اجے کمار 
p-9bسماجوادی پارٹی کے چھوٹے بڑے لیڈر متحد ہو کر ملائم سنگھ کو تو وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھانے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں، لیکن وزیر اعلیٰ اکھلیش یادوکے لیے ایس پی کے بڑے لیڈروں میں یہجذبہ نہیں دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست میں آج وزیر اعلیٰ تو ایک ہی ہے، لیکن اس کے اوپر سُپر وزراء اعلیٰ کی لائن لگی ہوئی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو موجودہ سی ایم اکھلیش یادو سے کئی معنوں میں بہتر سمجھتے ہیں۔ یہ وہ لیڈر ہیں، جو ملائم کی حکومت میں ان کے ماتحت کام کرنے میں توبے چینی محسوس نہیں کرتے تھے، لیکن اکھلیش کے ماتحت کام کرنے میںپریشانی محسوس کرتے ہیں۔ یہ لیڈر اپنے آپ کو چالاک اور اکھلیش کو سیاست کے نئے کھلاڑی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ پارٹی کے قد آور لیڈر اعظم خاں، رام گوپال یادواور خود ملائم سنگھ تو صاف طور پراور ایس پی کے دیگر کچھ بڑے لیڈر موقع پڑنے پرنوجوان سی ایم کو یہ احساس کرانے میںپیچھے نہیں رہتے ہیں کہ تجربے کے اعتبار سے وہ ان سے بیس ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مذکورہ لیڈر موقع بموقع یہ جملہ بولنے کا حوصلہ نہیں جٹا پاتے کہ اگر میں سی ایم ہوتا تو فساد نہیں ہوتا، سرکاری ملازموں کو ٹھیک کردیتا، افسر شاہوں کی لگام کس کے رکھتا وغیرہ وغیرہ۔ سی ایم کو ان لیڈروں کے بڑے بول اور بیان بازی کے سبب اکثر دباؤ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی کی وجہ سے وہ کوئی اہم فیصلہ اپنے دم پرلینے سیجھجکتے ہیں کہ کہیں مبینہ سپر سی ایم کے ذریعے ان کی گردن نہ پکڑ لی جائے۔ ایس پی کے بڑے لیڈر اکھلیش کو بھاؤ نہیں دیتے ہیں۔ اس کا خمیازہ یہ ہوتا ہے کہ اپوزیشن کو بھی اکھلیش کی قابلیت پر سوال کھڑے کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی سی ایم کے لیے حکومت کرنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ اکھلیش سرکار کی ناکامی کی جب بھی بات ہوگی، تو اس کے لیے سُپر وزراء اعلیٰ پر بھی انگلیاں ضرور اٹھیں گی۔
آج صورتحال یہ ہے کہ پارٹی کے قد آور لیڈر، اکھلیش سرکار اور سماجوادی تنظیم کے لوگ ملائم کے مشن 2014-کو پورا کرنے کے لیے تو پوری طرح سے ہاتھ پیر مار رہے ہیں، لیکن اس بات کی تشویش کسی کو نہیں ہے کہ اگر وہ سی ایم کو کمزور کریں گے، تو دہلی کے مشن پر اس کا اثر الٹا پڑے گا۔ خیر، تمام مخالف حالات کے بیچ ایک لیڈر ایسا بھی ہے، جو کبھی سی ایم کی دوڑ میں ملائم کے بعد سب سے آگے ہوا کرتا تھا، لیکن اکھلیش کی سیاست میں انٹری ہونے اور سی ایم بننے کے بعد بھی اس نے اپنا آپا نہیں کھویا ہے اور اس نے حالات سے سمجھوتہ کرنا بہتر سمجھا ہے۔ یہ لیڈر کوئی اور نہیں، ایس پی کے سپریمو ملائم سنگھ کے بھائی شیو پال سنگھ یادو ہیں، جو ایس پی کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی سیاسی خواہشات کی قربانی دے رہے ہیں۔ ایک طرف ملائم سنگھ یادو، اکھلیش یادو، اعظم خاں جیسے لیڈر اپنی لچھیدار باتوں سے سماجوادی پارٹی کے حق میں ماحول بنانے میں لگے ہیں، تو دوسری طرف شیو پال یادو پردے کے پیچھے سے مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ ویسے تو شیو پال یادو ، اکھلیش کیبنٹ کے قدآور وزیر ہیں، ان کے پاس کئی محکموں کی ذمہ داری ہے، لیکن انتخابی جنگ میں وہ عام کارکن کی طرح جٹے ہوئے ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کا اس معاملے میں الگ ہی نظریہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شیو پال کی تنظیم اور کارکنوں پر مضبوط گرفت ہونے کے سببوہ ایس پی سپریمو کی طاقت بنے ہوئے ہیں۔ تنظیم سے جڑے مسائل ہوں یا پھر دیگر متنازع مدعے، نیتا جی انھیں سلجھانے کے لیے شیو پال کو آگے کرتے ہیں۔ شیو پال اپنی بات بیباکی کے ساتھ کہتے ہیں۔ چاہے معاملہ پارٹی کے مفاد کا ہو یا پھر اعظم خان جیسے لیڈروں کی مخالفت کا، انھوں نے اصولوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ آج بھی اعظم خا ں کو لیکر شیو پال کی تیوری چڑھی رہتی ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ خاں صاحب ایس پی سُپریمو ملائم سنگھ یادو کوسب سے عزیز ہیں۔ شیو پال یادو جتنے وقت تک ریاست کے صدر رہے، اعظم خاں کی ایس پی میں واپسی نہیں ہوپائی۔
وقت بوقت اندرونی مخالفین سے محتاط رہنا، ہوا ہوائی لیڈروں کو ان کی اوقات بتانا، کارکنوں کی عزت کے لیے کسی بھی حد تک آگے بڑھ جانے سے نہیں ہچکچانا، سرکار اور تنظیم کے مسائل کو سلجھاتے رہنا، پارٹی کے ایم ایل اے اور ایم پی کی مدد کرنا، عوام کے درمیان زیادہ زیادہ سے وقت دینے کی عادت جیسی تمام خوبیوں کے سبب ماہر اسپیکر نہ ہونے کے باوجود شیو پال اپنی الگ شناخت بنائے ہوئے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو 2014کے پارلیمانی انتخاب کو لیکر شیو پال سے اکثر بات چیت کرتے رہتے ہیں۔ ایس پی سپریمو کو اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ آج اگر ایس پی اقتدار میں ہے، تو اس کے لیے شیو پال یادو کے تعاون کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ہے۔ بی ایس پی کے اقتدار میں وہ شیو پال ہی تھے ، جنھوں نے مایا پر دنادن حملوں کی پالیسی اپناکر انھیں بیک فٹ پر بھیج دیا تھا۔ شیو پال ، مایا پر حملہ کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے تھے۔ گزشتہ دنوں ایس پی کے ایک پروگرام میں انھوں نے اسٹیج سے ہی پارٹی اعلیٰ کمان کو پارٹی کے وبھیشنوں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت دے کر یہ جتادیا تھا کہ ان کے لیے پارٹی مفاد سے اوپر کوئی نہیں ہے۔
سماجوادی پارٹی کے جنرل سکریٹری شیو پال آج کی تاریخ میں پارٹی کے لیے بہت کارآمد لیڈر ہیں۔ مظفر نگر میں فساد ہوا، وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو متاثرین سے ملنے کے لیے فساد زدہ علاقوں میں گئے، تو وہاں انھیں فساد متاثرین کی ناراضگی برداشت کرنی پڑی، انھیں کالے جھنڈے دکھائے گئے۔ صورتحال یہ ہے کہ آج تک ایس پی سُپریمو ملائم سنگھ فساد متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کا حوصلہ نہیں کر پائے ہیں۔ ملائم کو ڈر لگتا ہے کہ اگر ان کی مخالفت ہوگئی، تو ان کی ملّا ملائم والی شبیہ پر گہن لگ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اعظم خاں تک فسادمتاثرین سے ملنے جانے کا حوصلہ نہیں کر سکے ہیں، لیکن شیو پال یادو ایسے لیڈر ہیں، جو وہاں جاکر فساد متاثرین سے ملے اور ان کے زخموں پر مرہم بھی لگایا اور کسی تنازع کے بغیر ان کی یاترا مکمل ہوگئی۔ وہ سبھی قوموں کے فساد متاثرین سے ملے، ان کا دکھ بانٹا، فساد کے اسباب کو پہچانا۔ اسی طرح سے گزشتہ دنوں کچھ امیدواروں کا لوک سبھا کا ٹکٹ کاٹے جانے پر پارٹی میں مخالفت شروع ہوئی، تو نیتا جی نے شیو پال کے کندھوں پرہی حالات سنبھالنے کی ذمہ داری ڈالی۔ چینی مل مالکوں اور گنّا کسانوں کے اختلاف دور کرنے کے لیے وہ آگے آنے میں ہچکچائے۔بہر حال ایس پی لیڈر شیو پال یادو میں جہاں کئی خوبیاں ہیں، توکئی بار وہ اپنے برتاؤ اور زبان پھسلنے کے سبب تنازعوں میں بھی پھنس جاتے ہیں۔ کبھی وہ اپنے محکمے کے ملازمین کو ڈکیتی نہیں تھوڑی بہت چوری کرنے کی ہدایت دینے کے سبب، تو کبھی افسروں کے ذریعے ان کے پیر چھونے کی وجہ سے پھنس جاتے ہیں۔ وہ بینی پرساد کو نشیڑی اور اسمگلر قرار دیتے ہیں۔ ایس پی کی پچھلی سرکار کے دوران ہوئے نٹھاری واقعہ پر (جس میں تمام بچوں سے جنسی کھیل کے بعد انھیں ہلاک کر دیا گیا تھا) ان کا ردعمل تھا کہ ’اس طرح کے چھوٹے موٹے واقعے ہوتے رہتے ہیں۔‘ شیو پال کو لیکر کنبے میں ناراضگی کی خبریں آتی رہتی ہیں، لیکن آج بھی شیو پال ایس پی سپریمو ملائم سنگھ کی گڈ لسٹ میں شامل ہیں۔ اپنے کندھے کا تمام بوجھ شیو پال کے کندھوں پرڈال کر نیتا جی اپنے آپ کومحفوظ سمجھتے ہیں، تو یہ شیو پال کی خوبی ہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here