شاہ فیصل اور شہزاد فیصل:ایک فخر قوم ایک ننگ قوم

Share Article

اٹھائیس مئی کے کئی اخبار میرے سامنے ہیں جس میں صحافت کے صفحہ نمبر 2پر شہزاد فیصل کی تصویر ہے جبکہ صفحہ 3پر شاہ فیصل کی۔ دونوں تصویروں پر تقریباً ساتھ نظر پڑتی ہے تو دونوں ایک جیسی عمر کے لگتے ہیں ۔ ایک کی تصویر شرمسار کرتی ہے تو دوسرا سر بلند کر کے آٹو گراف دے رہا ہے۔ ان دونوں کے کردار پر نظر ڈالتے ہیں تو نام میں مناسبت کے باوجود اس قدر تضاد و دونوں کی شخصیت اور کردار پر نظر آتا ہے کہ لمحہ بھر کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کاش شہزاد فیصل بھی شاہ فیصل کی طرح ہی فخر قوم بن جاتا ۔ ہمارے مسلم نوجوانوں کو نہ جانے کس نے دہشت گرد ی کی راہ پر لگا دیا ہے، نہ جانے کون سی میٹھی گولی ان کو کھلائی گئی ہے نہ جانے کون سی جنت کا لالچ ان کو دیا گیا ہے نہ جانے کون ان کی معصومیت چھین کر ان کو ہتھیار تھما رہا ہےاور یہ معصوم نوجوان اپنے گھر بار اپنے بیوی بچوں سبھی کودائو پر لگا کر دہشت گردی کی اس راہ کا تعین کر لیتے ہیں جس کے پرخار راستے ان کو بار بار زخمی کرتے ہیں۔ اس راستے کا انجام کیا ہوگا وہ بھی ان کو معلوم ہے، ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جس خدا کو یہ دہشت گرد مشن کا سبب بتاتے ہیں اور جس کے لئے یہ اپنی جان کی بازی لگا دیتے ہیں اس خدا نے ہی قرآن پاک میں زندگی کی اہمیت اور اس کی حفاظت کرنے پر بار بار زور دیا ہے۔ قرآن پاک میں کہا گیا ہے کہ زندگی خدا کا بیش قیمت عطیہ ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اب یہ دہشت گرد جو کہ خدا کی راہ میں ہزاروں لوگوں کی جانیں لیتے ہیں اور ہزاروں بے گناہ  ان کے ظلم کا شکار ہوجاتے ہیں ان کے بیوی بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔وہ کون سا خدا ہے؟ کیا ان دہشت گردوں کا خدا کوئی اور ہے ۔ان معصوموں کو کوئی یہ نہیں بتاتاکہ قرآن پاک جگہ جگہ بندوں سے بندوں کی محبت کا درس دیتا ہے اور قرآن میں جگہ جگہ یہی کہا گیا ہے کہ تم میرے بندوں سے محبت کرو میں تم سے محبت کروں گا جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ ؎

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرّو بیاں


یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان کے دکھ درد کو بانٹنے کے لئے بنایا ہے ۔اسے اپنی عبادت کر انا مقصد نہیں ہے اگر وہ صرف بندوں کو اپنی عبادت کے مقصد سے پیدا کرتا تو اس کے لئے تو فرشتے ہی کافی تھے جو رات دن رکوع و سجود میں رہتے ہیں۔
پھر جب ان نوجوانوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر اور’جہاد‘ جیسے لفظ کو(جس کے صحیح مفہوم کو میں یہاں بیان کرنے بیٹھ جائوں تو صفحہ کے صفحہ رنگین ہو جائیں) ہتھیار بنا کر بھڑکایا جاتا ہے تو ان کو یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ بے گناہوں کا خون بہانا بھی انہیں ادا کرنا ہوگا۔شہزاد فیصل کسی معمولی گھر کا لڑکا نہیں ہے، وہ ایک اچھے کھاتے پیتے گھر سے تعلق رکھتاہے۔ اس کے دو معصوم بچے اور ایک بیوی ہے۔ اس نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ اس کے اس اقدام سے اس کی نسلوں کی نسلیں تباہ و برباد ہوجائیںگی، لیکن یہاں وہی بات آجاتی ہے کہ ان نوجوانوں کے پیچھے کے ماسٹر مائنڈ کو تلاش کیا جائے ،ا ن کو قرآن و حدیث کا درس دیا جائے تو شاید کچھ تبدیلی آئے، لیکن جو تنظیمیں یہ کام کر رہی ہیں، وہ نہ جانے کون سے مکتب سے، کون سے مدرسے اورکون سے تعلیمی اداروں سے نکل کر آئی ہیں کہ انہوں نے ہمارے نوجوانوں کو تباہی کے راستے پر لگا دیاہے۔ نیویارک ٹائمز اسکوائر کے ملزم شاہ فیصل کے خلاف جو امریکی ثبوت پاکستان کو پیش کیے گئے ہیں، ان میں فیصل شہزاد کے پاکستانی طالبان کے ساتھ رابطوں کا پارٹ اور فیصل شہزاد کو مدد فراہم کرانے والے جنگجوؤں کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ سی آئی اے کے سربراہ لیوین پنیٹنا اور قومی سلامتی کے مشیر جنرل(ریٹائرڈ) جیمز جونز نے جو رپورٹ پیش کی اس میں (ٹی ٹی پی) تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور یہ بھی دھمکی دی ہے کہ مستقبل میں اگر امریکہ میں کوئی حملہ کامیاب ہوجاتا ہے تو امریکہ بھی جوابی کارروائی کرے گا۔ امریکہ تو جیسے ادھار کھائے بیٹھا ہے۔ اگر وہ جوابی کارروائی پر اترآتا ہے تو اس کے کتنے سنگین نتائج بھگتنے پڑسکتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے مشکل نہیں ہے۔
حالانکہ فیصل شہزاد کی اس حرکت کو ایک ناکام کوشش کہا جاسکتا ہے۔ ایک ایسی بھونڈی حرکت جس نے پاکستانیوں کو ذلیل و خوار کردیا۔ شہزاد کا یہ کہنا کہ یہ اس کا ذاتی فیصلہ تھا بے وقوفی کا بیان ہے۔ حالانکہ اگر وہ ٹرینڈ دہشت گرد ہوتا تو نہ تو ٹائم بم جعلی ہوتا، گاڑی بھی ایسی استعمال نہ کرتا جس سے کہ نشاندہی آسانی سے ہوجائے۔ ابھی تو 9/11کے حادثے نے ہی مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کررکھا تھا۔ اب فیصل شہزاد کی اس حرکت نے تو جیسے ٹھپا ہی لگا دیا ہے۔ اگر شہزاد فیصل نے یہ صرف کسی ذاتی دشمنی کی بنا پر کیا ہے تو یہاں اس کو ہندوستان کے یوپی ایس سی ٹاپر شاہ فیصل سے سبق لینا چاہیے۔ فیصل کے والد کو چند سال قبل نامعلوم بندوق برداروں نے قتل کردیا تھا۔ اس کے والد اور والدہ دونوں ہی ٹیچر تھے، لیکن فیصل شہزاد نے اس دہشت گردی سے نمٹنے کا جو راستہ چنا اس نے آج اسے آسمان کی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ شاہ فیصل آج کے نوجوانوں کے لیے وہ نام ہے، جس سے کہ ہمت و حوصلے اور دنیا سے لڑنے کا عزم نظر آتا ہے۔ شاہ فیصل آئی اے ایس میں ٹاپ کرنے والا پہلا کشمیری مسلم ہے۔ شاہ فیصل نہ صرف ان 875امیدواروں کی فہرست میں اول ہے بلکہ کل چودہ ہندوستانی مسلم نوجوانوں میں بھی سرفہرست ہے۔ 4لاکھ امیدواروں میں سے جن میں صرف ایک لاکھ 93ہزار 90امیدوار مقابلہ جاتی امتحان میں چنے گئے تھے اس میں شاہ فیصل نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جس دہشت گردی کا شکار اس کے ماں باپ ہوئے ہیں اس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وہ خود اتنا طاقتور ہوجائے کہ اس کے سامنے سب ہیچ ہوں، وہ ریاست وہ لوگ جو عسکریت پسندی میں ایک طویل عرصے سے گرفتار ہیں۔ ایسے ماحول ، ایسی جگہ شاہ فیصل کا ٹاپ کرنا مسلم نوجوانوں کے لیے نہایت حوصلہ افزا اور نئی سوچ اور نئی امنگ کا ضامن بنے گا۔ دہشت گردی کے جس راستے پر ہمارے نوجوان آگے بڑھ رہے ہیں وہاں ان کو گھر کے افراد کی رہنمائی کی بے اتنہا ضرورت ہے۔ ان نوجوانوں کو بچپن سے ہی قرآن و حدیث کا درس اگر دیا جائے اور اسلام کے صحیح معنی بتائے جائیں تو مجھے یقین ہے کہ یہ نوجوان دہشت گردی کی جانب مائل ہونے کے بجائے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے پر آمادہ ہوجائیںگے۔ شاہ فیصل صرف ایک آئی اے ایس ٹاپر ہی نہیں ہے، ایک مسلم نوجوان ہی نہیں، ایک کشمیری ہی نہیں، یہ وہ نام ہے، وہ شخص ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف تقریریں نہیں کیں جس نے دہشت گردی کے خلاف کوئی بھڑکا نے والے بیانات نہیں دیے جس نے اپنے والد کا بدلہ لینے کے لیے ہتھیار نہیں اٹھائے، بلکہ اس نے قلم کو اپنا ہتھیار بنا کر دنیا کو یہ دکھادیا کہ دیکھو اس طرح قلم کی طاقت سے بھی دہشت گردی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف شاہ فیصل کا یہ کامیاب ہتھیار ہے۔ آج وہ جس مقام پر ہےوہاں اس کو دنیا سلام کر رہی ہے اور دوسری جانب شہزاد فیصل ہے جس نے پوری مسلم قوم کو شرمسار کردیا ہے۔ ویسے ہی امریکہ اور یوروپی ممالک کی ویزہ بڑی مشکل سے ملتی ہے ایسے میں فیصل شہزاد کے اس قدم نے ان پاکستانی طلبا کے مستقبل پر مہر لگادی ہے جو امریکہ یا دوسرے یوروپی ممالک میں جا کر پڑھنا چاہتے ہیں۔ اسٹوڈنٹ ویزہ ملنا تو بند ہوگا ہی دوسرے امریکہ میں تعلیم حاصل کررہے مسلم نوجوانوں کو بھی قدم قدم پر شرمسار ہونا پڑے گا۔نسلی تعصب ویسے ہی ان ممالک میں عام ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *