شاہین باغ روڈ کھولنے پر ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت-پولیس کے پالے میں ڈالی گیند

Share Article

دہلی کے شاہین باغ كالندي کنج میں سڑک کو جام کرنے کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے گیند مرکز اور دہلی پولیس کے پالے میں ڈال دیا ہے. منگل کو اس معاملے کی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ متعلقہ محکمہ یعنی کہ پولیس اس معاملے میں قانون کے تحت کام کرے۔

Image result for shaheen bagh protest

دہلی کے شاہین باغ كالندي کنج میں سڑک کو جام کرنے کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے گیند مرکز اور دہلی پولیس کے پالے میں ڈال دیا ہے. منگل کو اس معاملے کی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ متعلقہ محکمہ یعنی کہ پولیس اس معاملے میں قانون کے تحت کام کرے۔

Image result for shaheen bagh protest

15 دسمبر سے مسلسل ہو رہا ہے احتجاج
کورٹ نے کہا کہ پولیس عوامی مفاد کو دیکھتے ہوئے کام کرے. اسی کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے اس معاملے کو ختم کر دیا. شاہین باغ میں 15 دسمبر سے مقامی لوگ شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔یہ احتجاج دہلی سے نوئیڈا جانے والی سڑک پر ہو رہا ہے. اس کی وجہ سے ایک ماہ سے اس سڑک سے گزرنے والے لوگ کافی پریشان ہیں. بتا دیں کہ كالندي کنج کا راستہ گزشتہ 15 دسمبر سے بند ہے۔

Image result for shaheen bagh protest

احتجاج کو پورے ہوئے 30 دن
دہلی کے شاہین باغ میں شہریت ترمیم قانون (سيےے) کے خلاف احتجاج کو پورے 30 دن ہو گئے ہیں۔ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت شہریت قانون پر اپنا فیصلہ بدلے۔

دہلی کے شاہین باغ علاقے میں سی اے اے کے خلاف ہر روز آواز بلند ہوتی ہے. دہلی کی موسم سرما میں سڑک پر مظاہرین نے 30 راتیں گزار دیں. مخالفت-احتجاج کو ایک مہینہ مکمل ہو گیا، لیکن کوئی جوش ٹھنڈا نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ارادہ بدلا ہے. شاہین باغ گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کی علامت بن گیا ہے۔

Image result for shaheen bagh protest

بچے سے لے کر بزرگ تک موجود ہیں احتجاج میں
سی اے اے کے خلاف مظاہرہ میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے. چھوٹے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک اس مخالفت کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں. شہریت قانون کے خلاف بھیڑ ڈٹي ہے. طالب علم-نوجوان نعرے لگاتے ہیں. گیت گاتے ہیں. پوسٹر لہراتے ہیں. پرچے بانٹتے ہیں اور کہتے ہیں حکومت شہریت قانون واپس لے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *