مسلمان شب برأت کے موقع پر خرافات سے بچیں

Share Article
shabe-barat

دیوبند:فتویٰ آن لائن سروس کے چیئرمین مفتی ارشد فاروقی نے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ شب برأت شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے اس کے بارے میں کئی احادیث موجود ہیں مشہور محدث اہل حدیث عالم علامہ عبدالرحمن نے تحفۃ الاحوذی میں لکھا ہے کہ اس رات کے متعلق اس قدر احادیث ہیں کہ اس کی فضیلت کا انکار نہیں کیا جا سکتا حقیقت یہ ہے اللہ تعالی جس زمانے جس مکان میں خیر و برکت رکھ دی اس سے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اس لحاظ سے تمام احادیث کا جائزہ لینے کے بعد شب برأت سے متعلق تین چیزیں سامنے آتی ہیں پہلی بات یہ کہ اس رات میں انفرادی طور پر نیک اعمال اور عبادت کی جائے عبادت کا کوئی خاص طریقہ یا نماز کی کوئی متعین مقدار متعین نہیں ہے بلکہ اپنے طور پر جو توفیق ہو وہ عبادت کرے دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی چاہے تو انفرادی طور پر عام قبرستان کی زیارت کرے اور تیسری چیز پندرہویں شعبان کا روزہ رکھے لیکن یہ روزہ واجب یا ضروری نہیں۔ مفتی شفیع صاحب نے ان تینوں چیزوں کو شب برات سے متعلق مستحب لکھا ہے البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ چیزیں جو آج خرافات کی شکل میں شب برأت میں پائی جاتی ہیں ان سے گریز کرے جیسے چراغاں کرنا روشنی کا خصوصی اہتمام کرنا سجانا ڈیکوریشن کرنا اور اس کے ساتھ آتش بازی پٹاخے پھوڑنا یہ چیزممنوع ہے فضول خرچی اور شیطانی عمل ہیں اسی طرح یہ عقیدہ رکھنا کہ شب برات میں مردوں کی روحیں اپنے گھروں کو آتی ہے یہ بھی غلط ہے اور ناجائز ہے اس طرح کے عقیدے اور خرافات سے گریز کرنا ضروری ہے شب برات نہ کوئی تہوار ہے اور نہ کوئی ایسی خاص رات جس کے بارے میں ایسی اہمیت جتائی گئی ہو کہ اس کا اہتمام لازمی ہو ان تمام امور سے گریز کرتے ہوئے اپنے طور پر عبادت اور روزہ اور قبرستان کی زیارت کرنے کی اجازت ہے مناسب یہ ہے کہ جو لوگ ہر مہینے کی تیرھویں، چودھویں پندرھویں تاریخ کا روزہ رکھتے ہیں وہ اس روزے کا شعبان میں بھی اہتمام کریں تاکہ پندرہویں شعبان کا روزہ ایام بیض میں شمار ہو۔

وہیں دوسری جانب آل انڈیا و جمعیہ دعوت المسلمین کے صدر قاری سید اسحاق گورا نے پریس کو جاری بیان میں کہاکہ شب برائت میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں ہے کہ فلاں طریقہ سے عبادت کی جائے جیسے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایک طریقہ گھڑ کر یہ کہہ دیا کہ شب برائت میں اس خاص طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے، مثلاََ پہلی رکعت میں فلاں صورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں صورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ،اس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ،یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہو سکے وہ اس رات میں انجام دی جائے۔نفل نماز پڑھیں ،قرآن کریم کی تلاوت کریں،ذکر کریں،تسبیح پڑھیں ،دعائیں کریں،یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں ،لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔ قاری اسحاق گورا نے کہا کہ اس رات (شب برائت) کی فضیلت میں متعدد روایات منقول ہیں جن کی سندی حیثیت یہ ہے کہ اکثر وہ روایات ضعیف ہیں اور بعض حسن درجہ کی بھی ہیں جن کے مجموعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اپنے گھروں میں بشاشت اور طبیعت کے نشاط کے موافق عبادت کا اہتمام کرنا مستحب ہے۔ قاری اسحاق گورا نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تقاضہ یہی ہے کہ شب برائت جیسی راتوں میں نفلی عبادات کا اہتمام اپنے اپنے گھروں میں کیا کریں اور خلاف سنت کاموں سے اپنے کو بچاتے رہیں ،رات بھر گھومتے پھرنا اور قبرستان وغیرہ میں میلہ،ٹھیلہ کی شکل اختیار کرنا ،تقریر و بیان کی لمبی لمبی مجلسیں قائم کرنا بالکل جائز نہیں ہے۔ان جیسے امور میں تو بہت سے مفاسد اور خرابیاں مستحقق ہیں اور واجب الترک ہیں ۔خلاف قانون موٹرسائیکل وغیرہ پر سوار ہو کر گھومتے پھرنا جس کی وجہ سے حوادثات پیش آنے کا اندیشہ ہو جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *