اسمارٹ کارڈ کے نام پر غریبوں کی صحت سے کھلواڑ

Share Article

امریتانج اندیور ، مظفر پور
p-2آنکھوںکے مریض لکشمن بھگت کا جب قومی دیہی صحت بیمہ اسکیم کے تحت اسمارٹ کارڈ بنا، تو اس کی امیدیں یقین میں تبدیل ہوتی محسوس ہوئیں کہ اب میری جیب میں پیسے ہوں یا نہ ہوں، ہماری آنکھیں اب ضرور صحت مند ہو جائیں گی۔ لیکن، جب وہ علاج کے لیے اسپتال پہنچے، تو ان کی امیدیں معدوم ہوتی نظر آئیں، کیونکہ ان کے گھر میں کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اسمارٹ کارڈ سے کیسے اور کس اسپتال میں علاج ہوتا ہے۔ لوگوں سے دریافت کرنے کے باوجود صحیح جواب نہ ملنے کی وجہ سے لکشمن بھگت شہر کے مختلف اسپتالوں کا چکر لگاتے لگاتے پریشان ہوگئے۔ آخر کار انہوں نے کسی پرائیوٹ ہسپتال میں اپنی آنکھوں کا علاج پیسے دے کر کرایا۔ بھگت کا تعلق لیچی کے لیے مشہور، بہار کے مظفر پور ضلع کے تحت پارو بلاک کے جلیل نگر گائوں سے ہے۔ مذکورہ گائوں کے رام برن، رام ساگر اور اندر دیو بھگت جیسے کئی لوگوں کے پاس اسمارٹ کارڈ تو ضرور ہیں، مگر اس کا استعمال کیسے اور کہاں ہوگا، اس کے بارے میں کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ ان اسمارٹ کا رڈ کے مالکوں کے گھر میں اگر کوئی بیمار ہوتا ہے، تو یہ لوگ نجی اسپتالوں یا جھولا چھاپ ڈاکٹروں کی پناہ حاصل کر کے اپنی جیبیں خالی کرنے پر مجبورہو تے ہیں۔ مذکورہ بلا ک کے چاند کواری پنچایت کی کانتی دیوی کے اسمارٹ کارڈ کا نمبر ہے 1000693216، چندادیوی کے کارڈ کا نمبر ہے 1000693278 اور ہمانچلی دیوی کے کارڈ کا نمبر ہے 100963297۔ ان سب غرباء کے پاس اسمارٹ کارڈ تو ضرور ہے، مگر اسے استعمال کیسے اور کہاں کیا جاتا ہے، انہیں اس کی کوئی جانکاری نہیں ہے۔ ان تمام لوگوں کی زبان پر بس ایک ہی سوال ہے کہ اس کارڈ سے کہاں اور کس اسپتال میں علاج ہوگا؟ گھر کے کتنے افراد اس کارڈ سے فیضیاب ہوں گے؟ ان سوالوں کا جواب دینے والا دور دور تک کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ ایک کارڈ حامل نے کہا کہ اس سے ایک بار سے زیادہ علاج نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کارڈ کے تمام پیسے اسپتال انتظامیہ رکھ لیتی ہے، جبکہ کوئی کچھ اور کہتا نظر آتا ہے۔ ضلع کے صاحب گنج بلاک کے تحت مُسہر گائوں کے سیکڑوں غرباء کارڈ کے حامل تو ضرور ہیں، لیکن استعمال کیسے کیا جائے، نہیں معلوم۔

ان سب غرباء کے پاس اسمارٹ کارڈ تو ضرور ہے، مگر اسے استعمال کیسے اور کہاں کیا جاتا ہے، انہیں اس کی کوئی جانکاری نہیں ہے۔ ان تمام لوگوں کی زبان پر بس ایک ہی سوال ہے کہ اس کارڈ سے کہاں اور کس اسپتال میں علاج ہوگا؟ گھر کے کتنے افراد اس کارڈ سے فیضیاب ہوں گے؟ ان سوالوں کا جواب دینے والا دور دور تک کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ ایک کارڈ حامل نے کہا کہ اس سے ایک بار سے زیادہ علاج نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کارڈ کے تمام پیسے اسپتال انتظامیہ رکھ لیتی ہے، جبکہ کوئی کچھ اور کہتا نظر آتا ہے۔ ضلع کے صاحب گنج بلاک کے تحت مُسہر گائوں کے سیکڑوں غرباء کارڈ کهے حامل تو ضرور ہیں، لیکن استعمال کیسے کیا جائے، نہیں معلوم۔

در حقیقت، اسمارٹ کارڈ قومی دیہی صحت بیمہ اسکیم کی ایک پُر امید اور حوصلہ افزا کڑی ہے، جس کا مقصد غریبی سطح سے نیچے کی زندگی گزارنے والے غرباء کو صحت کی سہولیات بہتر انداز میں باآسانی مہیاکرانا ہے۔ لیکن مظفر پور کی طرح تقریباً پوری ریاستِ بہار میں یہ کارڈ محض حکومت کی ریاکاری کا ثبوت پیش کر رہا ہے۔ کارڈ پانے والوں کو علاج کا فائدہ تو دور کی بات ہے، یہ کارڈ ان کے لیے طریقہ استعمال نہ جاننے کی وجہ سے پریشانی اور ذلت ورسوائی کا سبب بن گیا ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر اور اسپتال اس کارڈ کے جھمیلے میں پڑنا بھی نہیں چاہتے۔ اسمارٹ کارڈ کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اسپتال، ڈاکٹر اور حاملینِ کارڈ کو درست جانکاری و بیداری فراہم نہ کرنا ہے۔ حکومت نے اسکیم کا فائدہ دلانے کے لیے اسمارٹ کارڈ تو لانچ کردیا، مگر اس سے متعلق عوام میں بیداری لانے کے لیے کوئی مستحکم قدم نہیں اُٹھایا۔ نتیجتاً جس اسکیم کو زمین پر کامیابی ملنی چاہیے تھی، جس کی وجہ سے ریاست کے دیہی علاقوں میں صحت و تندرستی کی سطح بلند ہوتی، ریاست کا نام روشن کرتی، وہی اسکیم ریاکاری و بدنامی کا سبب بن رہی ہے۔
مرکزی حکومت کی قومی دیہی صحت اسکیم کے تحت اس کارڈ کا مقصد تمام بی پی ایل (غریبی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والی) فیملی کو ایک سال تک مفت علاج مہیا کرانا ہے۔ ایک کارڈ پر پانچ افراد کا علاج کروایا جاسکتا ہے۔ اس کے تحت سرکار انشورنس کمپنیوں سے ہر بی پی ایل خاندان کا ایک سال کے لیے بیمہ کراتی ہے، جس کے لیے بیمہ کمپنیوں کو 30 ہزار روپے ادا کیے جاتے ہیں، جس میں پورے خاندان کی صحت کی جانچ، آپریشن، دوا، علاج، کھانا پینا، آمد ورفت کا خرچ منسلک ہوتا ہے۔ اس کارڈ کے تحت شہر کے چنندہ سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی سہولت مہیا کرائی جاتی ہے۔ واضح ہو کہ قومی صحت بیمہ اسکیم کو ملک کے 445 اضلا ع میں نافذ کیا گیا ہے۔ ملک میں اب تک 34 لاکھ 818 ہزار 761 خاندان اسمارٹ کارڈ سے فیضیاب ہورہے ہیں، جن میں ریاستِ بہار میں ماہ مئی کے پہلے ہفتہ تک 70 لاکھ 83 ہزار 107 خاندانوں تک یہ کارڈ پہنچ چکا ہے، جب کہ ایک کروڑ 36 لاکھ 44 ہزار 464 خاندانوں کو اسمارٹ کارڈ کا فائدہ پہنچانے کا ہدف ہے۔ مظفر پور ضلع میں اسمارٹ کارڈ کے تحت 6 لاکھ 82 ہزار 358 خاندانوں کو شامل کیے جانے کا فیصلہ لیا گیا ہے، جن میں 8 مئی تک 4 لاکھ 7 ہزار 715 خاندانوں کو اس سہولت سے فیضیاب کیا جاچکا ہے۔ لیکن مظفر پور میں انشورنس کمپنی کی غلط پالیسی کے سبب شہر کے مشہور نرسنگ ہومس یا ڈاکٹرس غریبوں کا علاج اس اسکیم کے تحت کرنے سے کتراتے ہیں۔ کاغذی خانہ پُری اور کمپنی کی ادائیگی پالیسی کی وجہ سے سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر بھی اسمارٹ کارڈ پر علاج کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایسے میں غریبوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ اور ان کی غربت کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔
قومی صحت بیمہ اسکیم کہنے کو تو عوام الناس کے لیے حکومت کی جانب سے ایک بڑی سوغات ہے، جس سے ملک میں تقریباً 2 کروڑ سے بھی زیادہ لوگ فیضیاب ہورہے ہیں، مگر موجودہ حالات میں وہ اپنے کو ٹھگاہوا محسوس کرتے ہیں اور اسی لیے دوسروں کو، کارڈ ہونے کے باوجود، بتاتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔ مذکورہ کارڈ کو ملک کے غرباء اور کمزور طبقات کے لیے چلائی جارہی مختلف اسکیموں کے حصول کے لیے سرکار استعمال کر نے کی کوشش کررہی ہے، کیونکہ اس کارڈ میں 32 کے بی کا ڈاٹا منسلک کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر 120 کے بی تک اس میں اضافہ کی گنجائش بھی ہے۔ اس میںفی الحال 17 کے بی ہی استعمال کیا جارہا ہے۔ ایسے میں باقی جگہوں کو دوسری اسکیموں سے پُر کیا جاسکتا ہے۔ حکومت عوام کو دی جانے والی سبسیڈی کے لیے بھی اس کارڈ کا استعمال کرسکتی ہے، جیسا کہ اڑیسہ حکومت اسی کارڈ کی مدد سے گیہوں اور چاول بھی عوام کو مہیا کرارہی ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ دوسری ریاستیں بھی اڑیسہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے عوام کو اس کارڈ کی مدد سے فیضیاب کریں گی۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جہاں ایک طرف کارڈ کو اور زیادہ اسمارٹ بنانے کی سوچ چل رہی ہے، وہیں دوسری طرف اگر یہ کارڈ عوام کے لیے فائد مند نہ ہو، تو اس کے تما م مقاصد ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ اس لیے حکومت کے ساتھ عوام کو بھی بیدارہونے کی ضرورت ہے۔
(چرخہ فیچرس)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *