ڈاکٹر قمر تبریز

دہلی ہائی کورٹ نے گزشتہ 28 مارچ، یعنی پارلیمانی انتخابات شروع ہونے سے ٹھیک 10 دن پہلے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس بھیج کر ایک بڑی پریشانی کھڑی کر دی ہے۔ یہ نوٹس ہندوستان کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں، بی جے پی اور کانگریس کو بیرونی ممالک سے ملنے والے چندے کے بارے میں ہے۔ یہ سوال اہم اس لیے ہے، کیوں کہ جو ممالک ان سیاسی پارٹیوں کو چندہ دے رہے ہیں، ان کے اپنے مفادات ہیں اور برسر اقتدار آنے پر وہ ان سیاسی پارٹیوں سے اپنے اُن مفادات کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ دوسری طرف چندہ دینے کے پیچھے بعض ایسے دہشت گرد یا سماج دشمن عناصر بھی ہو سکتے ہیں، جو کہ ملک کی سیکورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں چندہ لینے سے پہلے ان سیاسی پارٹیوں کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ایسا کرکے کہیں وہ اپنے ملک کے امن و سلامتی کو داؤ پر تو نہیں لگا رہی ہیں؟

p-3سال 1999 میں آئی آئی ایم (انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ) احمد آباد کے چند پروفیسران کے ذریعے بنائے گئے گروپ، اے ڈی آر (ایسو سی ایشن فار ڈیمورکریٹک رِفارمس)، جو انتخابی اور سیاسی اصلاحات کے ذریعے ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے، نے ستمبر 2012 میں ایک رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ میں ہندوستان کی مختلف سیاسی پارٹیوں کو جن جن ذرائع سے فنڈ حاصل ہوتے ہیں، اس کی تفصیلات درج تھیں۔ رپورٹ میں چونکانے والا انکشاف یہ کیا گیا تھا کہ برطانیہ کے کانکنی (مائننگ) کے شعبہ میں کام کرنے والے ’ویدانتا گروپ‘ کی ایک ذیلی کمپنی ’اسٹرلائٹ انڈسٹریز انڈیا لمیٹڈ‘ (ایس آئی آئی ایل) نے مالی سال 2005 اور 2010 میں کانگریس پارٹی کو 6 کروڑ روپے بطور چندہ دیے ہیں۔ اسی طرح اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ویدانتا گروپ کی ہی ایک دوسری ذیلی کمپنی ’مدراس ایلومنیم کمپنی لمیٹڈ‘ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ساڑھے تین کروڑ روپے بطورچندہ دیے ہیں۔ دوسری طرف ویدانتا رِسورسز نے بھی سال 2011-12 کی اپنی سالانہ رپورٹ میں اس بات کو قبول کیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران اس کی دو ذیلی کمپنیوں، اسٹرلائٹ انڈسٹریز انڈیا لمیٹڈ اور سیسا گووا لمیٹڈ کے ذریعے ہندوستان کی مختلف سیاسی پارٹیوں کو تقریباً 28 کروڑ روپے چندے میں دیے گئے ہیں، جو کہ انڈین کمپنیز ایکٹ، 1956 کے سیکشن 293A کے عین مطابق ہیں اور اس سے کسی بھی طرح ایف سی آر اے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ لیکن، دہلی ہائی کورٹ ویدانتا گروپ کی اس دلیل کو ماننے کو تیار نہیں ہے، اسی لیے اس نے گزشتہ 28 مارچ، 2014 کو اے ڈی آر اور ای اے ایس شرما کے ذریعے داخل کی گئی پی آئی ایل پر سماعت کرنے کے بعد اس نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس بھیج کر بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کے لیے کہا ہے۔
عدالت کا ماننا ہے کہ ’اسٹرلائٹ‘ اور ’سیسا گووا‘ فارن فنڈنگ کے ذرائع ہیں، جن سے چندے لینے کی وجہ سے بی جے پی اور کانگریس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، کیوں کہ ری پریزنڈیشن آف پیوپل ایکٹ (آر پی اے) کا سیکشن 29B سیاسی پارٹیوں کو انتخابات میں خرچ کرنے کے لیے بیرونی ممالک سے چندے لینے پر پابندی عائد کرتا ہے۔ ایف سی آر اے 2010 کے باب دوئم، سیکشن 3(e) میں بھی سیاسی پارٹیوں یا پارٹی کے ممبران پر ایسی ہی پابندی لگائی گئی ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کا یہ ماننا ہے کہ ملک میں اگلی حکومت بنانے کے لیے الیکشن بھی ملک کے پیسوں سے ہی لڑا جانا چاہیے، باہری پیسوں سے نہیں۔
مزیدار بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے 2012 میں مرکزی وزارتِ داخلہ کو ایک خط لکھ کر بی جے پی اور کانگریس کے ذریعے ایف سی آر اے قانون کی مبینہ خلاف ورزی کرنے کی جانچ کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن بار بار کی یاد دہانی کے باوجود وزارتِ داخلہ نے اس سمت میں کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی الیکشن کمیشن کو کوئی جواب دیا۔ ان حالات میں الیکشن کمیشن سب سے بڑا قدم یہی اٹھا سکتا ہے کہ ان سیاسی پارٹیوں کو کالعدم قرار دے دے، حالانکہ پارلیمانی انتخابات کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اسے ایسا کرنے میں دیر لگ سکتی ہے۔ یہ خبر بھی آئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے متعلقہ پارٹیوں کو کالعدم قرار دینے والا وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔

آئیے، سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ ایف سی آر اے قانون آخر ہے کیا؟ غیر ملکی ذرائع سے ہندوستان میں پیسے منگانے یا دیگر مالی امداد حاصل کرنے اور اسے خرچ کرنے سے متعلق حکومت ہند نے سال 1976 میں ایک قانون بنایا، جس کا نام رکھا گیا ’فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے)، 1976‘۔ اس قانون کی رو سے ہندوستان کی تمام تنظیمیں (چاہے وہ رجسٹرڈ سوسائٹیز ہوں یا پھر این جی اوز یا رضا کار تنظیمیں)، جو غیر ملکی ذرائع سے مالی امداد حاصل کرنا چاہتی ہیں، انہیں ایسا کرنے سے پہلے وزارتِ امورِ داخلہ سے اجازت لینی ہوگی۔ یہاں پر یہ بتانا ضروری ہے کہ ہندوستان کی متعدد سیاسی پارٹیاں بھی رجسٹرڈ سوسائٹیز ہی ہیں۔ وزارتِ داخلہ سے اس سلسلے میں اجازت لینے کے عمل کو دوسرے الفاظ میں ایف سی آر اے رجسٹریشن کرانا بھی کہا جاتا ہے۔ اس قانون میں سال 2010 میں پہلی ترمیم کی گئی اور اسے 19 اگست، 2010 کو راجیہ سبھا سے پاس کراکے صدر جمہوریہ کے پاس ان کے دستخط کے لیے بھیجا گیا۔ 26 ستمبر، 2010 کو صدرِ جمہوریہ کے دستخط کے بعد اس ترمیم کو باضابطہ قانونی شکل حاصل ہوگئی اور اس طرح یکم مئی، 2011 سے ’ایف سی آر اے 2010‘ کے نام سے یہ قانون ملک میں لاگو ہو گیا۔ موٹے طور پر یہ قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی تنظیم یا ملک سے باہر رہنے والا کوئی فرد یا کمپنی، ہندوستان میں واقع کسی تنظیم کو چندہ دینا چاہتی ہے، تو وہ ایسا کر سکتی ہے، بشرطیکہ مالی امداد حاصل کرنے والی اس ہندوستانی تنظیم نے وزارتِ امورِ داخلہ کے تحت اپنا ایف سی آر اے رجسٹریشن کرا رکھا ہو۔ اس قانون کے تحت یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ اگر ہندوستان سے باہر رہنے والا کوئی فرد ہندوستان کے اندر رہنے والے کسی فرد کو روپے یا غیر ملکی کرنسی کی شکل میں چندہ دینا چاہتا ہے، تو اس کے لیے ایف سی آر اے رجسٹریشن ضروری نہیں ہے، البتہ پیسہ حاصل کرنے والے فرد کو یہ دکھانا پڑے گا کہ اس نے یہ پیسہ بطور تنخواہ حاصل کیا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کے لیے اسے انکم ٹیکس بھی ادا کرنا ہوگا۔ اس قانون کا اطلاق اُن ہندوستانی شہریوں پر بھی ہوگا، جو ملک سے باہر رہتے ہیں۔ اس قانون کا بنیادی مقصد اس بات پر بھی نظر رکھنا ہے کہ غیر ملکی ذرائع سے حاصل ہونے والے پیسے سے ہندوستان کے اندر ایسی کوئی سرگرمی تو نہیں چلائی جا رہی ہے، جس سے ملک کے مفاد یا سیکورٹی کو کوئی خطرہ لاحق ہو۔

یہاں پر سب سے بڑا سوال یہی اٹھتا ہے کہ مرکزی حکومت ملک میں کام کرنے والی رضاکار تنظیموں (این جی اوز) کی فارن فنڈنگ کی جانچ کرنے میں تو پورے جوش و خروش کا مظاہرہ کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے ملک میں پہلے سے چلے آر ہے ایف سی آر اے، 1976 میں سال 2010 میں ترمیم کرکے اسے مزید سخت بنا دیا ہے۔ اس کی وجہ سے رضاکار تنظیموں کو اپنا کام کرنے میں بڑی دقتیں پیش آ رہی ہیں۔ ان غیر سرکاری تنظیموں کو شکایت ہے کہ سرکار نے انہیں کمزور پاکر ان کے خلاف تو سخت پہرہ بیٹھا دیا ہے، لیکن جب حکومت میں شامل پارٹیوں یا سیاسی لیڈروں کی پکڑ کی بات آتی ہے، تو سرکار ان کے معاملوں میں نرم کیوں پڑ جاتی ہے؟ یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے یہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ ویدانتا کو غیر ملکی کمپنی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیوں کہ اس کے مالک انل اگروال ایک ہندوستانی شہری ہیں۔ ہائی کورٹ نے یہ دلیل مسترد کرد ی، کیوں کہ ’کمپنی‘ اور اس کا ’مالک‘ دو الگ الگ چیز ہے اور دونوں کا الگ وجود بھی واضح ہے۔ اسی وجہ سے ہائی کورٹ کمپنی کو غیر ملکی مانتا ہے۔
ستمبر 2012 میں اے ڈی آر کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کا اثر یہ ہوا کہ کانگریس پارٹی نے مرکز میں برسر اقتدار اپنی ہی قیادت والی یو پی اے سرکار سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ ملک کی مختلف سیاسی پارٹیوں کو بیرونی ممالک سے ملنے والے چندوں کے بارے میں سچائی کا پتہ لگائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرکار نے کانگریس پارٹی کی اس درخواست کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی اور جس طرح وزارتِ داخلہ نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خط کا کوئی جواب نہیں دیا تھا، اسی طرح مرکزی حکومت نے بھی خاموشی اختیار کرنا ہی مناسب سمجھا۔ اگر تھوڑا اور پیچھے چلیں، تو ہمیں اور بھی چونکانے والی اطلاعات حاصل ہوتی ہیں۔
کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار نے اپنی پہلی مدتِ کار میں بھی ایسی ہی ایک انکوائری کا حکم جاری کیا تھا۔ اُس وقت سیاسی پارٹیوں کی فارن فنڈنگ کی جانچ کا کام سی بی آئی کے سپرد کیا گیا تھا۔ سی بی آئی کی جانچ میں کافی چونکانے والی باتیں سامنے آئیں۔ سب سے پہلے تو یہ معلوم ہوا کہ ہندوستان کی ایسی کوئی بھی سیاسی پارٹی نہیں ہے، جس نے بیرونی ممالک سے چندے نہ حاصل کیے ہوں۔ فارن فنڈنگ حاصل کرنے کے معاملے میں کانگریس پارٹی سب سے اوپر تھی، جب کہ دوسرے نمبر پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور تیسرے نمبر پر سی پی ایم تھی۔
دوسری چونکانے والی بات یہ تھی کہ ہم جتنے بھی ممالک کے نام جانتے ہیں، ان سب کے یہاں سے ہندوستان کی ان سیاسی پارٹیوں کو چندے ملے تھے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ چونکانے والی بات وزارتِ داخلہ کو یہ معلوم ہوئی کہ دوسرے ممالک کے مقابلے روس اور امریکہ سے ان سیاسی پارٹیوں کو لگاتار چندے ملتے رہے اور وہ بھی بڑی مقدار میں۔ یہی نہیں، مزید گہرائی میں جانے پر وزارتِ داخلہ کو یہ بھی معلوم ہوا کہ سیاسی پارٹیوں کو یہ فنڈ بیرونی ممالک کے ذریعے ہندوستان میں خفیہ کارروائیوں کو انجام دینے کے مقصد سے بھیجے جا رہے ہیں، کیوں کہ امریکی ذرائع سے جو فنڈ حاصل ہوئے تھے، ان میں سے بعض کے تار امریکہ کی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ سے جاکر مل رہے تھے۔ اس کے بعد سرکار اس نتیجہ پر پہنچی کہ ہندوستان کی جن تنظیموں، اداروں یا افراد کی فارن فنڈنگ کا ذریعہ کہیں نہ کہیں بیرونی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں ہیں، ان پر فوری طور پر پابندی لگا دی جائے۔ سرکار کے اسی فیصلہ کے تحت ’ایشیا فاؤنڈیشن‘ کے اپنا کام جاری رکھنے پر روک لگا دی گئی۔ یہیں سے ہندوستانی این جی اوز کے لیے مشکل دور کی شروعات ہوئی۔ ان پر باقاعدہ یہ پابندی لگا دی گئی کہ وہ ایف سی آر اے کے تحت وزارتِ داخلہ سے پہلے سے منظوری لیے بغیر بیرونی ممالک سے چندہ نہیں منگوا سکتیں۔

دہلی کے معروف چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ (سی اے) اور کئی مسلم تنظیموں کے فنانشیل ایڈوائزر، عبدالحنان چاندنا بتاتے ہیں کہ ایف سی آر اے قانون کو لے کر مسلم تنظیموں کو گزشتہ چند سالوں سے کافی پریشان کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر وہ بتاتے ہیں کہ وزارتِ داخلہ سے رجسٹریشن کرانے کے بعد جب کسی بھی تنظیم کو ملک کے باہر رہنے والے کسی ہندوستانی شہری سے پیسے منگانے کے لیے ایف سی آر اے نمبر مل جاتا ہے، تو پھر جس بینک میں اس نے اپنا اکاؤنٹ کھلوایا ہے، اس بینک کے ملازمین پیسہ ریلیز کرنے میں کافی دیری لگاتے ہیں اور مختلف قسم کی تفصیلات جمع کرنے کے لیے کہتے ہیں، جیسے پیسہ کس نے دیا، کیوں دیا، اس پیسے کا کہاں استعمال ہوگا وغیرہ وغیرہ اور پھر اس کے بعد وہ ان تمام چیزوں کا دستیاویزی ثبوت بھی اکاؤنٹ ہولڈر سے جمع کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ حالانکہ چاندنا کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر بینکوں کو اس قسم کی تفصیلات طلب کرنے کی اجازت نہیں ہے، لہٰذا جب اکاؤنٹ ہولڈر بینک سے یہ سوال کرتا ہے، تو بینک کی طرف سے اسے جواب ملتا ہے کہ ’اوپر سے آرڈر ہے‘۔ اوپر سے یہ آرڈر کون دیتا ہے؟ اس کا جواب بینکوں نے مسلم تنظیموں کو کبھی نہیں دیا۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ خود مسلم تنظیموں یا افراد میں سے بھی کسی نے آج تک کوئی آر ٹی آئی ڈال کر بینک سے اس بابت سوال کرنے کی ہمت نہیں دکھائی اور نہ ہی کسی نے حکومت وقت سے ہی اس سلسلے میں ابھی تک کوئی شکایت کی ہے۔ بقول حنان چاندنا، اگر مسلم تنظیمیں یا افراد ایسا کرتے، تو پوری سچائی سامنے آ جاتی اور بینکوں کو جواب دینا مشکل ہو جاتا۔ چاندنا صاحب کے مطابق، مسلم تنظیموں کو شک کی نگاہ سے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ بھی دیکھتا ہے اور اسی لیے رِٹرن بھرتے وقت انہیں مختلف بہانوں سے پریشان کیا جاتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے ایف سی آر اے رجسٹریشن صرف ایک بار ہی کرانا پڑتا تھا، لیکن اب اسے ہر پانچ سال کے بعد رنیو (Renew) کرانا پڑتا ہے اور ہر بار متعدد تفصیلات مانگ کر خاص کر مسلم تنظیموں یا افراد کو پریشان کیا جاتا ہے۔ چاندنا کا ماننا ہے کہ اتنی سختی برتنے کی وجہ سے اب بیرونی ممالک سے جو لوگ شفاف طریقے سے پہلے پیسے بھیجتے تھے، اب وہ بھی ڈرنے لگے ہیں کہ کہیں حکومت ہند کی طرف سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوجائے۔

ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا ملک میں دوہرا قانون چلتا ہے؟ ایک قانون وہ ہے، جو عام شہریوں یا سول سوسائٹی پر لاگو ہوتا ہے، جب کہ سیاسی لیڈروں اور پارٹیوں کے لیے الگ قانون ہے۔ 23 سال پہلے، جب ملک میں حوالہ کیس منظر عام پر آیا تھا، تب بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا اور سیاسی لیڈر قانون کی پکڑ سے بچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ بات ہے 1991 کی، جب حوالہ کانڈ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس وقت ملک میں کانگریس کی حکومت تھی اور وزیر اعظم تھے آنجہانی پی وی نرسمہا راؤ۔ اسی زمانے میں دہلی پولس نے پرانی دہلی کے مسلم اکثریتی سوئیوالان علاقہ میں واقع، چاندنی محل ایریا میں چھاپے ماری کی اور یہ پتہ لگایا کہ یہاں سے غیر قانونی طریقے سے حوالہ کا ایک بڑا ریکٹ چلایا جا رہا ہے۔ دہلی پولس کو اس سلسلے میں کی جانے والی بعد کی چھاپے ماری سے پتہ چلا کہ حوالہ ریکٹ کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے باہری ملکوں سے آنے والے یہ پیسے کشمیری ملی ٹینٹوں کے پاس پہنچ رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ملی ایک خفیہ جانکاری کی بنیاد پر دہلی پولس نے 25 مارچ، 1991 کو کشمیر کے اشفاق حسین لون نامی ایک ملزم کو گرفتار کیا، پولس کے مطابق، جس کے روابط ممنوعہ کشمیری دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کے ساتھ تھے۔ اشفاق حسین لون کو گرفتار کرنے کے بعد دہلی پولس نے، چاندنی محل پولس اسٹیشن میں ٹاڈا (دہشت گردانہ اور تخریبی سرگرمیوں کو روکنے والے) ایکٹ، 1987 کی دفعہ 3 اور 4 اور فیرا (فارن ایکسچینج ریگولیشنز ایکٹ) کی دفعہ 8(1) کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی، جس کا نمبر تھا 53، سال 1991۔ اشفاق حسین لون کو نشاندہی پر دہلی پولس نے 27 مارچ، 1991 کو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ایک ریسرچ اسکالر شہاب الدین غوری کو گرفتار کیا۔ دراصل، اشفاق حسین لون کی گرفتاری کے وقت دہلی پولس کو اس کے گھر سے ساڑھے پندرہ لاکھ روپے کے کل 23 ڈرافٹ اور نقد پچاس ہزار روپے بھی ملے تھے، جس کے بارے میں لون نے پولس کو بتایا تھا کہ یہ پیسے اسے شہاب الدین غوری نے دیے تھے۔ شہاب الدین غوری نے اپنی گرفتاری کے بعد پولس کو بتایا کہ یہ پیسے اسے غیر قانونی حوالہ لین دین کے ذریعے برطانیہ میں مقیم ایک شخص، ڈاکٹر ایوب ٹھاکر سے ملے تھے۔ شہاب الدین غوری نے پولس کو یہ بھی بتایا تھا کہ ڈاکٹر ایوب ٹھاکر نے یہ پیسے اس کے پاس دہلی کے ہی ایک حوالہ ڈیلر شمبھو دیال شرما عرف گپتاجی کے ذریعے پہنچائے تھے۔ دہلی پولس نے یکم اپریل 1991 کو شمبھو دیال شرما کو بھی گرفتار کر لیا، جس نے یہ بات قبول کی کہ اس نے اپنے ایک دوسرے ایجنٹ مول چند شاہ کے ذریعے 16.27 لاکھ روپے شہاب الدین غوری اور دوسرے لوگوں تک پہنچائے تھے اور یہ پیسے بعد میں کشمیر کے اشفاق حسین لون تک بھی پہنچے تھے۔ مول چند شاہ کو ممبئی سے 16 اپریل، 1991 کو گرفتار کرکے دہلی لایا گیا تھا۔ ان تمام گرفتاریوں اور ایک بڑے حوالہ ریکٹ سے پردہ اٹھنے کے بعد حکومت ہند نے 20 اپریل، 1991 کو اس پورے معاملے کی انکوائری سی بی آئی کے حوالے کردی۔ سی بی آئی نے 1993 تک اس پورے معاملے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی، بلکہ پولس کے ذریعے حاصل کی گئی تمام معلومات و ثبوت کو سیل بند کرکے ایک کونے میں رکھ دیا گیا۔

دراصل، اس معاملے میں سی بی آئی کی عدم دلچسپی کی ایک بڑی وجہ حوالہ کیس میں سیاست دانوں کا شامل ہو جانا تھا۔ ہوا یوں کہ سی بی آئی نے جب اس معاملے کی چھان بین شروع کی، تو ایس کے جین نام سے ایک لال ڈائری اس کے ہاتھ لگی، جس میں ان 115 لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے، جنہوں نے سال 1988-89 کے دوران، جب ملک میں آنجہانی راجیو گاندھی کی حکومت تھی، بیرونی ملکوں سے غیر قانونی طریقے سے پیسے حاصل کیے تھے۔ اس فہرست میں این ڈی اے دورِ حکومت کے چار کابینی وزراء کا نام شامل ہونے سے ملک میں ایک بڑا ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ یہ نام تھے ایل کے اڈوانی، یشونت سنہا، شرد یادو اور اجیت کمار پانجا کے۔ ان کے علاوہ جین ڈائری کی 115 ناموں کی اس فہرست میں بی جے پی کے دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی مدن لال کھورانہ، آنجہانی بلرام جاکھڑ، سینئر کانگریسی لیڈر آنجہانی مادھو راؤ سندھیا، پی شیو شنکر اور بی جے پی لیڈر عارف محمد خاں کے نام بھی شامل تھے۔ اس معاملے کی تفتیش میں اس وقت ایک نیا موڑ آگیا، جب اس وقت کے سی بی آئی انسپکٹر جنرل او پی شرما کو اس الزام کے تحت گرفتار کر لیا گیا کہ وہ ان لوگوں کو بلیک میل کرکے ان سے رشوت لینے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کے نام جین ڈائری میں شامل ہیں اور اس طرح انہیں ایک سال قید بامشقت کی سزا بھی سنائی گئی۔ لیکن، وہیں دوسری طرف شرما نے یہ الزام بھی لگایا کہ انہیں بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کے اشارے پر اس لیے پھنسایا گیا، کیوں کہ انہوں نے ڈائری میں اڈوانی کا نام دیکھنے کے بعد ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔

زکوۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر، ڈاکٹر سید ظفر محمود کا کہنا ہے کہ ایف سی آر اے ایک پرانا قانون ہے اور اس کے تحت بیرونی ممالک سے آنے والے چندوں پر نگرانی رکھی جاتی ہے، بھلے ہی یہ چندے سیاسی پارٹیوں کے لیے ہوں یا پھر کسی غیر سرکاری تنظیم کے لیے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ جو بھی تنظیم باہر سے چندہ منگاتی ہے، اسے الگ سے اپنا ایک بینک اکاؤنٹ کھولنا ہوتا ہے اور اس سے متعلق قانون کے مطابق بعض فارم وغیرہ بھر کر پوری تفصیلات حکومت کو بتانی پڑتی ہیں۔ لیکن، جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ حکومت نے این جی اوز کو کمزور سمجھ کر ان پر تو سخت پہرہ بیٹھا دیا، لیکن سیاسی پارٹیوں پر آج تک کوئی پہرہ نہیں بیٹھا یا گیا ہے، تو ان کا جواب تھا کہ اگر کوئی این جی او ملک کے قانون کی خلاف ورزی کرے گا، تو اس کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی اور ایسا ہر ملک میں ہوتا ہے۔ ان کے علم میں ایسا کوئی بھی این جی او نہیں ہے، جس کے خلاف حکومت ہند نے غیر انسانی سلوک کیا ہو یا اسے اپنا کام کرنے سے روکا ہو۔ جہاں تک سیاسی پارٹیوں کا معاملہ ہے، تو ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو بعض ایشوز پر تو کبھی کبھی جوش آ جاتا ہے اور وہ اپنی سرگرمی دکھانے لگتی ہے، لیکن اکثر خاموشی ہی اختیار کیے رہتی ہے۔

خیر، 1993 میں جب آمود کانتھ کو سی بی آئی کا ڈی آئی جی بنایا گیااور حوالہ کیس کی انکوائری ان کے سپرد کی گئی، تو انہوں نے جین ڈائری میں درج تفصیلات کی بنیاد پر اپنی جانچ شروع کی۔ کانتھ کو یہ ذمہ داری اس لیے سونپی گئی، کیوں کہ وہ سی بی آئی میں آنے سے پہلے اس وقت کے وزیر مملکت برائے امورِ داخلہ سبودھ کانت سہائے کے او ایس ڈی (آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی) تھے۔ دوسری طرف سبودھ کانت سہائے کے سابق وزیر اعظم آنجہانی پی وی نرسمہا راؤ کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، اس لیے یہ سمجھا گیا کہ شاید حوالہ کیس کے بارے میں ان کے پاس پہلے سے کوئی جانکاری موجود ہوگی۔ لیکن آمود کانتھ کے ذریعے اس کیس کو اپنے ہاتھ میں لینے سے سی بی آئی افسران کے درمیان ہی دو گروپ بن گئے۔ آمود کانتھ کی قیادت والا ایک گروپ وہ تھا، جو اس کیس میں نرسمہا راؤ کو بھی شامل کرنا چاہتا تھا، جب کہ سی بی آئی ڈائرکٹر راجا وجے کرن کی قیادت والا دوسرا گروپ اس پوری جانچ کو جین ڈائری تک ہی محدود رکھنا چاہتا تھا، جس میں 65 کروڑ روپے کی لین دین کا ذکر تھا۔ اپنی تفتیش کے بعد کانتھ اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس حوالہ ریکٹ کے ذریعے صرف 65 کروڑ روپے کی ہی غیر قانونی لین دین نہیں ہوئی، بلکہ کل لین دین 73 کروڑ روپے کی ہوئی تھی، جس میں سے بقیہ 8 کروڑ روپے میں سے 3.5 کروڑ روپے نرسمہا راؤ کو بھی دیے گئے تھے، جس کی وجہ سے بعد میں چندرا سوامی اور محمد امیر الدین حبیب عرف امیر بھائی (ممبئی اور مدراس کا باشندہ، جو اس وقت دبئی میں مقیم تھا اور جس کے توسط سے سیاسی لیڈروں تک یہ پیسے پہنچے تھے) کی بھی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ خیر، سی بی آئی اس پوری تفتیش کے بعد اس آخری نتیجہ پر پہنچی تھی کہ مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے 73 کروڑ روپے کی رقم سیاسی لیڈروں کو اس لیے دی گئی تھی، کیوں کہ یہ غیر ملکی کمپنیاں ان لیڈروں کے توسط سے شمالی ہند میں بجلی بنانے والی تین کمپنیاں تعمیر کرانا چاہتی تھیں اور ایک اسٹیل پلانٹ کو ماڈرنائز کرنا چاہتی تھیں۔ دوسری طرف سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے جین ڈائری میں شامل سیاسی لیڈروں کو بری کر دینے کے فیصلہ کو اس لیے صحیح ٹھہرا دیا کہ جین ڈائری میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا، جس کی بنیاد پر ان سیاسی لیڈروں کے خلاف کوئی کارروائی کی جاسکتی۔ لہٰذا بعد کے دنوں میں جین ڈائری کی بنیاد پر جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا، انہیں بھی ایک ایک کرکے رہا کر دیا گیا اور حوالہ کیس کے دوسرے ملزمین بھی ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

