سیاست کا فریبی اور بناوٹ چہرہ

Share Article

میگھناد دیسائی
کہتے ہیں، جنگ کے وقت سب سے زیادہ نقصان سچ کا ہی ہوتا ہے۔ ہندوستانی سیاست میں سچ کی شمولیت نہیں رہی۔اس لیے ہم اسے لے کر زیادہ فکر مند بھی نہیں رہتے، لیکن گزشتہ دنوں ہمیں زبردست طور پر فریب، بناوٹی پن، الزام در الزام اور تشہیری باتیں دیکھنے سننے کو ملیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب رام دیو ایشو پر حکومت نے پلٹی ماری۔ پہلے وزیر خوشامد کرنے اور بابا رام دیو کے دیدار کرنے ایئر پورٹ پہنچے۔ جس کسی نے بھی بابا رام دیو کی کارگزاریوں کو نزدیک سے دیکھا اسے محسوس ہو گیا کہ بابا یہ لڑائی ہار رہے ہیں۔ ایسی صورت میں سرکاری کارروائی کر کے انہیں شہید کا درجہ دیے جانے کی ضرورت نہیںتھی،لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ صفائی سے کام کرنا یو پی اے حکومت کی فطرت میں شامل ہی نہیں ہے ۔اس لیے دیر شب اس ڈراما کے اداکار کے اوپر ہی نہیں بلکہ وہاں پر سوتے ہوئے ہزاروں معاون اداکاروں پر بھی لاٹھیاں برسائی گئیں۔
یہاں طاقت کے استعمال کی ضرورت ہی نہیں تھی اور اس کے بعد فضول الفاظ جیسے ایمر جنسی اور جلیاں والا باغ سانحہ سے اس واردات کا موازنہ کر کے اپوزیشن نے اپنے ہاتھ سے ایک بہتر موقع کھو دیا۔ اپوزیشن نے اس واردات سے وابستہ آئینی ذمہ داری پر سوال ہی نہیں اٹھایا۔ یہ سوال نہیں اٹھایا کہ اس کارروائی کے لیے ذمہ دار کون ہے اور یہ کارروائی کس بنیاد پر کی گئی اور کس کے حکم پر یہ سب ہوا۔ آخر کار، آزاد خیالات اور اجلاس کرنے کے بنیادی اختیار کی خلاف ورزی کیوں ہوئی؟ آخر کب سے بھوک ہڑتال کرنے کے لیے حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت پڑنے لگی ہے؟ یہ کون طے کرے گا کہ ایک یوگا کیمپ غیر سیاسی ہے، لیکن ایک بھوک ہڑتال سیاسی واقعہ ہے؟
اگر اس واقعہ کا جلیاں والا باغ سانحہ سے موازنہ کیا جائے تو اسے بچپنا ہی کہا جائے گا، ٹھیک ویسے ہی جیسے سشما سوراج کے راج گھاٹ پر ناچنے پر انگلی اٹھانا۔ یہ کانگریس کے فریب کی انتہا تھی۔ سشما، آخر 1950کی دہائی میں آئی فلم’’نیا دور‘‘ کے گانے پر ہی تھرک رہی تھیں، نہ کہ ’’منی بدنام ہوئی‘‘ جیسے آئٹم نمبر پر ناچ رہی تھیں۔ صوفی، سنتوں سے لے کر میرا تک مذہبی گانوں پر ناچتے تھے، لیکن اورنگ زیب کی طرح کانگریس نے بھی گویا کسی بھی جگہ ایسے پروگراموں پر ممانعت نافذ شروع کر دی ہے۔ آخر کیوں نہ ہو؟ بابائے قوم کی سمادھی (راج گھاٹ) کو تو کانگریس نے اپنی میراث سمجھ لیا ہے۔
بہر حال، کانگریس کا فریب یہیں نہیں تھما۔ اس کے ترجمانوں نے رام دیو کو آر ایس ایس کا پیدائشی ایجنٹ تک کہہ ڈالا اور بابا سے ملنے ایئر پورٹ پہنچے وزراء نے انہیں ٹھگ بھی قرار دے دیا۔یقینا بابا رام دیو کے خلاف حکومت بہت موٹی فائل بنائے گی۔ آخر ایسا کیوں نہ ہو؟ بابا رام دیو نے تو ایک ایسا اخلاقی جرم کیا ہے جو ناقابل معافی ہے۔رام دیو نے کانگریس کے ہاتھوں فروخت ہونے سے منع جو کر دیا تھا، جیسے اے راجا اور کنی موئی کے معاملہ میں ہوا۔ کانگریس اپنے دوستوں کو لے کر خوش قسمت نہیں رہی ہے اور وہیں بابا اپنے دشمن کے معاملہ میں خوش قسمت رہے ہیں۔ خود ہی بابا ولین کے کردار میں آ گئے جب انھوں نے گیارہ ہزار مسلح فوج بنانے کا غیر ذمہ دارانہ اعلان کیا۔کیا بابا حقیقت میں اسے لے کر سنجیدہ ہیں؟ بابا کوممتا بنرجی سے التماس کرنا چاہیے کہ وہ انہیں مائونوازوں سے ملوائیں، تاکہ بابا پتہ کر سکیں کہ حکومت کو تنگ کرنے کے لیے کتنے سیدھے سادے لوگوں کو گمراہ کرنا پڑتا ہے۔
جہاں کانگریس کو منھ کی کھانی پڑتی، وہیں کانگریس اس طوفان سے بڑی آسانی سے نکل گئی۔ مسلسل اپوزیشن کانگریس کے جال میں پھنس کر کانگریس کا ہی محافظ بن جاتی ہے۔ صرف ایک خطرہ ہے کہ دگ وجے سنگھ آر ایس ایس کو ایک بہت ہی خطرناک تنظیم بتانے میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ یہ محض نیکر پہنے چند ایسے لوگ ہیں،جو 1750کے مراٹھا سامراج کو دوبارہ آباد کرنے کا خواب دکھا رہے ہیں۔آر ایس ایس کو ایک خطر ے کی شکل میں بتانے کے بعد کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یو پی اے نے گزشتہ سات سال میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کچھ کیوں نہیں کیا؟ کیا وہ اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ تحور رانا اور ہیڈلی کے معاملہ کی طرح ہی سی آئی اے آکر آر ایس ایس کے خلاف کیس درج کرے گا؟ کانگریس سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کر نے میں قاصر رہی ہے۔وہ مسلمانوں کی سماجی اور اقتصادی صورتحال کو بہتر بنا پانے میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے فرقہ واریت کے ایشو کو زندہ رکھنا کانگریس کی مجبوری ہے، تاکہ وہ مسلم ووٹوں کو اپنے پالے میں لا سکے۔ اس درمیان ، ملک سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارتے ہوئے آزاد ہندوستان کے عظیم مصور مقبول فدا حسین کی موت ہو گئی۔ا نہیں اس ملک میں نہ تو بجرنگ دل، نہ ہی سیکولر یو پی اے1اور یو پی اے 2کے ٹھگوں سے حفاظت ملی۔ ظاہر ہے، ان کے لیے کسی ایک مسلم ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *