گؤرکشاکے نام پرایک بارپھربھیڑنے مسلم نوجوان کوباندھ کرپیٹا

Share Article
Naushad
روہتک:گؤرکشاکے نام پرایک بارپھرماب لنچنگ کا معاملہ سامنے آیاہے۔ ہریانہ کے روہتک کے سونی پت شاہراہ پر بھلوٹھاگاؤں کے قریب، مبینہ طورپر گؤرکشکوں نے نوشادنام کے ایک نوجوان کوگائے تسکری کے الزام میں جم کرپیٹا۔ مشتعل بھیڑنے پہلے نوشاد اوراس کے ساتھی ڈرائیوراقبال کے ساتھ دوڑاکرپکڑا، جس کے بعدنوشادکوکھمبے سے باندھ کر اس کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی۔ مبینہ گؤرکشکوں کا الزام ہے کہ دولوگ گاڑی میں گائے کوبھرکراسے تسکری کیلئے لے جارہے تھے۔
Naushad1
حادثہ کی جانکاری ملنے کے بعد موقع پرپہنچی پولس نے ملزموں کوچھوڑایا اوراپنے حراست میں لے لیا۔پولس نے دونوں فریق کی طرف سے مقدمہ درج کرلیاہے۔نوشاد نے مبینہ گؤرکشکوں پرالزام لگایاہے کہ پیسے لینے کیلئے ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی ۔ جانوروں کولے جانے والے اس نوجوان نے پولس کوبتایاکہ میری گاڑی میں بھینس تھی،گائے نہیں۔ لیکن پھربھی پولس نے ہمارے ہی خلاف معاملہ درج کیاہے۔ ہمیں اس معاملے میں انصاف چاہئے۔
دوسری طرف گاؤں والوں کا الزام ہے کہ معاملہ گائے کی تسکری کاتھا اورجب ملزموں نے گاڑی نہیں روکی توشک یقین میں بدل گیا اورگؤرکشکوں نے دوڑا کرانہیں پکڑلیا۔خبرکے مطابق ایک اسکوٹی سوارشخص نے ملزموں کی گاڑی کاپیچھا کرتے ہوئے روک لیا۔گاڑی رکنے کے بعد نوجوان نے کئی دیگرلوگوں کوبلالیا اورگؤتسکری کا الزام لگاکرملزموں کے ساتھ مارپیٹ کرنے لگا۔
Naushad2
ملک بھرمیں ہجومی تشدد کے اعدادوشمارلگاتاربڑھتے جار ہے ہیں۔ بڑھتی ہجومی تشدد کولیکرپارلیمنٹ سے سڑک تک آوازیں بھی اٹھائی گئی ۔ان سب کے علاوہ سپریم کورٹ نے بھی مرکزاورریاستی سرکاروں کوہدایت دی ہے کہ وہ جلدہی بڑھتی ہجومی تشدد پرشکنجہ کسنے میں کوئی اہم قدم اٹھائے اورضرورت ہوتو مرکزی سرکار قانون بناکراس مسئلے کوحل کرنے کی کوشش کریں لیکن باوجود اس کے مرکزی سرکاراورریاستی حکومتوں کی سست رویے کے باعث بھیڑکی تشدد کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *