شیخاوٹی: تصویر اور تقدیر دونوں بدل رہی ہے

ششی شیکھر
آج سے تقریباً20سال قبل اس علاقہ میں مورارکا فائونڈیشن نے ترقی کی نئی عبارت لکھنے کا آغاز کیا۔ اس فائونڈیشن نے ترقی نام کے لفظ کی از سرنو تشریح کرنے کی سوچ کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ کیمیائی کھاد کے استعمال سے کھیتوں کی گھٹتی پیداوار کو بچانے کے لئے آرگنک (نامیاتی)کھیتی کے نئے انقلاب کا آغاز کیا۔ پانی کی کمی سے نمٹنے کے لئے کھیتی اور آبپاشی کی نئی تکنیک ایجاد کی۔ خواتین کے لئے سینکڑوں سیلف ہیلپ گروپ اور مشترکہ چولہے بنائے گئے۔ معذور اور بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگارکے نئے مواقع مہیا کرائے گئے۔ کل تک مہاجنوں سے قرض لے کر کھیتی کرنے والے شیخاوٹی کے کسانوں کی خوشحالی دیکھ کر آپ ان سرکاری پالیسیوں کے بارے میں کیا کہیںگے، جو گویا کسانوں کی ترقی کے لئے نہیں، بلکہ ان کی بربادی کے لئے بنائی گئی ہوں۔ حکومت کی ایسی زراعتی پالیسیوں کا کیا فائدہ، جو اس ملک میں ایک نیا ودربھ اور ایک نیا بندیل کھنڈ پیدا کر دیتی ہیں۔
شیخاوٹی کے جھن جھنو، چورواو رسیکر ضلع کے کسان مورارکا فائونڈیشن کے رابطہ میں آنے اور یہاں سے تربیت لینے کے بعد اپنی زمین میں آرگنک کھیتی کر رہے ہیں اور ان کی لگن، محنت اور اپنی زمین سے محبت کو دیکھنا اور سمجھنا ان کے لئے ایک خوشگوار تجربے سے کم نہیں ہے۔یہ کسان خود ہی کم لاگت میں ورمی کمپوسٹ ، ورمی واش جیسا آرگنک کھاد اور جراثیم کش بنا لیتے ہیں۔ پانی کی کمی سے نجات پانے کے لئے مورارکا فائونڈیشن کے سائنسدانوں نے نئی تکنیک ایجاد کی ہے۔ جس کا نام ہائیڈرو یونک تکنیک ہے۔ اس کے بارے میں مورارکا فائونڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مکیش گپتا بتاتے ہیں کہ اس تکنیک کی وسعت انھوں نے سنگا پور حکومت کے التماس پر کی ہے۔ دراصل، زمین کی کمی کی وجہ سے سنگا پور حکومت نے فائونڈیشن سے روف(چھت) گارڈننگ کے لئے ایک تکنیک ایجاد کرنے کا التماس کیا تھا۔ مکیش گپتا بتاتے ہیں کہ اس تکنیک کے تحت سبزی کی کھیتی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ اس تکنیک میں پائپ کی کئی سطحیں بچھا کر ان میں چھوٹے چھوٹے پلاسٹک گلاس ڈال دئے جاتے ہیں اور پھر ان میں پودے تیار کئے جاتے ہیں اور پانی کو ریسائکلنگ سسٹم سے پودوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
اسی طرح فائونڈیشن نے ٹرے کلٹی ویشن تکنیک کو بھی فروغ دیا ہے، جس سے  بہت ہی کم زمین میں زیادہ سے زیادہ پیداوار ہو سکتی ہے۔ فائونڈیشن کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ اب یہاں کے ہزاروں کسانوں نے کیمیائی کھاد یا پیسٹی سائڈ کا استعمال پوری طرح بند کر دیا ہے۔ مورارکا فائونڈیشن ان کسانوں کی  نہ صرف آرگنک کھیتی کے لئے حوصلہ افزائی کر رہی ہے، بلکہ انہیں ان کی پیداور کی مناسب قیمت اور ایک بڑا بازار بھی مہیا کر ا رہی ہے۔ملک بھر میں پھیلے ڈائون ٹو ارتھ رٹیل سینٹر کسانوں کی پیداوار کو ملک اور بیرون ملک پہنچانے کے ساتھ ساتھ فوڈ پروسیسنگ کے ذریعہ پروڈکٹس کے معیار کو بھی بڑھانے کا کام کر رہے ہیں۔تعلیم کے شعبہ میں بھی جھن جھنو ضلع اب ایڈوانس ٹیکنالوجی کا استعمال کر پا رہا ہے، تو اسکے پیچھے بھی فائونڈیشن کی ہی سوچ ہے۔ سیکر ضلع کے بیری گائوں کے کریئر سینئر سیکنڈری اسکول میں اب آن لائن تکنیک کے ذریعہ طلبا کو میڈیکل اور انجینئرنگ کی تیاری میں مدد دی جا رہی ہے۔ مورارکا فائونڈیشن نے ممبئی کے ایک تعلیمی ادارہ، جو انجینئرنگ کی تیاری کرنے والے طلبا کو آن لائن اعلیٰ تعلیمی سہولت مہیا کراتا ہے، سے معاہدہ کر کے یہ سہولت اب اس اسکول کو بھی دلوا دی ہے اور آگے وہ اس اسکیم کو دیگر اسکولوں میں بھی نافذ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
شیخاوٹی کی غریب خواتین کے لئے فائونڈیشن نے سیلف ہیلپ گروپ کے ذریعہ روزگار کے نئے وسائلمہیا کرائے ہیں۔ اس وقت شیخاوٹی کے 128گائووں میں350سے زیادہ سیلف ہیلپ گروپ کام کر رہے ہیں، جن سے تقریباً دس ہزار سے بھی زیادہ خواتین جڑی ہوئی ہیں۔ مورارکا فائونڈیشن اپنے رٹیل سینٹر کے لئے ضروری پیپر بیگ بھی انہیسیلف ہیلپ گروپوں سے جڑی خواتین سے بنوا رہا ہے۔ علاوہ ازیں پچاس سے سوتک کے گروپ میں یہ خواتین چھوٹے موٹے کام ، جیسے بندھیج بنانے یا پھل سبزی فروخت کرنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ ضرورت پڑنے پر انہیں گروپ سے ہی قرض مل جاتا ہے۔ یہ خواتین آج ہر ماہ دوڈھائی ہزار روپے کما لیتی ہیں۔ شیخاوٹی گرامین بینک نے انہیں چھوٹے موٹے کام شروع کرنے کے لئے قرض بھی دیا ہے۔ فائونڈیشن کی طرف سے گائوں کی غریب خواتین کے لئے مشترکہ چولہا بھی چلایا جا رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت غریب خواتین، جو کبھی کھیتوںسے لکڑیاںچن کر اپنا چولہا جلاتی تھیں، آج رسوئی گیس پر کھانا بنا رہی ہیں۔4-5خواتین ایک ساتھ ایک سینٹر پر پہنچ کر مشترکہ گیس رسوئی اسکیم کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ایندھن کا ماہانہ خرچ جو پہلے ہزار روپے سے زیادہ تھا(جلائی گئی لکڑی اور اپلوں کی قیمت جوڑکر)، وہ اب صرف تین ساڑھے تین سو روپے آتا ہے۔ ساتھ ہی ہر سینٹر کو چلانے کے لئے ایک عورت کو ہیڈ بھی بنایا گیا ہے یعنی یہ اسکیم دیہی خواتین کے لئے روزگار کے مواقع کی شکل میں بھی سامنے آئی ہے۔ علاوہ ازیں آرگنک ٹفن اسکیم کے ذریعہ بھی روزگار کے مواقع فراہم کرائے گئے ہیں۔ سیکر ضلع کے بیری گائوں کی سشیلا کنور اور مول سنگھ کولوگوں تک آرگنک کھانا پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت طلبا، نوکری پیشہ یا اسپتال یا کچہری میں آنے والے لوگوں تک آرگنک ٹفن پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے لئے نول گڑھ کے تحصیل دفتر، 3اسپتالوں اور مورارکا آرگنک ریسرچ سینٹر کو کلیکشن سینٹر بنا دیا گیا ہے، جہاں سے آرگنک ٹفن لوگوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔ شیخاوٹی کے لوگوںکو بنا بنایا آرگنک کھانا مل سکے، اس کے لئے نول گڑھ میں ایک آرگنک ریستوراں بھی کھولا گیا ہے۔
دیہی لڑکیوں کو مین اسٹریم سے جوڑنے کے مقصد سے 2010میں مورارکا فائونڈیشن نے کسان کال سینٹر کی شروعات کی تھی۔ ایک سال بعد یہ اسکیم اب سکم تک پہنچ گئی ہے۔ سکم سے آئی لڑکیاں فائونڈیشن کے جے پور میں واقع دفتر سے ٹریننگ پا چکی ہیں اور اب وہ سکم کے کسانوں کو آرگنک کھیتی کے گر بتا رہی ہیں، وہ بھی مقامی زبان میں۔ سکم سے آئیں لڑکیاں اب اپنی ریاست میں جا کر اس اسکیم کو مزید وسعت دینے والی ہیں۔ جھن جھنو ضلع کی نول گڑھ تحصیل کے معذور نوجوانوں کے لئے بھی مورارکا فائونڈیشن نے شمسی لال ٹین کے ذریعہ روزگار مہیا کرایا ہے۔ گھوڑی وارا کلاں گائوں کی نیلم کنور پولیو زدہہیں۔ تین بچوں کی ماں نیلم کا شوہر مزدوری کر کے کسی طرح کنبہ کا پیٹ پالتا ہے۔ فائونڈیشن نے نیلم کو شمسی توانائی سے چلنے والی 25لالٹین اور ایک شمسی پینل مہیا کرایا ہے۔ اسی طرح کالو بھاٹ اور رادھے شیام جیسے معذور نوجوانوں کو بھی اس اسکیم سے جوڑاگیا ہے۔ وہ ان لال ٹینوںکو دن میں چارج کر لیتے ہیں، جنہیں گائوں والے اپنی ضرورت کے حساب سے کرائے پر لے جاتے ہیں۔ طلبا کے لئے پانچ روپے اور دیگر لوگوں کے لئے 10روپے فی رات کرایہ مقرر ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبوں میں اور دوکانداروں اور طلبا کے ذریعہ ان شمسی لالٹینوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
دیہی علاقوں میںروزگار کو بڑھاوا دینے کے لئے فائونڈیشن دیہی سیاحت کو فروغ دینے کا بھی کام کر رہا ہے۔کٹرا تھل گائوں کے کان سنگھ اور سشیلا دیوی اپنے فارم ہائوس میں ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کے خیر مقدم کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ایک تو آرگنک کھیتی، دوسرے یہاں کے دیہی ماحول کا خوشگوار تجربہ کسی کو بھی دوبارہ آنے کے لئے مجبور کر دیتا ہے۔علاوہ ازیں نول گڑھ کے سگنور گاوں کے تین کسان کنبے بھی اس اسکیم کے تحت دیہی سیاحت کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے گھر میں آنے والے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہیں، ان کے کھانے پینے سے لے کر گھومنے تک کا انتظام کرتے ہیں۔ بدلے میں ان کنبوں کو مناسب پیسہ بھی مل جاتاہے۔ فائونڈیشن نے پورے راجستھان میں تقریباً500دیہی کنبوں کو دیہی سیاحت کے لئے تربیت دی ہے۔بہر حال، شیخاوٹی کا یہ ترقیاتی سفر گزشتہ 20سالوں سے مسلسل جاری ہے۔ مورارکا فائونڈیشن کی سوچ اور یہاں کے لوگوں کی حصہ داری کو دیکھتے ہوئے یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں شیخاوٹی آرگنک کھیتی اور دیہی ترقی کا ایک ایسا ماڈل بن جائے گا، جسے اس ملک کی مکمل ترقی کے لئے اپنانا ہی ہوگا۔ ہماری حکومت کو ترقی کی صحیح اصطلاح کو سمجھنا ہی ہوگا۔سائنسی کھیتی کے نام پر زمین اور انسان کی صحت سے کھلواڑ زیادہ دنوں تک نہیں چل پائے گا۔ ظاہر ہے، تصویر اور تقدیر صرف شیخاوٹی کی نہیں، بلکہ پورے ملک کی بدلنی چاہئے۔ اس کے لئے حکومت اور پالیسی ساز افسران کو شیخاوٹی سے سبق لینا چاہئے۔g

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *