شاردھا گروپ گھوٹالہ کے شکار غریب عوام

Share Article

عبد العزیز 

ہندوستان میں گھوٹالوں کا وقوع پذیر ہونا ایک عام سی بات ہے۔ حال میں مغربی بنگال میں شاردھا گروپ کے گھوٹالے سے ایک بار پھر گھوٹالہ موضوعِ بحث بن کر سامنے آیا ہے۔ کیا ہے شاردھا گروپ کا گھوٹالہ اور اس کی لپیٹ میں قومی اور ملّی مفادات کس طرح اور کس حد تک ہیں، ان سب کا جائزہ اس تفصیلی مضمون میں لیا جا رہا ہے۔

p-11شاردھا گروپ کی کمپنی بایاں محاذ کے دورحکمرانی میں کمپنی ایکٹ 1956 کے تحت 2008 میں رجسٹرڈ ہوئی تھی۔ بایاں محاذ کی حکومت نے اس سے کوئی لگاؤ نہیں رکھا، نہ اس کی ہمت افزائی کی اور نہ ہی اس کے راستے میں روڑا اٹکایا۔ 2011 میں جب ترنمول کانگریس پارٹی برسر اقتدار آئی، تو اس طرح کی کمپنیوں کو پنپنے اور غیر قانونی اقدام کرنے کے مواقع حاصل ہوگئے۔
مغربی بنگال میں شاردھا گروپ کی بدعنوانی اور گھپلا طشت از بام ہوچکا ہے۔ اس حمام میں بہت سارے لوگ ننگے دکھائی دے رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے لیڈران نیچے سے لے کر اوپر تک ملوث نظر آتے ہیں۔ ایسی صورت میں ریاستی حکومت کی سربراہ ممتا بنرجی کا یہ کہہ دینا کہ جوچلا گیا وہ چلا گیا (Ja gechhe ta gechhe) ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں افراد عیار و چالاک ایجنٹوں کے دام میں پھنس کر اپنی گاڑھی کمائی کی رقمیں شاردھا گروپ کی جھولی میں ڈال کر بے یارو مددگا ہوگئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے خود کشی کرلی اور کچھ لوگ خود کشی پر آمادہ ہیں۔
ممتا کا ایک طرف یہ کہنا کہ جو چلا گیا، وہ چلا گیا ہے اور دوسری طرف یہ اعلان کرنا کہ پانچ سو کروڑکی رقم کو سرکاری خزانہ سے لے کر محرومین کی آنکھوں کے آنسو پونچھیں گے۔ یہ دو الگ الگ باتیں ہیں، جس سے شک و شبہ مزید بڑھتا ہے کہ جولوگ مالی محرومی کی وجہ سے مررہے ہیں، وہ اور مریں گے۔ یہ جو بلیم گیم (Blame Game) ہو رہا ہے، وہ بھی غریبوں کے آنسو کو بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ممتا کی سربراہی والی ریاستی حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ چٹ فنڈ گھپلے کی ذمہ دار حکومت نہیں ہے، بلکہ مرکز ہے، اور مرکز کا کہنا ہے کہ چٹ فنڈ ایکٹ کے سیکشن 61 کے تحت ریاستی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوامی فنڈ پر نظر رکھے اور اگر اس میں کوتاہی ہو تو اسے دور کرے۔
اب یہ باتیں بھی آرہی ہیں کہ مرکزی حکومت کو بہت سارے لوگوں نے شاردھا گروپ کی بد عنوانیوں سے آگاہ کیا تھا، لیکن مرکزی حکومت کے سر پر جوں تک نہیں رینگی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ ترنمول کانگریس کچھ مہینوں پہلے تک مرکزی حکومت کے ساتھ تھی اور مرکزی حکومت ترنمول کانگریس کی ہر کمی اور خامی کی پردہ پوشی کررہی تھی اور آج بھی اگر مرکزی حکومت کے ساتھ ترنمول کانگریس ہوتی، تو مرکزی حکومت ترنمول کانگریس کی خامیوں کو اس قدر آشکار نہیں کرتی، جس طرح کر رہی ہے یا ریاستی کانگریس والے جو ریاستی حکومت پر حملہ کر رہے ہیں، وہ حملہ بھی نہیں کرتے۔
ترنمول کانگریس اور ان کی سپریمو ممتا بنرجی کو، جو گھپلہ ہوا ہے اس کی ذمہ داری اس لیے بھی قبول کرنی چاہیے کہ وہ اپنے وزیروں اور اپنے لیڈروں کے ساتھ شاردھا گروپ کے کاموں کی ہمت افزائی میں شانہ بشانہ شریک تھیں اوران کی شرکت شاید اس لیے زیادہ تھی کہ شاردھا گروپ نے جو میڈیا پر پیسے پانی کی طرح بہائے تھے، چینل اور اخبارات شائع کررہے تھے، وہ سب کے سب ممتا حکومت کا راگ الاپ رہے تھے اور یہ ممتا بنرجی اور ان کے کانوں کو بہت اچھا لگتا تھا۔ اب جبکہ میڈیا کے دوسرے سیکشن میں ممتا کی حکومت کے کارناموں کو طشت از بام کرنا شروع کیا ہے، تو وہی میڈیا، جو ممتا کی محافظت اور حمایت میں تھا، اب لاچار اور بے یار و مددگارنظر آرہا ہے۔ میڈیا کی جس طرح کی بدنامی ہوئی ہے، وہ بھی دیکھنے کے لائق ہے۔
سمجھ میںیہ آتا ہے کہ میڈیا اور سیاستدانوں کی ملی بھگت غریبوں کو لوٹنے کے لیے کافی ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ صرف پولس، سیاستداں اور غنڈہ مل کر کسی کو بھی دن دہاڑے لوٹ سکتے ہیں یا بے گھر کرسکتے ہیں، لیکن اب یہ دیکھنے میں آرہاہے کہ میڈیا اور سیاستداں بھی یہ کام انجام دے سکتے ہیں اور یہی کام دونوں نے مل کر مغربی بنگال جیسی ریاست میں انجام دیا۔
لاکھوں لوگ، جو اَب احتجاج پر اتر آئے ہیں، یہ احتجاج ممکن ہے چند دنوں کے بعد ختم ہو جائے، لیکن غریبوں کے گھر میں شاردھا گروپ کی وجہ سے جواندھیرا ہوگیا ہے، وہ اندھیرا شاید ختم نہ ہو۔ مغربی بنگال میں غیر سرکاری تنظیموں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ ضرورت ہے کہ شاردھا گروپ کے گھپلے کے نتیجے میں جولوگ متاثر اور محروم ہوئے ہیں، ان کو یہ غیر سرکاری تنظیمیں محض دلاسہ نہ دیں، بلکہ جو لوگ مجرم ہیں، خواہ اونچے سے اونچے عہدے پر فائز ہوں، ان کو سزا دلانے کی حتی الامکان کوشش کریں۔ دوسرا کام جو اس سے اہم ہے، وہ یہ ہے کہ جن کا خاندان اجڑ گیا ہے ان کو بسانے کی حتی الوسع کوشش کریں۔
مارکسی پارٹی 34سال تک غریبوں اور مزدوروں کے نام پر حکومت کرتی رہی، لیکن غریب اور مزدور ہر لحاظ سے غریب سے غریب تر اور مزدور کمزور سے کمزور تر ہوئے ہیں۔ بہت سارے لوگ بے روزگار اور بے کار ہوگئے۔ بہت سارے کارخانے بندہوگئے۔ تعلیم گاہوں میں زوا ل آگیا۔ بنگال کے کام کا کلچر پہلے سے بھی زیادہ خراب تر ہوگیا۔ ترنمول کانگریس کے آنے سے غریبوں کی جو امید بڑھی تھیں، آہستہ آہستہ اس پر اوس پڑنا شروع ہوگیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ عوام میں بے چینی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ ایک طرف مارکسی حکومت کی مارکھا کر ترنمول کانگریس کی حمایت کرکے اقتدار تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے تھے، اب ان کے ہاتھ ناامیدی اور مایوسی کے سوا کوئی چیز نہیں آرہی ہے۔ کانگریس مرکز میں بدعنوانیوں کا شکار ہے اور کانگریس روز بروز ہندستان گیر پیمانے پر کمزور سے کمزور تر ہوتی جارہی ہے اور اس کی کمزوری سے فرقہ پرست جماعت بی جے پی کو حکومت کرنے کا موقع مل سکتا ہے، جو نہ صرف غریبوںکی دشمن ہے، بلکہ مسلمانوں کی دشمن نمبر ایک ہے۔مغربی بنگال میں کانگریس ایک مضبوط پارٹی نہیں ہے اور نہ اس کی لیڈر شپ بیدار مغز ہے کہ، وہ سیاست میں خالی ہورہی جگہ کو پر کرسکے۔ اس لیے ترنمول کانگریس کے لیے جو ابھی دو تین سال باقی ہے، اس میں اس کو اپنی غلطیوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے اور اس کی اصلاح کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

دیہی غریب عوام پر اثرات
شاردھا گروپ میں وہ لوگ، جو زیادہ تر مغربی بنگال کے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، سب سے زیادہ تباہ و برباد ہوئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دیہات کے غریب عوام، جو لڑکیوں کی شادی، بچوں کی تعلیم اور بڑھاپے میں علاج معالجہ کے لیے اپنی کمائی کا کچھ رقم بچا کر رکھنا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ رقم کوئی ادارہ بڑھا کر دے۔ پوسٹ آفس دیہاتوں میں ہے، اس میں یہ غریب اپنے پیسے جمع کرسکتے ہیں اور کرنا چاہیے تھا، لیکن ان کو لالچ نے کچھ زیادہ مارا۔ یہ بات راقم صرف غیر مسلموں کے لیے کہہ رہا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے، تو سود کی کوئی رقم ان کے لیے جائز نہیں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ دیہاتوں میں عوام کا وہ طبقہ، جو اسلام سے تعلق رکھتا تھا، وہ شاردھا گروپ کے ایجنٹوں کے جال میں نہیں پھنسا۔
دوسرا معاملہ یہ ہے کہ جو دیہات کے لوگ ہیں، وہ پین کارڈ (Pan Card) اور کے وائی سی (KYC) کے قواعد (Formalities) کی وجہ سے مالی اداروں میں اپنی رقمیںجمع نہیں کرا پاتے۔ سب سے خراب حال ڈاکخانوں اور ان کے کارکنوں کا ہے۔ بینکوں کے اسٹاف بھی کمزوروں اور دیہاتیوں کو منھ نہیں لگاتے۔ یہ کمزور لوگ آخر جائیں، توکہاں جائیں اور اب جبکہ حکومتیں انہیں نظر انداز کر رہی ہیں اور ان کے لٹیروںکی پناہ گاہ بنی ہوئی ہیں، تو ان کی مشکلات میں اور بھی اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ ایسی صورت میں موجودہ معاشی نظام کے زوال کا وقت، ایسا لگتا ہے کہ قریب آچکا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماہرین معاشیات غور و فکر سے کام لیں اور متبادل معاشی نظام، جسے اسلامی نظام معیشت کہتے ہیں، اس کے قیام اور بقا کے لیے کوشش کریں، خاص طور پر تحریک اسلامی اور مسلم ممالک کی طرف سے جو اسلامی بینکوں کے قیام کے سلسلے میں کوششیں ہورہی ہیں، اس کا خیر مقدم مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کو کرنا چاہیے۔ اب نہ صرف ہندستان، بلکہ پوری دنیا میں غیر سودی نظام موجودہ کرپٹ معاشی نظام کا متبادل ہے۔ ہندستان میں کیرالہ وہ واحد ریاست ہے، جہاں غیر سودی نظام کی طرف مارکسی حکومت نے قدم اٹھایا اور موجودہ کانگریسی حکومت اس کی حفاظت میں آگے آئی ہے اور قانونی حفاظت مہیا کررہی ہے۔ ضرورت ہے کہ کیرالہ کی طرز پر ’’البرکۃ مالیاتی ادارہ (Al-Baraka Financial Services) جو غریبوں کے لیے مددگارثابت ہورہا ہے، وہ مغربی بنگال جیسی پسماندہ ریاست میں بھی قائم ہو۔

آزاد ہند کا معاملہ
شاردھا گروپ نے دو سال پہلے ’روزنامہ آزاد ہند‘ کو مشہور صحافی احمد سعید ملیح آبادی سے خرید کر نہایت آن و بان سے شائع کرنا شروع کیاتھا۔ آزاد ہند اخبار احمد سعید کے والد عبد الرزاق ملیح آبادی نے، جو مولانا آزاد کے سکریٹری تھے، نکالا تھا۔ اس اخبار نے آزادی کی جنگ میں حصہ لیا تھا، لیکن اب وہ تین ہفتے پہلے منظر عام سے یکایک غائب ہونے سے قبل اس کے مدیران امین الدین صدیقی اور پھر جہانگیررضا کاظمی کی بھی یکے بعددیگرے چھٹی کردی گئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *