دین بندھو کبیر
p-10اترپردیش کے پیلی بھیت میں 11 سکھ نوجوانوں کو بس سے اتار کر مارے جانے کے معاملے میں مجرم پولیس والوں کو 25 سال بعد سزا تو سنا دی گئی، لیکن ان سات سکھ نوجوانوں کے لواحقین کو انصاف اور کتنی دیر سے ملے گا، جنھیںپیلی بھیت جیل میں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا تھا۔ ہندوستان کے جمہوری نظام پر آدھے سچ کی طرح چپکے آدھے انصاف کو کھرچنے کی کوشش یںتو چل رہی ہےں، لیکن انصاف ملنے میںاور کتنے سال لگیں گے، اس کے بارے میںتو ایشور، اللہ، واہے گرو بھی کچھ نہیںکہہ سکتا۔ سکھ اپنے ہی ملک میںدوئم درجے کی اقلیت ہیں، جن کے ساتھ آزادی سے لے کر آج تک بھید بھاو¿ برتا جارہا ہے، لیکن ان کے لےے رونے والاکوئی لیڈر نہیں۔ سڑک سے لے کر عدالتوں تک سکھوں کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے اپنی پوری زندگی گزارچکے سردار امیر سنگھ وِرک جب یہ کہتے ہیں، تو ملک کی سیاست، انتظامی نظام کی مجرمانہ تصویر اور عدالتی نظام کی بیچارگی صاف صاف جھلکتی ہے۔ سردار امیر سنگھ وِرک cکے قومی صدر ہیں، جھنوں نے نہ صرف ملک کے سکھوں کے حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے معاملے قومی اور بین الاقوامی فورم پر اٹھائے ہیں ، بلکہ پاکستان کی جیل میں بند سربجیت سنگھ کی رہائی کے مسئلے کو بھی ملک و دنیا میں کافی پروان چڑھایا۔ 1984 کے فسادات کے شکار سکھ خاندانوں کو معاوضہ دلانے میں سردار امیر سنگھ ورک کا اہم کردار رہا ہے۔ ورک اب پیلی بھیت جیل میں سات نوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کے واقعہ پر متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور ان کی اقتصادی مدد کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ 28 نومبر 1994 کو پیلی بھیت جیل میںبند 28سکھ نوجوانوں کو بربریت کے ساتھ پیٹا گیا تھا، جن میںسے سات نوجوانوں کی موت واقع ہوگئی تھی۔ لیکن اس معاملے میں قصوروار افسروں اور ملازمین پر آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
پیلی بھیت میں سکھ تیرتھ یاتریوں کے مارے جانے کے معاملے میں انصاف ملنے کے بعد اب جیل کے قتل کیس کو بھی فیصلہ کن شکل پر پہنچانے کی تیاری ہے۔ وِرک کہتے ہیں کہ اس معاملے کی اس وقت سی بی سی آئی ڈی سے جانچ کرائی گئی تھی اور معاملے کی لیپاپوتی کردی گئی تھی۔اب سی بی آئی سے اس کی جانچ ہونی چاہےے۔ جیل قتل کیس معاملے میںمتاثرہ سکھ نوجوانوں کے لواحقین کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے تک کا موقع نہیںملا ۔ اس معاملے کے سارے ملزم بغیر کسی گواہی اور دلیل کے بچ گئے تھے۔ یہاںتک کہ انھیں اپنی ضمانت بھی نہیںکرانی پڑی تھی۔ اس معاملے کی جانچ کررہی سی بی سی آئی ڈی نے 48 جیل ملازمین کے خلاف کورٹ میںچارج شیٹ داخل کی تھی۔ ان میں اس وقت کے جیل سپرنٹنڈنٹ وی ایس یادو کا نام بھی شامل تھا۔ مگر معاملے کی اتنی لیپا پوتی کردی گئی کہ آگے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد سرکارنے 2007 میںیہ مقدمہ واپس بھی لے لیا۔ سی بی سی آئی ڈی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ بارہ قیدیوں کو چوٹیںآئی تھیں، لیکن کوئی گواہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ جانچ آگے نہیںبڑھ پائی۔
سند رہے، پیلی بھیت جیل میںبند 28 سکھ نوجوانوں کی 8نومبر 1994 کو بری طرح پٹائی کی گئی تھی۔ اس میںسنگین طور پر زخمی قیدی ترسیم سنگھ عرف سوما، گاو¿ں بگّادینا (راجہ سانسی) امرتسر، لابھ سنگھ عرف گلی، گاو¿ں مینی گلدیا پیلی بھیت، سکھدیو سنگھ، گاو¿ں ہریریا شاہجہاںپور، سروجیت سنگھ ، گاو¿ں جگت کندرو پیلی بھیت، جیت سنگھ گاو¿ں صدرپور پیلی بھیت اور ہردیال سنگھ، گاو¿ں فیض اللہ گنج شاہجہاں پور کی اسی دن موت ہوگئی۔ ایک دیگر زخمی وچتر سنگھ، گاو¿ں چتّا کا بھگو ا(لوپوکے) امرتسر کی لکھنو¿ میںکے جی ایم یو اسپتال میں علاج کے دوران موت ہوگئی۔ 21 قیدیوں کو سنگین چوٹیںآئی تھیں۔
اس معاملےکی پیلی بھیت تھانے میں تحریر دی گئی تھی۔ اس بنیاد پر پولیس نے نامعلوم لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ واقعہ پر وبال مچنے کے بعد پیلی بھیت کے ضلع افسر نے سی بی سی آئی ڈی جانچ کی سفارش کی تھی۔ حالانکہ بعد میںیہ بھی کہا گیا کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ کے حکم پر سی بی سی آئی ڈی کی جانچ ہوئی تھی۔ جانچ کے بعد سی بی سی آئی ڈی نے پیلی بھیت کے جیل سپرنٹنڈنٹ وندھیا چل سنگھ یادو، جیلر شہنشاہ حسین جعفری، رام کشور ترپاٹھی، منالال دویدی، لیاقت علی، بھارت سنگھ چودھری، راجندر پرساد دیکشت، ہیم چند ستی، گرجا شنکر، ہر پال سنگھ، ہردواری لال، چھوٹے لال، جانکی پرساد گنگوار، رامیشور دیال(1)، یشونت سنگھ، محمد سلیمان، موہن لال، رام سروپ، رامیشور دیال (2)، رام پال، انل کمار سنگھ، رام پال سنگھ، پرمانند، رام بہادر، ہیرا سنگھ، شانتی سروپ، میوا رام، کرشن پال سنگھ، سکھ لال، لال بہادر، جگت نارائن، کلو سنگھ، نوکھے سنگھ، بھرت جی، گنگا رام، شیام سنگھ ملکھان سنگھ، دیوی سنگھ، کھیم پال سنگھ اور انوکھے سنگھ سمیت 48 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس وقت پولیس اورجیل ملازمین کا اتنا خوف تھا کہ متاثرہ خاندان پیروی کی ہمت نہیںجٹا سکے۔ ڈر کے سبب کوئی شخص گواہی کے لےے بھی سامنے نہیںآیا۔ اس وقت جو لوگ جیل میں بند تھے ، وہ بتاتے ہیںکہ بنا کسی ثبوت کے سکھ نوجوانوں کو جیل میںڈال دیا جاتا تھا۔ جن نوجوانوںکو پیٹ کر ہلاک کردیا گیا،ان کو بیرک سے نکال کر پولیس والوںنے مل کر وحشیوں کی طرح پیٹا تھا۔ اس وقت لگ رہا تھا کہ جیل اہلکار سارے سکھوں کو مار ڈالیںگے۔ معاملہ طول پکڑنے پر سرکار نے ٹاڈا کے تحت جیل میں بند بہت سے سکھوںکورہا کردیا تھا۔ سرکار نے متاثرہ خاندانوں کو ایک ایک لاکھ روپے دےے تھے اور انصاف کا دروازہ بند کردیا تھا۔
سردار امیر سنگھ ورک کہتے ہیںکہ پیلی بھیت جیل میںسکھ نوجوانوں کے اس طرح بربریت سے مارے جانے کے معاملے میں ریاست اور ملک کی سرکاریں تو خاموش ہوکر بیٹھ گئیں، لیکن اس معاملے کو اقوام متحدہ سے لے کر تمام بین الاقوامی اسٹیج پر لے جایا گیا۔ اس کا اثریہ ہوا کہ 29 نومبر 1994 کو امریکہ کے ہاو¿س آف رپریزینٹیٹو میں یہ معاملہ گونجا اور سکھوں پر ہوئے اس ظلم کے خلاف قرارداد پاس کی گئی۔ امریکی ممبر پارلیمنٹ کے ذریعہ یہ بات سامنے آئی کہ جن سکھ نوجوانوں کو پیلی بھیت جیل میںپیٹ کرمارا گیا، انھیںجلدی ہی رہا کیا جانا تھا۔ قتل کے پیچھے سازشوں کے تار دیکھےے کہ مارے گئے سکھوںمیںچار لوگ اس واقعہ کے چشم دید گواہ تھے، جس میںتیرتھ یاتریوں سے بھری بس سے 11 سکھ نوجوانوں کو اتارکر مار ڈالا گیا تھا۔ ورک کہتے ہیں کہ قانون کے نقطہ نظر سے یہ ایک ایسا اہم پہلو ہے جس پر پہلے سے سزا پائے پولیس ملازمین پر اور بھی دفعات کے تحت سزا بڑھ سکتی ہے اور پیلی بھیت جیل کے اہلکاروں پر بس قتل کیس میںسازش کرنے کا معاملہ بھی چلایا جاسکتا ہے۔
اس واقعہ کو بھی یاد کرتے چلیں کہ اپنے خاندان کے ساتھ تیرتھ یاترا پر نکلے سکھ خاندانوں کے 11 نوجوانوں نریندر سنگھ عرف نندر ولد درشن سنگھ، پیلی بھیت،لکھوندر سنگھ عرف لاکھا ولد گرمیج سنگھ، پیلی بھیت، بلجیت سنگھ عرف پپو ولد بسنت سنگھ،گرداسپور،جسونت سنگھ عرف جسّا ولد بسنت سنگھ، گرداسپور، جسونت سنگھ عرف فوجی ولد عجائب سنگھ، بٹالہ، کرتار سنگھ ولد عجائب سنگھ، گرداسپور ، مکھوندر سنگھ عرف مکھا ولد سنتوکھ سنگھ،بٹالہ، ہرمندر سنگھ عرف منٹا ولد عجائب سنگھ گرداسپور، سورجن سنگھ عرف بٹو ولد کرنیل سنگھ گرداسپور،رندھیر سنگھ عرف دھیرا ولد سندر سنگھ، گرداسپور اور تلوندر سنگھ، ولد ملکیت سنگھ شاہجہانپور (لاش بھی نہیںملی) کو بس سے اتارکر اترپردیش کی پیلی بھیت پولیس نے ان کا قتل کردیا تھا۔ 12 جولائی 1991 کو اترپردیش کے پیلی بھیت ضلع میں پولیس نے یہ بھیانک کام کیا تھا۔ پیلی بھیت فرضی مڈبھیڑ کیس میںمجرم ٹھہرائے گئے سبھی 47 پولیس والوںکو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ابھی حال ہی میںعمر قید کی سزا سنائی ہے۔ واقعہ کے 25 سال بعد عدالت کا فیصلہ آیا۔ خصوصی عدالت کے جج للو سنگھ نے سبھی ہتھیارے پولیس والوں پر ان کے عہدے کے حساب سے جرمانہ لگایا اورفرضی مڈبھیڑ میںمارے ئے 11 سکھوں کے خاندان کو 14-14 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا حکم بھی دیا۔ اب ان کے خلاف پیلی بھیت جیل قتل کیس کی سازش کرنے کا بھی معاملہ چلایا جانا باقی ہے۔ بس قتل کیس معاملے میںسی بی آئی کی خصوصی عدالت نے پولیس کے بڑے افسروں کے کردارپر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ سی بی آئی کی جانچ میںانتظامی دشواریوں کی وجہ سے وہ ٹرایل سے بچ گئے، لیکن ان اعلیٰ افسروں پر دوبارہ کیس چلانے کے سارے امکانات ہیں۔ یہ سوال اب بھی سامنے ہے کہ سی بی آئی نے اس فرضی مڈبھیڑکی ہدایت دینے والے اعلیٰ افسروں کو کیوں چھوڑ دیا اور ان کے خلاف چھان بین کیوں نہیںکی تھی۔ سی بی آئی نے ان بڑے افسروںکو کیوں بچیبچایا؟ جس طرح قتل کیس کو انجام دیا گیا تھا، اس سے واضح تھا کہ سکھوںکو گولیاں مارنے کی ہدایت اعلیٰ افسروں سے مل رہی تھی۔ پولیس کے عام افسر یا اہلکار بنا سینئر افسروں کی ہدایت کے اس طرح کا قتل نہیںکرسکتے۔ لیکن سی بی آئی نے اپنی جانچ سے انھیںدوررکھا۔ فرضی مڈبھیڑ معاملے اس وقت کے آئی جی زون، بریلی رینج کے ڈی آئی جی اور پولیس سپرنٹنڈنٹ شامل تھے۔ سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میںپیلی بھیت کے اس وقت کے ایس پی آر ڈی ترپاٹھی سمیت تین افسروںکے نام شامل نہیں کےے تھے۔آخر کیا وجہ تھی کہ سی بی آئی نے ان تینوں افسروںکے خلاف جانچ کرنے کے لےے سرکار سے اجازت بھی نہیںمانگی۔ ورک کہتے ہیںکہ ا س کی جانچ ہونی ہی چاہےے۔
معاوضہ تھا یا مذاق
32 سال ہوگئے۔ تین دہائیوں سے بھی زیادہ وقت میں ملک میں کئی فساد ہوئے۔ ان فسادات پر تمام سیاسی رودالیاں ہوئیں اور معاوضوںکی ریوڑیاں بانٹی گئیں، لیکن 1984 کے فساد متاثرہ سکھ خاندانوں کی خیر خبر کسی نے نہیں لی۔ سکھ تعداد میں کم ہیں۔ ان کا ووٹ مسلمانوں کی طرح متحد نہیں ہوتا۔ اسی لےے ان کی سیاسی اوقات بھی کم ہے۔ راحت اور معاوضے کی جدوجہد کرتے کرتے نسلیں بوڑھی ہوگئیں او رکئی بزرگ چلے بھی گئے۔ لیکن سکھ خاندانوں کو معاوضے کے نام پر صرف دھوکہ بانٹا جاتا رہا۔ اترپردیش میںتو سکھوں کی اور بھی درگت کی گئی۔ بی ایس پی اور ایس پی سرکاروںنے سکھوں سے خوب کھیلا۔ کبھی یہ حکومت کا حکم، تو کبھی وہحکومت کا حکم۔ اتراکھنڈ بننے کے بعد تو وہاںسکھوں کی اور خراب حالت کردی گئی۔ گھر ان کا اتراکھنڈ میں،لیکن معاوضہ کی قانونی لڑائی چلتی رہی اترپردیش میں۔ یہاںتک کہ فساد کے شکار ہوئے گرودواروں کی مرمت تک سرکاروںنے نہیںہونے دی۔ ٹوٹے پھوٹے گرودواروں میںہی سکھ متھا ٹیکتے ہیں اور سیاستدانوںکو کوستے ہیں۔ لکھنو¿ میں علی گنج میںواقع چودھری ٹولہ سنگت شری گروگرنتھ صاحب گرودوارہ اس کی نایاب مثال ہے۔ اس گرودوارے کو 3نومبر 1984 کو تہس نہس کردیا گیاتھا۔ حملہ آوروں نے گروگرنتھ صاحب کو بھی جلا کر خاک کردیا تھا۔ اس گرودوارے کی آج تک مرمت نہیں ہونے دی گئی۔ مقامی غیر سماجی عناصر ،زمین مافیا او رپولیس کی ملی بھگت کے سبب گرودوارہ آج تک اسی طرح کھنڈر بنا پڑا ہے۔
سردار امیر سنگھ ورک کہتے ہیں کہ اترپردیش میںفساد متاثرہ سکھ خاندانوں کے معاوضے کا معاملہ خوفناک حالات میںپھنس کررہ گیا۔ فساد کے شکار سکھوںکو معاوضہ دلانے کے لےے داخل عرضی کے حساس صفحات اور سات سات دیگر عرضیاں عدالت سے غائب کرادی گئیں۔ اور تو اور سکھوں کے معاوضے پر جس بنچ نے بھی ہمدردانہ رویہ اپنایا، اس بنچ کو ہی عین فیصلے کے وقت بدل ڈالا گیا۔ 1984 کے فسادات کے شکار زیادہ تر سکھوں کومعاوضہ نہیںملا، جنھیں ملا، وہ بھیک سے بدتر ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر 1984 کے فسادات کے معاوضے کے اترپردیش اور اتراکھنڈ کے سبھی معاملوںکی سماعت الٰہ آباد ہائی کورٹ میں ہوتی رہی ہے ۔الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو¿ بنچ میںفسادات کے شکار سکھوںکی طرف سے معاوضے کے لےے چھ ہزار 647 دعوے داخل کےے گئے۔ ان میں رٹ نمبر 1582 ۔ایم بی 97-، 2513۔ ایم بی 97- اور 3647۔ ایم بی 97- سمیت سات عرضیاں غائب کردی گئیں۔ جس بیس رٹ پر پورا معاملہ ٹکا تھا، اس عرضی (نمبر-3175-ایم بی 96-) سے 47 اہم صفحات غائب کردےے گئے۔ اصل عرضی سے 30 سے 44 نمبر تک کے صفحات غائب ہوگئے۔ اسی طرح 52 سے 55 نمبر، 163 سے 175 نمبر، 191 سے 205 نمبر اور 250 سے 251 نمبر صفحات غائب کردےے گئے۔ اس کی عدالت سے شکایت کی گئی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
سپریم کورٹ نے یہ واضح طور پر حکم دے رکھا ہے کہ 1984 کے فسادات کے متاثرین کو’ کرنٹ ‘ شرح سے معاوضے دےے جائیں،لیکن اترپردیش میں حکومت کے حکم کے مطابق معاوضہ دینے کو کہا گیا ۔ اتر پردیش سرکار کو معاوضے کا ضلع وار بیورا دینے کو کہا گیا تھا، لیکن ریاستی سرکار نے کوئی بیورا نہیںدیا۔ اس کے باوجود ہائی کورٹ نے فیصلہ سنادیا کہ حکومت کے احکامات کے مطابق معاوضے دےے جائیں۔ اس فیصلے کے مطابق ملے معاوضے کا حال دیکھےے۔ کانپور کے منجیت سنگھ آنند کے خاندان کا چار کروڑر وپے سے زیادہ کا نقصان ہوا تھا، لیکن سرکار نے ان کی ماں گیان کور کو 27 ہزار روپے دےے۔ لکھیم پور کھیری ضلع کے نگھاسن میں واقع کنو گھاٹ کے باشندے بلوندر سنگھ کے خاندا ن کے پانچ ممبروں کو فساد متاثرہ مانا تو گیا، لیکن انھیں30 روپے سے 70 روپے کا معاوضہ دے کر نمٹادیا گیا۔ کانپور کے گاندھی گرام میں واقع صوبیدار دلجیت سنگھ کا گھر فساد میںتباہ کردیا گیاتھا۔ ان کے والد کو گولی ماری گئی۔ وہ معذور ہوگئے۔ لیکن معاوضے میں انھیں پانچ ہزار روپے دےے گئے۔ کانپور میں ہی تیواری پور کے ریٹائر فوجی سردار ہربنس سنگھ اور ان کے بھائی سردار کلونت سنگھ فساد کے دن لاپتہ ہوگئے۔ ان کا کچھ پتہ نہیںچلا اور نہ ان کی لاش برآمد ہوئی۔ معاوضے کا مسئلہ اٹھا،تو قانون گو نے رپورٹ میںلکھ دیا کہ تیواری پور میںکوئی سکھ رہتا ہی نہیں۔ پانچ پانچ گاووں کے لوگوں اور گرام پردھانوں نے حلف نامہ داخل کرکے کہا کہ تیواری پور میں سکھ رہتے ہیں۔ یہ بھی لکھا کہ فساد کے دن سے ہی سردار امرجیت سنگھ کے والد اور بھائی غائب ہیں، لیکن سرکارنے ایک نہیں سنی اور متاثرہ خاندان کا دعویٰ خارج کردیا۔ 1984 کے وقت اترپردیش میں رہنے والے کئی سکھ ریاست کی تقسیم ہونے کے بعد اتراکھنڈ کے ہوگئے۔ لیکن ان کے معاوضے کا مسئلہ بھی الٰہ آباد ہائی کورٹ میں اٹکا رہا، لیکن انھیںآج تک معاوضہ نہیں ملا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here