گرانے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ مذکورہ عمارت کی تعمیراتی ایجنسی پی. ڈبلیو. ڈی ہے جس کو زمین کی کٹائی کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے تاکہ وہاں قائم عمارت کمزور ہو کر خود ہی منہدم ہو جائے اور کسی کے اوپر کوئی الزام بھی نہ آئے۔22 اگست کو گورنر کے مشیر کے وجے کمار نے تدریسی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا اس موقع پر اْن کے ہمراہ محکمہ طبی تعلیم کے پرنسپل سیکرٹری اتل ڈولو بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ اْن پانچ کالجوں میں سے ایک ہے جس کو سال 2014 میں یو. پی. اے سیکنڈ کے دور میں منظوری ملی تھی۔یہ عمارت بھی میڈیکل کالج کا حصّہ ہے جس کو گھٹ کے بجائے اسپتال ڈوڈہ کے احاطہ میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔مذکورہ کالج کو تعمیر کرنے کے لئے سرکار نے گھٹ گاؤں میں 160 کنال اراضی کو حاصل کیا ہے جو ضلع صدر مقام ڈوڈہ سے پانچ کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہاں کے عوام کو فائدہ پہچانے کے لئے تمام بلاکوں کی عمارتیں گھٹ میں ہی قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔لیکن متعلقہ حکام نے عوام کو بیوقوف بنایا ہے جبکہ میڈیکل کالج کے مقام پر صرف انتظامی بلاک اور کلاس رومز تعمیر کئے جا رہے ہیں علاوہ تمام کلینک بلاک ضلع اسپتال ڈوڈہ میں کام کر رہے ہیں اور ٹیچنگ ہسپتال کو بھی ضلع ہسپتال میں ہی قائم کیا جا رہا ہے جو نئے پلان کا حصّہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *