افریقہ و ایشیا میں تعلیمی بیداری میں سرسید تحریک کا نمایاں رول ہے : پدم شری پروفیسراخترالواسع

Share Article
Sir-Syed-Day-Celebration
مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور میں مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی کے زیر اہتمام گذشتہ روزیومِ سرسید کا اہتمام کیا گیا، جس کی صدارٹ سوسائٹی کے صدر حاجی عباداللہ قریشی نے کی اور مہمانِ خصوصی کے طور پر پدم شری پروفیسراخترالواسع شریک ہوئے۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے مشہور صحافی اور سماجی بنیاد گزار جناب سلیم خلجی نے سرسید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے تعلیم کی جو جوت جگائی اور علی گڑھ میں کالج قائم کیا یہ اسی کا اثر ہے کہ راجستھان کے اس ریگزار میں مولانا آزاد یونیورسٹی قائم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سرسید نے مسلمان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ہندوستانی کی حیثیت سے اپنے موقف اور راستے کا تعین کیا۔
اس خصوصی تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مولانا آزاد یونیورسٹی کے پریسیڈینٹ پدم شری پروفیسراخترالواسع نے کہاکہ ہندوستان اس پر جتنا بھی فخر کرے کم ہے کہ سرسید نے تمام عالم اسلام میں جدید تعلیم کا پہلا ادارہ علی گڑھ میں قائم کیا اور افریقہ و ایشیا میں تعلیمی بیداری میں سرسید تحریک کا نمایاں رول ہے۔ سرسید ادارہ ساز، افراد ساز، فکر و عمل کے پیکر، ماضی آگاہ اور مستقبل شناس شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے ہمارے مذہب، زبان، ادب، تہذیب اور علمی، فکری سوچ کو ایک نئی مثبت سمت اور رفتار عطا کی۔ سرسید کو سچا خراج عقیدت یہ ہوگاکہ ہم ان کی طرح اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے نئی منصوبہ بندی کے ساتھ سرگرم عمل رہیں۔
پروگرام کے آخر میں مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی کے ٹریزرار اور سی ای او جناب محمد عتیق نے کہا کہ ہمارے تمام تعلیمی ادارے سرسید کی تحریک سے روشنی لے کر قائم کیے گئے ہیں اور آج سے تیس سال پہلے ہم نے پری پرائمری سے جو تعلیم کا سفر شروع کیا تھا وہ اب مولانا آزاد یونیورسٹی کی صورت میں رواں دواں ہے۔
یومِ سرسید کی اس خصوصی تقریب میں مہمانِ ذی وقار کے طور پر جودھپور کے سب سے سینئر علیگ اور مشہور ڈاکٹر غلام ربانی شریک ہوئے اور ان کے علاوہ خالد قریشی، پروفیسرسلیم احمد، پروفیسرسپنا سنگھ راٹھور، ڈاکٹر شویتا تیواری، محمد صادق فاروقی، ڈاکٹر عبداللہ خالد، پرویز احمد اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات شامل ہوئے۔ تقریب کا آغاز طالب علم عابد علی کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا اور نظامت کے فرائض اقبال چندریگر نے انجام دیے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *