ایس جی نے مرکز کو نوٹس دینے کی مخالفت کی ، چیف جسٹس نے کہا- ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے

Share Article

 

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کو لے کر سپریم کورٹ میں بدھ کو سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے ایک ساتھ کل 14 درخواستوں پر سماعت کی اور اس پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔ آرٹیکل 370 کو ہٹانے کی موزونیت پر اب سپریم کورٹ کی آئینی پیٹھ اکتوبر مہینے میں سماعت کرے گی۔

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کو لے کر سپریم کورٹ میں بدھ کو سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے ایک ساتھ کل 14 درخواستوں پر سماعت کی اور اس پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔ آرٹیکل 370 کو ہٹانے کی موزونیت پر اب سپریم کورٹ کی آئینی پیٹھ اکتوبر مہینے میں سماعت کرے گی۔ اس دوران عدالت میں سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے نوٹس جاری کرنے کی مخالفت کی، جس پر CJI نے بھی اعتراض کیا۔

دراصل، سپریم کورٹ میں جب چیف جسٹس رنجن گوگوئی ان مقدمات کی سماعت کر رہے تھے تو انہوں نے دفعہ 370 کے ساتھ منسلک درخواستوں پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور اب اکتوبر میں آئینی پیٹھ اس کی سماعت کرے گی۔

اس دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے نوٹس جاری کرنے پر اعتراض کیا، انہوں نے عدالت میں کہا کہ اس معاملے میں نوٹس جاری کرنے سے دوسرے ملک اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا اثر سرحد پار تک جائے گا۔ جس پر چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، ہم نے آرڈر دے دیا ہے۔ اور وہ اپنا حکم نہیں بدلیں گے۔ سالیسٹر جنرل کے علاوہ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے بھی نوٹس نہ جاری کرنے کا مشورہ دیا۔

غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ اس مسئلے کی سماعت ابھی اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کرے گا۔ اس کے علاوہ بھی عدالت کی طرف سے جموں و کشمیر میں پریس فریڈم کو لے کر حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ میڈیا والے کیس میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ایک ہفتے میں جواب دینے کو کہا ہے۔

تاہم، اس سے کچھ مختلف درخواستوں کو سپریم کورٹ نے فوری طور پر نمٹا۔ جیسے لیفٹ لیڈر سیتا رام یچوری کو سرینگر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور اب وہ وہاں جاکر اپنی پارٹی کے ممبر اسمبلی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی کی جامعہ یونیورسٹی کے طالب علم کو بھی اننت ناگ جاکر اپنے گھر والوں سے ملنے کی اجازت دی گئی ہے۔

بتا دیں کہ مرکزی حکومت نے 5 اگست کو جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کمزور کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جسے کئی اپوزیشن جماعتوں اور NGO نے غیر آئینی بتایا تھا، اسی کو لے کر عدالت میں بہت عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *