میکا سنگھ کی حمایت میں اتریں شلپا شندے، کہا- میں پاکستان جاکر شو کروں گی، کوئی روک سکتا ہے تو روک لے

Share Article

نئی دہلی: بالی ووڈ سنگر میکا سنگھ نے کراچی جاکر جنرل مشرف کے رشتہ دار کی شادی میں شو کیا تھا۔ اس شو کو لے کر میکا سنگھ اس طرح پھنسے ہوئے کہ ‘فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائزنے انہیں بین کر دیا تھا۔ اگرچہ، میکا سنگھ کے معافی مانگنے کے بعد ان پر لگائے بیٹن کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔حال ہی میں ٹی وی اداکارہ اور ‘بگ باس 11’ کے فاتح شلپا شندے نے بھی میکا سنگھ کے معاملے پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ میکاہ کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے چیلنج کہ وہ خود پاکستان جاکر پرفارم کریں گی، کوئی انہیں روک سکتا ہے تو روک کر دکھائے۔

Image result for shilpa shinde support to mika singh

اسپاٹ بوائے ڈاٹ کوم کی خبر کے مطابق، میکاسنگھ کی حمایت میں اتریں شلپا شندے نے کہا، “انہوں نے معافی اگرچہ مانگ لی ہو، لیکن میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے، جو لوگوں کو ان کے کام کرنے سے روک سکے۔ میں یہ نہیں جانتی کہ وہ اب دوبارہ پاکستان میں پرفارم کریں گے یا نہیں، لیکن میں وہاں جانے اور اس ملک میں شو کرنے کے لئے ویزا اپلائي کرنے کی سوچ رہی ہوں۔میں دیکھتی ہوں کہ کون مجھے روکتا ہے۔ اگر مجھے اس چیز کے لئے سڑکوں پر نکل کر اپنی آواز اٹھانے اور لڑنے کی ضرورت پڑی تو میں ایسا ضرور کروں گی۔ ہم نے خود کو آزاد کہتے ہیں، لیکن کیا واقعی میں ہم آزاد ہیں؟ ”

Image result for mika singh

شلپا شندے نے مزید کہا، “میں اس بات سے بہت مایوس ہوں کہ میکا سنگھ نے اس کرائم کے لئے معافی مانگی، جو انہوں نے کیا ہی نہیں تھا۔ لیکن میں سمجھ سکتی ہوں کہ یہ فیصلہ کرنے کے لئے ان پر دباؤ بنایا گیا ہوگا۔ میں یہ پوچھتی ہوں کہ ان تنظیموں کو کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ لوگوں کو بین کر سکیں اور ان سے معافی مانگنے کے لئے دباؤ بنا سکیں۔ یہ سب میرے ساتھ بھی ہوا تھا،جب ان تنظیموں نے لوگوں کو میرے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ان کے اس فیصلے کے بعد بھی میں نے وہ نہیں کیا جو وہ چاہتے تھے۔ آج میں کسی بھی تنظیم کے ساتھ منسلک نہیں ہوں، لیکن میں نے کام کرنا بند نہیں کیا ہے۔ لہٰذا اگر کسی کو لگتا ہے کہ ان کے بین نے میرے کیریئر کو ختم کر دیا ہے، تو مطمئن کرنے کے لئے معافی چاہتی ہوں، لیکن ایسا نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *