جمعیۃ علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے 27 اکتوبر کو یکطرفہ آزادی مارچ کے پیش نظر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کوٹ لکھپت جیل میں اپنے بھائی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔
سابق وزیر اعظم نے شہباز سے اس معاملے پر اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کو کہا، تاکہ منتخب پی ٹی آئی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے متحدہ تحریک شروع کی جا سکے۔ شہباز نے ان سے کہا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل سے ان کی ملاقات ہوئی ہے اور انہیں مجوزہ مارچ کو لے کر مسلم لیگ (ن) کی مجلس عاملہ کی رائے سے آگاہ کیا گیا ہے۔
اخبار ڈان کے مطابق، میاں نواز نے شہباز سے کہا کہ وہ ان کا پیغام مولانا فضل الرحمن تک پہنچا دیں کہ ایکلا چلو کی پالیسی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیا جا سکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اپوزیشن پارٹی اس بات کو لے متذبذب ہیں کہ یہ مارچ کتنے دنوں تک چلے گا اور سینکڑوں ہزاروں لوگ کتنے دنوں تک دھرنا مظاہرہ کریں گے۔ اس کے علاوہ انہیں یہ بھی بھروسہ نہیں ہے کہ وزیر اعظم عمران خان دباؤ میں استعفی دے ہی دیں گے۔اگرچہ میاں نواز شریف اس بات کو لے کر پر امید ہیں کہ تینوں پارٹیاں اسی طرح مقصد کے لئے متحد ہو جائیں گی اور پی ٹی آئی حکومت سے نجات مل جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here