جماعت اسلامی ہند کے فنانشیل ایڈوائزر، وقار انور ایف سی آر اے کے تکنیکی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ملک کی کوئی بھی تنظیم یا فرد ایف سی آر اے کے تحت اپنا رجسٹریشن کرا سکتا ہے اور پھر ملک سے باہر رہنے والے ہندوستانی شہریوں سے یا غیر مقیم ہندوستانیوں (این آر آئی) سے ان کا پاسپورٹ نمبر دے کر چندے منگا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن مسلم تنظیموں نے ایف سی آر اے کے تحت اپنا رجسٹریشن کرا رکھا ہے، وہ اپنا کام بغیر کسی رکاوٹ کے کر رہی ہیں، کیوں کہ ملک کا قانون انہیں اس بات کی پوری اجازت دیتا ہے۔ لیکن، دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر قانون کے تکنیکی پہلوؤں کی جانکاری کم ہونے اوربعض دفعہ مالی سال کے اخیر میں ایف سی آر اے کے تحت اپنا انکم ٹیکس رٹرن بھرنے یا دیگر تفصیلات حکومت کو فراہم کرنے میں کوتاہی ہو جاتی ہے، اس لیے یہ مسلم تنظیمیں شک کے گھیرے میں آ جاتی ہیں۔ اگر یہ تنظیمیں قانونی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے شفاف طریقے سے اپنا کام کریں، تو انہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ ان سب کے درمیان ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ مذہبی اداروں سے جڑے بعض حضرات بیرونی ممالک کا دورہ کرکے غیر ملکی شہریوں سے بھی مذہب کے نام پر چندہ وصول کرتے ہیں اور پھر انہیں اپنی جیبوںمیں بھر کر ہندوستان واپس لوٹتے ہیں۔ وقار انور صاحب کا یہ ماننا ہے کہ یہ ایک غیر قانونی عمل ہے، اسی لیے ایسا کرنے والے لوگ اکثر سیکورٹی ایجنسیوں کی نظر میں شک کے دائرے میں آ جاتے ہیں اور زیادہ تر موقعوں پر ایسے کرنے والے لوگوں کو برے نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

بہرحال، ملک کا قانون تو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ سیاسی پارٹیاں بیرونی ممالک سے چندے حاصل کرکے اسے انتخابات لڑنے میں لگائیں اور پھر برسر اقتدار آنے پر ان غیر ملکی اداروں یا کمپنیوں کا فیور کریں۔ مرکزی وزارتِ داخلہ نے ابھی حال ہی میں عام آدمی پارٹی کی فارن فنڈنگ سے متعلق شکایت کے ملنے پر اس کی انکوائری کا کام شروع کر دیا ہے۔ اس انکوائری کی رپورٹ کب سامنے آئے گی، یہ تو نہیں معلوم، لیکن جن چیزوں کی جانکاری حکومت کے پاس پہلے سے ہے، ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی ہے، یہ ایک بڑا سوال ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار نریندر مودی کی انتخابی ریلیوں اور اشتہارات وغیرہ پر جتنے پیسے خرچ کیے جا رہے ہیں، وہ سب کہاں سے آ رہے ہیں، اس پر سب خاموش ہیں، جب کہ اب یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ غیر ملکی تجارتی کمپنیاں بھی مودی کو اگلا وزیر اعظم دیکھنا چاہتی ہیں، کیوں کہ ڈیولپمنٹ کے نام پر مودی کسی بھی حد تک جاکر ان کی مدد کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here