کٹھوعہ عصمت دری معاملے میں نیاموڑ، چارج شیٹ میں انکشاف

Share Article
kathua-case
جموں وکشمیر کے کٹھوعہ ریپ اورقتل معاملے میں پیرکے روز ایس آئی ٹی نے سپلیمنٹری (ضمنی) چارج شیٹ دائرکرکے 130نئے گواہ جوڑے ہیں۔ایس ایس پی کرائم برانچ راجیش کمارجھالا نے 614صفحات پرمشتمل سپلیمنٹری (ضمنی) چارج شیٹ سیشن کورٹ میں پیش کیاہے، اس میں 130نئے گواہ شامل کئے گئے ہیں۔اس کے بعد کیس میں گواہوں کی تعداد 221سے بڑھ کر 351ہوگئی ہے۔وہیں گواہوں کے بیانوں کے صفحات کی تعداد 1335پہنچ گئی ہے۔جموں وکشمیرکے کٹھوعہ میں جنوری میں ہوئی نابالغ کے ساتھ وحشیانہ حرکت، عصمت دری اورقتل معاملے میں کرائم برانچ نے سپلیمنٹری (ضمنی) چارج شیٹ پٹھان کوٹ ضلع جج کی عدالت میں دائرکردی ہے۔
ذرائع کے مطابق سپلیمنٹری چارج شیٹ میں مندرکے پجاری سانجھی رام کو اہم ملزم اور سازش کرنے والا بنایا گیا ہے۔ اس میں کیس سے منسلک فورنسک لیب ٹسٹ کی رپورٹ اور ملزمین کی کال ڈیٹیل بھی منسلک کی گئی ہیں۔ کال ڈیٹیل سے واضح ہورہا ہے کہ اس کیس کو لے کرملزم ایک دوسرے کے رابطے میں تھے۔سانجھی رام کے بیٹے شبھم جس نے واردات کے وقت کٹھوعہ کے بجائے سہارنپور کالج میں ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کی بھی کال ڈیٹیل (فون کال کی تفصیلات) چارج شیٹ میں منسلک کی گئی ہے۔ اب اس پورے معاملے میں کل 351 گواہ ہوں گے، جن میں کچھ موقع پرتھے۔ ان سبھی کے بیان ریکارڈ کئے گئے ہیں۔
میڈیارپورٹس کے مطابق، چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچی کو منار(لوکل بھانگ) کھلائی گئی تھی۔ کچھ نشیلی دواوں کی مقداربھی بہت زیادہ دی گئی تھی۔ بچی کو پہلے دن خالی پیٹ ایپیٹرل دی گئی۔ دوسرے دن کلونازیپم کی پانچ گولیاں کھلائی گئیں، جوعام طورپر10 گنا زیادہ اسٹرانگ ڈوزتھا۔ میڈیکل رپورٹ کہتی ہے کہ اس اوورڈوزکی وجہ سے بچی کوسانس لینے میں پریشانی آئی، جوکوما اورموت کی طرف لے جاتی ہے۔
سب انسپکٹر کی بینک تفصیل اوراکاونٹ نمبربھی چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ سانجھی رام کی طرف سے انسپکٹر کے اکاونٹ میں رشوت جمع کرنے کی بات کہی گئی تھی تاکہ اس پورے معاملے کو دبایا جاسکے۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں سبھی 8 ملزمین پوری طرح ملوث تھے۔ نابالغ ملزم کوبالغ ثابت کرنے سے متعلق سبھی دستاویز چارج شیٹ میں شامل کئے گئے ہیں۔ حالانکہ یہ معاملہ ابھی عدالت میں ہے۔
وہیں پراسیکیوشن کے وکیل سنتوکھ سنگھ بسرا نے الزام لگایا کہ گواہوں کی جانکاری پہلے ملنے سے دھمکی دی گئی تھی۔ اس متعلق شکایت کرائم برانچ کو دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس معاملے میں سبھی گواہوں کو کورٹ میں پیش نہیں کریں گے، کچھ اہم گواہ ہی پیش ہوں گے۔
واضح رہے کہ کٹھوعہ کے رسانا گاوں میں رہنے والی خانہ بدوش طبقے کی 8 سالہ معصوم بچی 10 جنوری کو لاپتہ ہوگئی تھی۔ 17 جنوری کو اس کی لاش جنگل سے برآمد ہوئی۔ بچی کی عصمت دری کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ جموں وکشمیر پولیس کی کرائم برانچ معاملے کی جانچ کررہی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *