اجودھیامیں ہم آہنگی کانفرنس میں شیعہ سنی وسادھوسنتوں کی شرکت

Share Article
Babri-Masjid
6دسمبر1992سے جاری بابری مسجد-رام جنم بھومی قضیہ کاحل آپسی بات چیت کے ذریعہ تلاش کرنے کی کوشش کے تحت جگت گروسروپانندسرسوتی جی مہاراج کی ہدایت پررشک پیٹھادھیشورجنمے جے شرن جی مہاراج کی جانب سے منعقد’راشٹریہ سدبھاؤناسمیلن‘میں 20ستمبربروزبدھ کوشیعہ -سنی علما اورسادھوسنتوں نے شرکت کی۔جس میں مقررین نے کہاکہ ہم بابری مسجد؍رام جنم بھومی قضیہ کا حل تلاش کرنے کی غرض سے یہاں آئے ہیں ،لیکن اگراس معاملہ کاحل اتفاق رائے سے نہیں ہوپاتاتوعدالت کا فیصلہ ہی قابل قبول ہوگا۔
شیعہ عالم دین مولاناکلب جوادنقوی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کے ذریعہ مسجد؍مندرمسئلہ کا حل بات چیت سے نکالنے کی غرض سے ماحول تیارکرنے کیلئے ہم لوگ اجودھیاآئے ہیں ،کیونکہ جب سبھی مذاہب کے مذہبی رہنماایک ساتھ بیٹھ کراس معامل کاحل اتفاق رائے سے تلاش کریں گے توکوئی نہ کوئی راستہ ضرورنکلے گالیکن اگرگفتگوکے درمیان سیاسی طاقتوں نے رخنہ ڈالاتواس کانتیجہ صفرہوگا۔پروگرام کے کنوینراورجنم بھومی مندرنرمان نیاس کے صدررسک پیٹھادھیشورمہنت جنمے جے شرن نے کہاکہ قومی ہم آہہنگی کا مقصدہندومسلم اورسکھ عیسائی میں ہم آہنگی قائم کرنااوراس پیغام کوپورے ملک میں پہنچاناہے، اسی لئے اس کانفرنس کا انعقادکیاگیاہے۔بابری مسجداوررام جنم بھومی تنازع میں شایدپہلی بارایساہواہے کہ شیعہ ،سنی اورسادھوسنتوں نے ایک پلیٹ فارم میں آکرقضیہ کے حل کیلئے بات چیت کی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *