بھیڑ ہے درندوں کی آدمی ہے خطرے میں

Share Article

 

اسامہ عاقل حافظ عصمت اللہ ،مدھوبنی ،بہار 9534677175

اٹھاکر ہاتھ میں “تر شول “نفرت عام کرتے ہیں
سناتن دھرم ،کو بھی ہر جگہ بدنام کرتے ہیں
انہیں دنیا میں جینے کا کوئی بھی حق نہیں حاصل
لگا کر “رام “کا نعرہ جو قتل عام کرتے ہیں (جمیل اختر شفیق)

ہندوستان میں ہجومی تشدد بالکل رک نہیں پا رہا ہے ،کبھی کسی شہر میں تو کبھی کسی گاؤں میں کوئی نہ کوئی واقعہ ہو ہی جاتا ہے ،جو افراد اس طرح کے حرکتیں کر رہے ہیں اس میں کو ئی شبہ نھیں کہ وہ انھیں لوگوں کے زر خرید غلام ہیں جو آج مرکز میں بر سر اقتدار ہیں ،بر سر اقتدار پارٹی وہی ہے جس کے صدر بلکہ وزیر اعظم نرندر مودی بھی اپنی انتخابی ریلیوں میں جے شری رام اور وندے ماترم کے نعرے ایک سانس میں کئی بار لگاتے تھے – اس طرح انہوں نے مذھب کی بنیاد پر ہندوستانیوں کو تقسیم کرکے ان کا ووٹ حاصل کرکے دوبارہ اقتدار حاصل کرلیا – جس پارٹی سے فتح حاصل کرنے والے وزیر اعظم کا یہ حال ہو گا تو ظاہر ہے اس کے ذریعہ منتخب کردہ ممبران کا حال کیوں کر بہتر ہوسکتا ہے – تبریز انصاری یتیم تھا ،نہ ماں نہ باپ ،اس کی بیوی بھی یتیم تھیں دونوں نے سوچا ہوگا ایک دوسرے کو سہارا دیں گے – ایک ہنستا کھیلتا پریوار بنائیں گے ، محنت کریں گے ،مزدوری کریں گے ،زندگی نے جو نہ دیا وہ خود بھی لیں گے اور اپنے بچوں کو بھی دیں گے – لیکن ایسا نہ ہو سکا – تبریز انصاری فرقہ پرستو ں کے ہاتھوں چڑھ گیا ،وہ جنگلی جانوروں کے ہاتھوں چڑھ گیا جو صرف جان لیتے ہیں – ویڈیو دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا – اللہ تبارک وتعالی تبریز انصاری کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے (آمین )

جھارکھنڈ ریاست کے کھرساواں میں ہجومی تشدد نے 24 سالہ تبریز انصاری کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اس سے یقینا پی ایم کا سر شرم سے جھک جانا چاھئے ،محض بائیک چوری کے شبہ میں بھیڑ نے چوبیس سالہ تبریز انصاری کو نہ صرف بری طرح پیٹا بلکہ اس سے اس کا نام معلوم کیا اور جب معلوم ہوا کہ وہ مسلم ہے تو اس کی بے رحمی سے بے تحاشہ پٹائی کرتے ہوئے اسے “جے شری رام اور جے ہنومان ،کے نعرے بلند کرنے پر مجبور کیا گیا – پٹائی کے دوران رحم کی بھیک مانگتے ہوئے تبریز انصاری نے ابتدائ￿ میں جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگانے سے انکار کردیا لیکن پھر اپنی جان بچانے کے لئے اس نے مجبورا جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے بھی دھرائے مگر بھیڑنے تب بھی اسے نھیں بخشا -اسے بجلی کے کھمبے سے باندھ کر پیٹا گیا اور پھر ادھمری حالات میں پولیس کے حوالے کردیا گیا – پولیس نے بھی اپنی فرقہ پرستی کا ثبوت دیتے ہوئے شدید اندرونی اور بیرونی چوٹ کے باوجود تبریز کو مناسب علاج کے لئے کوئی بھی بندوبست نھیں کیا اور نہ ہی ہجومی تشدد کا نشانہ بنانے والوں کو گرفتار کیا بالآخر درد کی تاب نہ لاکر وہ دنیا سے چل بسا – کیا پی ایم مودی کا یہی نیا بھارت ہے ،جہاں ملک کا مسلمان محفوظ نہیں ہے – دیکھئے 20 مئی 2015 راجستھان کے ایک میٹ شاپ چلانے والے 60 سال کے ایک بزرگ ہجومی تشدد کے شکار ہوئے ،انہیں بھیڑ نے لوہے کی روڈ اور ڈنڈو سے مار ڈالا ، 2 اگست 2015 اتر پردیش کے چند گئو رکشکوں نے بھینس لے جارہے تین لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مارڈالا ،28 ستمبر 2015 دادری اتر پردیش میں 52 سال کے محمد اخلاق کو بیف کھانے کے شک میں بھیڑ نے اینٹ اور ڈنڈوں سے مار ڈالا- 14 اکتوبر 2015 ہماچل پردیش میں ایک 22 سال کے نوجوان کو گئو رکشکوں نے گائے لے جانے کے شک میں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا ، 18 مارچ 2016 لاتبھار جھاڑکھنڈ میں موشیوں کو بیچنے لے جارہے مظلوم انصاری اور امتیاز خان کو بھیڑ نے درخت سے لٹکا کر بے رحمی سے مار ڈالا – 5 اپریل 2017 الور راجستھان میں دوسو لوگوں کی گئو رکشک فوج نے دودھ کی تجارت والے پہلو خان کو لاتوں اور گھونسوں اور ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر مارڈالا ،20 اپریل 2017 آسام میں گائے چوری کرنے کے الزام میں گئو رکشکوں نے دونوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا – 1 مئی 2017 آسام میں ہی گائے چوری کے الزام میں گئو رکشکوں نے دو نوجوانوں کو پھر مارڈالا- 12 مئی سے 18 مئی 2017 جھاڑکھنڈ میں 9 لوگوں کو مار ڈالا ، 29 جون 2017 جھاڑکھنڈ کے رام گڑھ میں بیف لے جانے کے شک میں بھیڑ نے محمد علیم الدین عرف اصغر انصاری کو پیٹ پیٹ کر مارڈالا – 10 نومبر 2017 الور راجستھان میں گئو رکشکوں نے عمر خان کو گولی مار کر قتل کر ڈالا ،20 جولائی 2018 راجستھان میں ہی گائے اسمنگلنگ کرنے کی شک میں بھیڑ نے اکبر خان کو پیٹ پیٹ کر مارڈلا، اور اب 24 جون 2019 جھارکھنڈ کے کھرنساواں میں تبریز انصاری ہجومی تشدد کے شکار ہوئے ،2014 سے لیکر 2018 تک گئو رکشک کے نام پر ہوئے 87 سے زائد معاملوں میں 50 فیصد معاملوں میں شکار مسلمان ہوئے – مودی جی کیا یہی ہے اچھے دن – معصوم اور بے قصورمسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر ستاکر مارا پیٹا جارہا ہے اور کھلے عام تشدد کے دوران متاثرین کی موت ہوجاتی ہے – ایسے واقعات سب کا ساتھ سب کا وشواس ،نعرے کے بعد بھی ہوتے چلے آ رہے ہیں – تائیس سالہ تبریز انصاری کو جھاڑکھنڈ کے سرائے کیلا کے کھرسواں میں چوری کے بے بنیاد الزام میں 18 جون کو بری طرح کئی لوگوں نے کھلے عام مارا پیٹا – چند دن کے بعد اس کی موت ہوگئی ،اس کو ویڈیو بنا یا جو وائرل ہوتا گیا اور نوجوان کو جے شری رام اور جے ہنومان بولنے پر مجبور کیا گیا – اقلیتوں اور مسلمانوں میں ایک بار پھر خوف ودھشت پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے – مذھب کے نام پر گندی سیاست بند کریں ، ظلم کرنے والوں کو پھانسی دے حکومت ہند تاکہ آئندہ ایسے قدم اٹھانے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچیں، اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ہر آدمی خطرے میں رہیں گے درندوں سے – شکیل اعظمی صاحب نے کیا خوب کہا ہے کہ !!

مذھبی اندھیرا ہے روشنی ہے خطرے میں
کھل کے جینے والوں کی زندگی ہے خطرے میں
اب ہماری بستی بھی جنگلی علاقہ ہے
بھیڑ ہے درندوں کی آدمی ہے خطرے میں
٭٭٭

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *