سولن حادثہ: چھ فوجیوں سمیت سات ہلاک، وزیر اعلی نے تحقیقات کا حکم دیا

Share Article
Solan building collapse: 6 Armymen among 7 killed; Himachal Chief Minister Jai Ram Thakur visits site, orders probe

 

شملہ، سولن ضلع کے کمار ہٹی میں اتوار کو ریستوران کی چار منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی تھی۔ حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر سات ہو گئی۔ وزیر اعلی جے رام ٹھاکر نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

 

Image result for Solan crash ordered killed, including six soldiers Minister probe

مرنے والوں میں چھ فوج کے جوان شامل ہیں۔ یہ سبھیسولن کے چنڈی گڑھ میں واقع آسام رائفل رجمنٹ میں تعینات تھے۔ ریستوران مالک کی بیوی ارچنا کی بھی حادثے میں موت ہو گئی۔ راحت اور امدادی کام جاری ہے۔

 

Image result for Solan crash ordered killed, including six soldiers Minister probe

ریاستی حکومت کے ایک ترجمان نے پیر کو بتایا کہ راحت وبچاؤ ٹیم نے اب تک چھ فوجیوں اور ایک خاتون کی لاش برآمد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی آر ایف، فوج اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے رات بھر چلائی گئی راحت بچاؤ مہممیں فوج کے 17 جوانوں سمیت 28 لوگوں کو بچایا گیا ہے۔ سات جوان اب بھی ملبے میں دبے ہیں،جنہیں نکالنے کے لئے بڑی سطح پر مہم چلائی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کوایم ایم یو ہسپتال سلطان پور اور دھرم پورہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

 

Image result for Solan crash ordered killed, including six soldiers Minister probe

حادثہ اتوار کی شام چار بجے کمارہٹی-ناہن موٹروے پر ہوا۔ یہاں موٹروے کے کنارے چار منزلہ عمارت ہے۔ اس کی اوپری منزل پر ریستوران اور نچلی منزل میں مہمان خانہ اور ریستوران مالک کا خاندان رہتا تھا۔ یہ عمارت 2012 ء میں بنی تھی۔واقعہ کے وقت ریستوران میں آسام رائفل رجمنٹکے 30 جوان کھانا کھانے رکے تھے ۔ اسی درمیان پوری عمارت اچانک گرگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ عمارت کی بنیاد کمزور تھی۔ بارش کی وجہ سے عمارت کے نیچے تودہ کھکسک گیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *