سبل جی! تجربات نہیں تعلیمی مسائل حل کیجئے

Share Article

ستیش سنگھ
نئے تجربات کے خطرات کے تئیں فکر فطری امر ہے۔ تعلیم کے معاملے میں یہ خطرات مزید خوفناک ہوجاتے ہیں،لیکن ان خطروں سے ناواقف مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل جناب کپل سبل تعلیم کے شعبے میں گزشتہ ایک سال سے اپنے تجربات کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اپنی مسلسل اصلاحی کوششوں کے علاوہ انہوں نے ایک نیا شگوفہ چھوڑا ہے اور وہ ہے آئی آئی ٹی کے مقابلہ جاتی امتحان میں تبدیلی لانا ۔ وہ چاہتے ہیں کہ آئی آئی ٹی میں داخلے کے لئے 12ویں اور نیشنل اپٹی ٹیوڈ ایگزام کو بنیاد بنایا جائے۔ اس کے تحت 70فیصدمنظوری 12ویں کے امتحان کی ہوگی اور30فیصد نیشنل اپٹی ٹیوڈ ایگزام کی۔ اس تبدیلی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مسٹر سبل نے پہل کردی ہے، لیکن اس موضوع پر آئی آئی ٹی کے ذریعہ تشکیل کردہ کمیٹی کی سفارشات آنا ابھی باقی ہیں۔ اس تبدیلی کا مقصد کیپٹیشن فیس اور کوچنگ کے ریکٹ کو ختم کرنا ہے۔ اس اقدام کے نتائج مثبت ہوںیا منفی، لیکن اس میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فی الحال تمام ریاستوں میں 12ویں کے لئے یکساں سلیبس نہیں ہے۔ ایسے میں جناب سبل کا یہ تجربہ خیالی پلاؤ ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ تمام ریاستوں میں یکساں سلیبس نافذ کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اس بابت این سی ای آرٹی کے نصاب کو نافذ کیا جاسکتا ہے، لیکن جب تک یہ نصاب روزگار سے نہیں جڑتا، تب تک اس موضوع پر ریاستوں کے درمیان عام اتفاق رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اس حوالے سے جناب سبل جلدہی غیر ملکی ادارہ بل بھی لانے جارہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ غیر ملکی تنظیمیں روزگار سے جڑی تعلیم کو فروغ دینے میں اہم کردار اداکرسکتی ہیں۔ان کا ارادہ12ویں میں ووکیشنل کورس کی شروعات کرنے کا بھی ہے۔ جناب سبل بدلتے حالات میں اس طرح کا نظام لانا چاہتے ہیں، جس کے تحت مرکز ریاستی حکومتوں کو بڑے بھائی کی طرح ہدایتیں دینے کا کام کرے۔ اس تعلق سے عوامی جائداد کا صحیح استعمال کرکے اس کو تعلیم کے فروغ میں استعمال کرنا سب سے اہم موضوع ہے۔ چونکہ ہر ریاست کی علیحدہ علیحدہ خصوصیات اور ترجیحات ہیں، اس لئے ہر ریاست کے لئے یہ تجربہ الگ الگ طریقے سے کیا جانا چاہئے، تاکہ وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جاسکے۔جناب سبل کی قیادت میں اسکولوں و کالجوں میں تجربہ کا کام سمسٹروں میں کرنے کی بھی تیاری چل رہی ہے۔ دہلی انجینئرنگ کالج میں یہ نظام نافذ بھی کردیا گیا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں اصلاح ہمیشہ سے ہی سلگتا اور حل طلب موضوع رہا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے لئے اصلاح کے ساتھ ساتھ سبھی کو تعلیم یافتہ بنانا سب سے اہم موضوع ہونا چاہئے۔ ابھی بھی ہندوستان میں خواندگی کی شرح بہت کم ہے۔ اس لئے ہمیں شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں پر مساوی طور پر توجہ دینی ہوگی۔ فی الوقت ہندوستان میں مجموعی اندراج کا تناسب محض12.4فیصد ہے، جب کہ اسی ضمن میں دنیا کا اوسط25فیصد اور ترقی یافتہ ممالک کا 50فیصد ہے۔ پسماندہ ممالک میں یہ اوسط6فیصد ہے۔ اس طرح سے دیکھاجائے تواس معاملے میں ہماری پوزیشن پسماندہ ممالک کے آس پاس ہے۔
لہٰذا آج ملک کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہئے اور اس بات کو یقینی بنا نا چاہئے کہ ہمارے گھر کا ہربچہ اسکول جائے۔فی الحال ہندوستان میں تربیت یافتہ اساتذہ کازبردست فقدان ہے۔ اس وقت سرکاری اسکولوں میں تقریباً18لاکھ اساتذہ کی ضرورت ہے۔ چند ریاستوں میں شکشا متروں کو اساتذہ کی شکل میں بحال ضرور کیا گیا ہے ، لیکن شکشا متروں کی تنخواہیں اتنی کم ہیں کہ وہ چاہ کر بھی خوبیوں سے آراستہ تعلیم بچوں کو نہیں دے پا رہے ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ ریاستی حکومتوں کو فنڈ کی قلت کا سامنا ہو، لیکن تعلیم بنیادی ضرورت ہے اور اس کی راہ میں ہم فنڈ کی کمی کوحائل ہونے نہیں دیں گے۔ سروشکشا ابھیان میں مرکز ی اور ریاستی حکومتوں کو بغیر کسی تذبذب کے ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہئے،تبھی  100فیصد تعلیم کی دیرینہ آرزوحقیقی شکل اختیار کرسکتی ہے۔
حال ہی میں وزیر اعظم جناب منموہن سنگھ نے 6000ماڈل اسکول کھولنے کا اعلان کیا تھا۔6000میں سے3500پسماندہ علاقوں میں، جب کہ2500اسکول  قدرے کم پسماندہ علاقوں میں کھولنے کی تجویز ہے ۔2500اسکول حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے کھولے گی۔ اس اسکیم کے تحت 1000طلبہ کو حکومت وظیفہ دے گی اور 1500طلبہ کو نجی سرمایہ کار۔
اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ تعلیم کے شعبے میں پرائیویٹ شعبہ جات کے تعاون کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔فی الحال عظیم پریم جی اور بھارتی متل تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ پھر بھی اس سمت میں ابھی بہت اصلاح کی ضرورت ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ، ان کے ذریعہ وصول کی جانے والی فیس اور خوبیوں سے بھرپور تعلیم کا فقدان ہے۔
ہندوستان میں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے، لہٰذا سوفیصد خواندگی کا ہماراخواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا،جب تک کہ تعلیم سب کے لئے آسان نہ بن جائے۔ ہمارا نصب العین نت نئے تجربات کرنے کے بجائے، موجودہ دور میںشعبہ تعلیم کو درپیش مسائل کوحل کرنے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کا ہونا چاہئے۔ حکومت کو ایسی اسکیمیں نافذ کرنی چاہئیں، جن سے تمام بچے اسکول جانے کے لئے راغب ہوں۔ نئے تجربات سے بچوں کی الجھنیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *