سیاسی پارٹیوں کا رویہ غصہ دلاتا ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ 
مہا بھارت شاید آج کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس مہابھارت کی تیاری الگ الگ جگہوں پر الگ طرح سے ہوتی ہے اور لڑائی بھی الگ سے لڑی جاتی ہے، لیکن 2013 اور 2014 کا مہابھارت کیسے لڑا جائے گا، اس کا اندازہ کچھ کچھ لگایا جاسکتا ہے، کیوں کہ جو اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ ہیں یا جو اقتدار کے آس پاس کے لوگ ہیں، وہ دھیرے دھیرے اس بات کے اشارے دے رہے ہیں کہ وہ کن ہتھیاروں سے لڑنا چاہتے ہیں۔ ایک فریق سیاسی پارٹیوں کا، سرکار کا اور دوسرا فریق نہتے، بے بس اور عام لوگوں کا ہے۔ ہندوستان میں آنے والے ایک سال کے اندر مہابھارت کی تیاری میں جو عناصر فیصلہ کن طریقے سے کام کریں گے، ان میں پہلا ہے ایک فریق، جسے ہم حزبِ اقتدار کہہ سکتے ہیں اور اس حزبِ اقتدار میں ہندوستان کے پارلیمانی نظام میں حصہ لینے والی تمام پارٹیاں شامل ہیں۔ ان کا غرور، ان کی عوام سے دوری، عوام کے مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا تو چھوڑ دیں، کام کی اپنی پوری فہرست میں ہی شامل نہیں کرنا اور ساتھ ہی ساتھ عوام کی آواز دبانے کے لیے اپنائے جا رہے ظلم پر مبنی طریقوں میں سارے لوگوں کا لگ بھگ برابر کا حصہ دار ہونا۔ دوسرا فریق، جس کے فیصلہ کن عناصر ہوں گے بھوک، بیکاری، مہنگائی، بے روزگاری اور ساتھ ہی ساتھ نوجوانوں کے تمام خوابوں کے اوپر تالابندی۔ نوجوانوں کے خوابوں کے اوپر تالا بندی کا مطلب یہ ہے کہ اب ہندوستان کے ان سارے نوجوانوں کو، جو کہ تقریباً 90 فیصد ہیں اور پوری آبادی کا تقریباً 70 فیصد ہوتے ہیں، ان 70 فیصد کے 90 فیصد لوگوں کے سامنے اب کوئی مستقبل نہیں ہے۔ ان کے سامنے ترقی کا کوئی ماڈل نہیں ہے۔ ان کے سامنے اخلاقیات کا کوئی ماڈل نہیں ہے۔ ان کے سامنے اصولوں کا کوئی ماڈل نہیں ہے۔ نتیجہ کے طور پر وہ اپنے اندر کی تکلیف کو ظاہر کرنے کے لیے ایک منظم طریقے سے کام کرنے کی جگہ چھٹ پٹ طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ پر یہ عناصر ہندوستان کی کل آبادی کے 70 فیصد نوجوانوں کو کھڑا کرنے میں ایک بڑا رول پلے کریں گے اور دوسری طرف ان 70 فیصد نوجوانوں کے ماں باپ، جو اپنے بچوں کے درد کو پہلے سے زیادہ سمجھ رہے ہیں، ان کی بے بسی کو، ان کی لاچاری کو پہلے سے زیادہ دیکھ رہے ہیں، ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اس لیے آزاد ہندوستان کا 2013 سے 2014 کے درمیان لڑا جانے والا مہابھارت بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوگا۔
یہ خطرہ اس لیے زیادہ نظر آ رہا ہے، کیوں کہ وہ لوگ جو پارلیمانی نظام کو چلا رہے ہیں، ان میں جمہوری سمجھ ہے ہی نہیں۔ ان کے من میں جمہوریت کو لے کر کوئی احترام نہیں ہے۔ ان کے من میں عوام کے مختلف طبقوں کو لے کر کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ اس ملک کے غریب، محروم، مسلمان، دلت اور مالی اعتبار سے سب سے کمزور لوگوں کو لے کر ان کے من میں درد نہیں ہے۔ وہ ان کی حالت سدھارنا نہیں چاہتے۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ کچھ اس طرح کا ہے کہ جو بھی اپنی تکلیفوں کے لیے آواز اٹھائے، اس آواز کو دبا دو یا انہیں بدعنوانی میں اس طریقے سے شامل کر دو کہ وہ بدعنوانی کو لے کر کچھ بھی کرنے سے پرہیز کرنے لگیں۔ لوگوں کو اس حالت میں پہنچا دو کہ لوگ آپ سے بھیک مانگنے لگیں اور جہاں بھیک مانگنے کی ذہنیت آ جاتی ہے، وہاں تبدیلی کی امید کم تر ہو جاتی ہے۔ اس بات کو اگر کوئی اچھی طرح سے سمجھتا ہے تو وہ آج کی سیاسی پارٹیوں کے لیڈر ہیں۔ پر یہ لوگ ایک بات بھول جاتے ہیں کہ ایک حد سے آگے جب درد بڑھتا ہے یا کوئی مسئلہ بڑھتا ہے، تو اس کے لیے انگریزی میں ایک لفظ ہے ’سیچوریشن پوائنٹ‘۔ اب ان کے جبر کرنے کا سیچوریشن پوائنٹ آ گیا ہے اور ہندوستان کے صبر، ہندوستان کے عوام کے برداشت کرنے کا بھی سیچوریشن پوائنٹ آ گیا ہے۔ اس چیز کو جو برسر اقتدار پارٹی کے لیڈر یا اپوزیشن کے لیڈر نہیں سمجھتے، وہ کم از کم ہماری سمجھ کے باہر ہے۔ وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستان کے زیادہ تر حصوں پر سے ان کا کنٹرول کمزور ہو رہا ہے۔ دن میں ان کی حکومت چلتی ہے، رات میں ان کی حکومت چلتی ہے جو اس نظام سے خود کو جڑا نہیں پاتے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں چل رہی جمہوریت کے چاروں حصے کہیں نہ کہیں اس صورتِ حال سے متاثر ہیں۔
سمجھنا یہ ہوگا کہ جمہوری مخالفت کو دبانے کے لیے اگر جابرانہ طریقوں کا سہارا لیا جائے گا اور ٹیلی ویژن کے اوپر جھوٹ بول کر اپنی جابرانہ کارروائی کو صحیح ثابت کیا جائے گا تو وہ خطرناک اس لیے اور زیادہ بن جاتا ہے، کیو ںکہ ان چیزوں کو اب لوگ اپنے ڈرائنگ روم میں دیکھ رہے ہیں۔ میں نے دہلی میں ہوئے احتجاجی مظاہرے کو دیکھا۔ سارے ملک نے ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ غریب نے دیکھا، امیر نے دیکھا اور اس کا باریک بینی سے تجزیہ کیا۔ لوگوں نے دیکھا پہلے دن جمعہ کو کہ جب سامنے پولس کھڑی ہے راشٹرپتی بھون کے پاس اور دوسری طرف لڑکیاں کھڑی ہیں۔ لڑکیاں کود کرراشٹرپتی بھون میں نہیں جا رہی تھیں، وہ وہاں کھڑے ہو کر نعرے لگا رہی تھیں، نوجوان لڑکے نعرے لگا رہے تھے، صرف یہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں انصاف دو۔ اچانک پولس کی طرف سے پرتشدد کارروائی ہوئی اور ان کے اوپر پانی چھوڑ دیا گیا۔ اس پانی چھوڑنے سے لے کر اتوار کی شام کو جس طرح سے پولس نے بربر لاٹھی چارج کیا، اسے ہندوستان کے ہر آدمی نے دیکھا اور ایک زبان ہو کر اس کی مذمت کی، لیکن جمہوری نظام کو چلانے والے ذمہ دار اعضائ، پولس، نوکر شاہی، مرکزی وزیر، انہوں نے جس بے شرمی کے ساتھ اپنے کیے ہوئے غلط کاموں کو جائز ٹھہرایا، اسے بھی ملک کے لوگوں نے دیکھا۔
اس لیے مجھے لگتا ہے کہ جب لوگوں کے من کا اعتماد مر جاتا ہے تو وہ چیز زبان پر آ جاتی ہے، جو یہ کہتی ہے کہ تم چاہے کچھ بھی کہو، ہمارا تم میں کوئی بھروسہ نہیں ہے اور شاید اسی لیے انڈیا گیٹ خالی کرانے کے بعد بھی، جنتر منتر خالی کرانے کے بعد بھی، بربریت کی ساریں حدیں پار کرنے کے بعد بھی ملک کے تقریباً ہر شہر میں، محلوں میں، کہیں بڑے تو کہیں چھوٹے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ’سرکاریں‘ لفظ کا استعمال میں اس لیے کر رہا ہوں، کیوں کہ ہندوستان کی تمام سیاسی پارٹیاں کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی سرکار میں شامل ہیں۔ ان سب نے ایک ہی رویہ اپنا رکھا ہے اور وہ رویہ ہے، عوام کی آواز مت سنو اور عوام کو بھرم میں پڑا رہنے دو۔ ان سیاسی پارٹیوں کا یہ رویہ غصہ دلاتا ہے اور غصہ نوجوانوں کو دلاتا ہے، اسی لیے کسی بھی نوجوان سے اگر آپ بات کریں تو آپ پائیں گے کہ اس نوجوان کا اس نظام کی پاکیزگی سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ نوجوان کسی بھی مذہب کا ہو، اس کا اعتماد ہل گیا ہے۔ اس ہلے ہوئے اعتماد کو کیا بحال کرنے کی ذرا بھی سمجھ کانگریس، بھارتیہ جنتا پارٹی یا دوسری پارٹی کے لیڈروں کے من میں نہیں ہے؟ وہ کیا یہ سوچتے ہیں کہ وہ اس ملک سے بڑے ہیں، کیا انہیں بھرم ہے کہ وہ 120 کروڑ لوگوں کی طاقت سے زیادہ طاقتور ہیں؟ ان تمام سیاسی پارٹیوں کی ساری فرضی یا نقلی رکنیت کو ملا لیں تو وہ دو کروڑ یا تین کروڑ کی عدد پار نہیں کرتیں۔ ہندوستان میں 120 کروڑ لوگ ہیں، جن میں سے لگ بھگ 70 یا 75 کروڑ لوگ ووٹ دیتے ہیں۔ ان کی طاقت یقینا ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے زیادہ ہے۔ اس بات کو یہ سیاسی لیڈر آج نہیں سمجھ رہے ہیں، لیکن کل ان کو سمجھنا پڑے گا۔ حالت یہ تھی کہ ان سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ دہلی میں احتجاجی مظاہرہ کر رہے نوجوانوں کے بیچ میں جاتے اور اپنی کوئی بات کہتے، کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ لوگ ان کی بات پر بھروسہ نہیں کریں گے اور ہوسکتا تھا انہیں دیکھ کر لوگوں کا غصہ اور بڑھ جائے۔ سونیا گاندھی بھی ساڑھے گیارہ بجے رات کو کچھ لوگوں کے ایک گروپ کے درمیان پہنچیں، دن میں نہیں جا پائیں۔ راہل گاندھی کے لیے اس جلوس میں نعرے لگے کہ راہل گاندھی چوہا ہے۔ جتنے بھی کانگریس پارٹی کے یا بی جے پی سمیت دوسری سیاسی پارٹیوں کے نوجوان لیڈر تھے، وہ کہیں نظر نہیں آئے۔ جو نظر میں ایک دو آئے، انہوں نے بھی پولس کے ڈنڈے کھائے، جن میں کانگریس کی ایک خاتون لیڈر الکا لامبا بھی ہیں۔ ان سب کو بھی پولس نے بہت پیٹا۔
اب سوچنے کی ضرورت سیاسی پارٹیوں کو ہے، کیوں کہ اگر سیاسی پارٹیاں نہیں سوچتیں تو وہ اس ملک میں نکسل ازم کو ایک جواز دیتی ہیں۔ نکسل وادیوں نے اپنے اپنے یہاں یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ آپ نے سب کچھ دیکھ لیا، اتنا بڑا احتجاجی مظاہرہ دیکھ لیا، کیا کچھ ہوا؟ پرامن طریقے سے احتجاج کرنے کا حق سب کو ہے۔ آپ لوگ کہتے ہیں کہ پرامن مظاہرہ ہوا، لیکن پرامن مظاہرہ کے اوپر پولس نے جس بربر طریقے سے لاٹھی چارج کیا، وہ لاٹھی چارج انگریزوں کے زمانے میں گاندھی جی کے پیروکاروں کے ذریعے نکالے گئے جلوس کے اوپر انگریز پولس کے لاٹھی چارج کی یاد دلا گیا۔ نکسل وادیوں کا کہنا ہے کہ آپ پرامن مظاہرہ کریں گے، پولس آپ کے اوپر لاٹھی چلائے گی۔ آپ ہتھیار لے کر ان کا مقابلہ کریں گے، پولس بھاگ جائے گی، آئے گی نہیں۔ نکسل وادی اپنے علاقوں میں اس کی مثال دیتے ہیں کہ دیکھئے، یہاں پولس نہیں آ پاتی ہے، یہاں پولس آتی ہے، سو، دو سو، تین سو کے جتھے میں آتی ہے۔ نکسل وادیوں کو جواز دینے کے پیچھے کیا کوئی سازش ہے؟ شاید ہاں، کیوں کہ آج سیاست میں اہم مانے جانے والے لیڈر نہیں چاہتے کہ اس ملک میں جمہوریت رہے اور جمہوریت کے اوپر سے لوگوں کا اعتماد جلد از جلد کیسے اٹھے، اس کے لیے سارے لوگ کوشش کر رہے ہیں۔ کسی بھی پارٹی میں اندرونی جمہوریت نہیں ہے۔ کہیں پر بھی کارکنوں کی بات نہیں سنی جاتی ہے۔ کہیں پر بھی کارکنوں کو ٹکٹ دینے میں ترجیح تو چھوڑ دیجئے، غور کرنے کی جو فہرست ہوتی ہے، اس میں بھی ان کا نام نہیں ہوتا۔ اب سیاست کے اوپر وہ لوگ حاوی ہو گئے ہیں، جو عوام سے دور ہیں، جنہوں نے عوام کے لیے کچھ کام نہیں کیا۔ یہ سب کون لوگ کر رہے ہیں؟ یہ سب وہ لوگ کر رہے ہیں، جو گاندھی جی کے پیروکار مانے جاتے ہیں۔ یہ سارے لیڈر اپنی اپنی پارٹیوں میں ایک آواز سے، ایک رائے سے ، اندرونی جمہوریت سے ایسی کی تیسی کر چکے ہیں اور جو بچا کھچا ہے اسے کرنے پر لگے ہیں۔ عوام کتنا برداشت کریں گے۔ اگر میں ان لوگوں سے صرف ایک بات کہوں کہ سب سے زیادہ عوام پریشان ہوئے ہیں جمہوریت کو لے کر، تو خلیجی ممالک میں ہوئے ہیں۔ جب وہاں پر فوجی تانا شاہی یا آمریت کے خلاف لوگ کھڑے ہو سکتے ہیں اور لگاتار لڑ سکتے ہیں، حالانکہ مناسب قیادت نہ ہونے کی وجہ سے اس لڑائی کا خاتمہ بہت اچھے نتیجے میں نہیں ہوا ہے، پر اس کے باوجود ان کی لڑائی کامیاب ہوئی ہے، وہاں ایوانِ اقتدار ہلا ہے، ایک گیا ہے تو دوسرے لوگ آئے ہیں اور جو لوگ ٹھیک سے کام نہیں کر رہے ہیں، وہاں ان کے خلاف بھی لوگوں کا غصہ پھوٹ رہا ہے۔ پچھلے دو سالوں سے دنیا میں جو اشارے دکھائی دے رہے ہیں، دنیا میں جو لڑائی چل رہی ہے، اسے دیکھ کر بھی کیوں ہمارے ملک کے لوگ نہیں سیکھتے۔ عام لوگ تو بیدار ہو رہے ہیں، عام لوگ تو اپنی لڑائی لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں، پر یہ جو اقتدار میں بیٹھے لوگ ہیں، وہ ان اشاروں کو یا اس ہونے والے مہابھارت کو کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں۔ میں مہابھارت اس لیے کہتا ہوں کہ ہر مہابھارت کا نتیجہ بہت تکلیف دہ ہوا ہے۔ دونوں طرف سے بہت نقصان ہوا ہے۔ اس میں جو متاثرہ فریق ہے یعنی عوام کا فریق، اسے سدھرنے کی ضرورت نہیں ہے، اسے تو اور غصے میں آکر مشتعل ہونا چاہیے، لیکن وہ جو اِن سب کے ذمہ دار ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ عام لوگوں کو، ان کے من کی خواہش کو، ان کی تکلیف کو، ان کے درد کو، ان کے خوابوں کو سمجھیں اور اگر نہیں سمجھتے ہیں تو اس ملک میں لڑائی اب صرف ایک طرح سے نہیں ہوگی۔ جگہ جگہ محاذ کھلیں گے، جگہ جگہ جنگیں لڑی جائیں گی اور جگہ جگہ برسراقتدار لوگوں کو ہرانے کے لیے لوگ اپنی جان کی بازی لگا دیں گے۔ جبر کتنا بھی ہو، اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور وہ حد شاید حزبِ اقتدار کے لوگ پار کرنے کے مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ ایک صحافی کے ناتے میرا اتنا ہی کہنا ہے کہ سنبھلنے کا وقت ختم ہو چکا ہے، لیکن پھر بھی برباد ہونے کا وقت ابھی شروع نہیں ہوا ہے۔ اس لیے ابھی بھی اگر سنبھل سکتے ہیں تو، وہ جو اس جمہوریت کو برباد کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اگر وہ سنبھل جائیں گے تو تاریخ انہیں معاف کر دے گی، ورنہ ہندوستان کی آنے والی نسل یہی کہے گی کہ کیسے بے رحم اور ظالم لوگ تھے، جنہوں نے ہماری تکلیف کو اور ہمارے خواب کو بے رحمی سے روندا۔ اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے کیا سچ مچ ہمارے لیڈروں میں سمجھ کا قحط پڑ گیا ہے؟ دیکھنا ہے کہ سمجھ کا یہ قحط ختم ہوتا ہے کہ نہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *