شرد یادو بے بس اور لاچار ہیں: اوپیندر کشواہا

Share Article

لالو پرساد اور نتیش کمار کے درمیان گھٹتی دوریوں نے بھونچال لا دیا ہے۔سیاسی ماہرین بھلے ہی اس کی مختلف معنوں سے تعبیر کر رہے ہوں، لیکن اپوزیشن اسے پوری طرح موقع پرستی کی سیاست قرار دے رہی ہے۔ بہار کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سماجوادی پس منظر کے لیڈر اور کبھی نتیش کمار کے ساتھ رہے لوک سمتا پارٹی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر مملکت اوپیندر کشواہا سے ابھیشیک رنجن سنگھ نے تفصیلی بات چیت کی۔ پیش ہیں اہم اقتباسات:

فرقہ پرستوں کو روکنے کے لئے نتیش کمار اور لالو پرساد نے سماجوادی پارٹیوں کو باہمی اختلافات کو بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر آنے کی بات کہی ہے، اس کے پیچھے کی سیاست کیا ہے؟

سماجوادی اتحاد کے نام پر نتیش کماور اور لالو پرساد یادو عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات میں جنتا دل (یونائٹیڈ) اور راشٹریہ جنتا دل کو بہار کے عوام نے نکار دیا، اس لئے ان دونوں لیڈروں کے سامنے وجود کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ دراصل، انتخابی نتائج کے بعد ان دونوں پارٹیوں میں بھگدڑ کی صورتحال ہے۔ جے ڈی یواور آر جے ڈی میں اندرونی جمہوریت ختم ہو چکی ہے۔ ان پارٹیوں کے سینئر لیڈر خود کو حقیر محسوس کر رہے ہیں۔ فرقہ پرستی کے نام پر نتیش کمار سیاست کر رہے ہیں، یہ عوام بھی سمجھ چکے ہیں۔ نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بنائے جانے پر انھوں نے این ڈی اے سے 17سال پرانا ناطہ توڑ لیا تھا، جبکہ سال 2002میں گجرات میں ہوئے فساد کے بعد بھی وہ واجپئی حکومت میں تقریباً دو سالوں تک وزیربرقرار رہے تھے۔ اتنا ہی نہیں، بہار میں بی جے پی کے ساتھ مل کر جے ڈی یو نے انتخاب لڑا اور نتیش کمار وزیر اعلیٰ بنے۔ اس وقت تک انہیں بی جے پی اور نریندر مودی سے پرہیز نہیں تھا۔ سیاست میں اس سے بڑا موقع پرست کردار اور کیا ہو سکتا ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ لالو اور نتیش اپنے اپنے مفاد کے لئے آج سماجواد کے نام کا سہارا لے رہے ہیں۔
نتیش اور لالو کی نزدیکیوں کی وجہ کہیں راجیہ سبھا کی سیٹ تو نہیں ہے؟
آپ کا اندازہ سوفیصد صحیح ہے اور یہ تمام قواعد راجیہ سبھا میں جگہ پانے کو لے لر کر ہے۔ سماجوادی جماعتوں کا اتحاد تو محض ایک بہانا ہے۔لوک سبھا انتخابات میں بری طرح شکست ہونے کے بعد نتیش کمار اور لالو پرساد کی پارٹیوں پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ خاص کر لالو پرساد، جن کے کنبہ کا کوئی ممبر بہار سے لے کر دہلی تک کی سیاست میں نہیں رہ گیا ہے۔ اسی طرح نتیش کمار بھی اپنی پارٹی کے ایک دو لیڈروں کو راجیہ سبھا میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ ان کی یہ تمنا تبھی پوری ہوگی، جب دونوں لیڈر آپس میں مل جائیں۔ عوام کے درمیان ان کے اس موقع پرست کردار کا انکشاف نہ ہو، اس لئے وہ اپنی اس کوشش کو سماجوادی اتحاد کا جامع پہنا رہے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ شرد یادو ان دنوں جے ڈی یوسے ناراض چل رہے ہیں اور جلد ہی وہ ایک نئی پارٹی کی تشکیل بھی کرنے والے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو بہار کی سیاست پر اس کا کیا اثر ہوگا؟
نتیش کمار کی تانا شاہی سے صرف شرد یادو ہی نہیں، بلکہ جے ڈی یو کے کئی لیڈر ناراض ہیں۔ نتیش کماور جب این ڈی اے سے الگ ہونے کا فیصلہ کر رہے تھے تو، اس وقت بھی پارٹی میں ایک رائے نہیں تھی۔ خود شرد یادو نتیش کمار کے اس فیصلے سے متفق نہیں تھے، لیکن وہ بے بس اور لاچار بن کر تماشہ دیکھتے رہے۔ میرے خیال سے وزیر اعظم بننے کی اپنی تمنا کے سبب نتیش کمار نے جے ڈی کو حاشیہ پر پہنچا دیا۔ شرد یادو ایک سینئر لیڈر ہیں اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر بھی ان کی عزت کرتے ہیں۔وہ جے ڈی یو کے قومی صدر ہیں، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پارٹی میں ان کی مسلسل بے عزتی ہو رہی ہے۔ پارٹی کے تمام فیصلوں میں ان کی رائے لینا نتیش کمار مناسب نہیں سمجھتے ہیں۔ جے ڈی یو کی طرف سے لئے گئے ایک دو فیصلے بھی مجھے بتایئے ، جو شرد جی کی مرضی سے لئے گئے ہوں؟ اس صورت میں کوئی لیڈر کسی پارٹی میں طویل عرصہ تک کیسے رہ سکتا ہے۔ حالانکہ، شرد یادو نئی پارٹی بنانے جا رہے ہیں، اس سلسلہ میں مجھے کوئی علم نہیں ہے، لیکن آئندہ دنوں میں انہیں کوئی سخت فیصلہ لینا پڑ سکتا ہے، ورنہ جے ڈی یو میں ان کی اور کرکری ہوگی اور اس کے لئے شرد جی خود ذمہ دار ہوں گے۔
بہار کے موجودہ سیاسی حالات کے مدنظر کیا آپ کو لگتا ہے کہ مانجھی حکومت اپنی مدت کار پوری کرپائے گی؟
فی الحال جو صورتحال ہے، اسے دیکھ کر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ریاست کی جے ڈی یو حکومت پانچ سالوں کی مدت کار پوری نہیں کر پائے گی۔ اگر حکومت گرتی ہے تو اس کے واحد ذمہ دار نتیش کمار ہوں گے۔ جے ڈی یو میں زبردست گروہ بند چل رہی ہے۔ ارکان اسمبلی میں بھی کئی گروہ بن چکے ہیں، جو آنے والے دنوں میں پارٹی سے بغاوت کر سکتے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ بے اطمینانی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی ہے، بلکہ یہ گزشتہ دو تین سالوں سے چل رہی ہے۔ اس سب کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ مانجھی حکومت اپنی مدت کار پوری کرے، لیکن کسی وجہ سے اگر حکومت گرتی ہے تو ہماری پارٹی انتخابات کے لئے تیار ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ بہارکے عوام لوک سبھا انتخابات کی طرح ہی آئندہ انتخابات میں بھی نتیش کمار کو سبق سکھائیں گے۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *