سرسید احمد خان کے آبائی مکان کو قومی ورثہ قرار دیا جائے

Share Article

 

دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی اسٹاف ویلفیئر اینڈ چیئرٹیبل ٹرسٹ کا مطالبہ

دہلی کے مایہ ناز فرزند ، بر صغیر ہنددوپاک میں مسلم دانشوری کے سرخیل، عظیم مصلح قوم و ملت اور جدید ہندوستان کے معمار سر سید احمد خان (17؍اکتوبر1817۔27؍ مارچ 1898 ) کے یوم پیدائش (یوم سرسید) سے قبل شام 16؍اکتوبر2019کو دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی اسٹاف ویلفیئر ایند چیئریٹیبل ٹرسٹ کی ایک یادگاری اور مشاورتی میٹنگ میں اتفاق رائے سے فیصلہ لیا گیا کہ آئندہ ٹرسٹ کی جانب سے ایک ـ’’سرسید اکیڈمی آف ایکسیلینس‘‘ کے نام سے ایک ذیلی ادارہ قائم کیا جائے گا۔اس موقع پر دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر اشفاق احمد عارفی،ڈپٹی ایگزیکٹو آفیسر اور ٹرسٹ کے صدر جناب محسن علی نے اپنے مشترکہ بیان میں بتایا کہ ٹرسٹ اپنی تشکیل کے اغراض و مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے مذکورہ سرسید اکیڈمی برائے ایکسیلینس کے تحت تعلیم و تدریس اور زندگی کے مختلف شعبوں میں استعداد اور مہارتوں کے فروغ کے لیے تربیتی کورس اور پروگرام کا انعقاد کرے گی۔

اس موقع پر فصیل بند تاریخی شہر دہلی کے دریا گنج علاقہ میں واقع سر سید احمد خان کے پیدائشی اور آبائی مکان کی حالت زار پر سنگین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کو اہل دہلی اور دانشواران دہلی کے لیے ایک لمحہ ٗ فکریہ قرار دیا گیا۔اشفاق احمد عارفی نے کہاکہ ہم محبان اردو کے لیے عموماً اور دہلی کے دانشواران قو م و ملت کے لیے خصوصاًضروری ہے کہ ہندوستان کے دارالحکومت میں واقع سر سید احمد کے آبائی مکان اور مقام پیدائش کو ایک قومی یادگار کے طور پر محفوظ کرانے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر برطانیہ کے شہر لندن میں واقع وہ عمارت ہمارے لیے قابل مثال جس میں سر سید احمد خان انگریز مصنف اور مستشرق ولیم میور کے ذریعہ رسول اللہ ﷺکی شان میں لکھی گئی گستاخانہ تصنیف’’ The Life of Muhammad‘‘کا علمی جواب اور اپنی مشہور زمانہ تصنیف ’’خطبات احمدیہ‘‘ لکھنے اورانگریزوں اور برطانیہ کی تعلیمی ترقی اور تعلیمی نظام کے مطالعے کے لیے دو سال تک قیام پزیر رہے تھے اور جس عمارت کو حکومت برطانیہ نے سر سید کی قدرشناسی اور ان کی شخصیت کے اعزاز کے طور پر ’’انگلش تاریخی ورثہ‘‘کے طور پر محفوظ کر دیا ہے۔ہم قدر شناسان سر سید کا فریضہ ہے کہ دہلی میں واقع سر سید کے آبائی مکان کو ہندوستان کی ایک یادگار عمارت کے طور پر محفوظ کرانے کی سمت میں اپنی انفرادی اور اجتماعی کاوشوں کو بروئے کار لائیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *