بڑاانکشاف: ملک خطرے میں تو پھر سلامتی مشیر کے بیٹے کا دشمن پاکستان سے کیسا رشتہ؟

Share Article

 

جموں کشمیر کے پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 40 سے زیادہ سی آر پی ایف جوانوں کی شہادت کے بعد ملک میں پاکستان کے تئیں غصہ ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے پاکستان کی اس بزدلانہ حرکت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ہندوستان نے بھی پاکستان کوسخت لہجے میں انتباہ دیتے ہوئے الگ تھلگ کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ چھیننا ان میں سے ایک ہے، تو وہیں ہندوستانی فوج نے پلوامہ حملے کے 48 گھنٹے کے اندر نہ صرف پلوامہ کے گنہگاروں کو ڈھونڈھ نکالا بلکہ ایک تصادم میں انہیں ڈھیر کر دیا، لیکن اب ملک کے سیکورٹی میں اتنی بڑی چوک سامنے آنے کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ نیشنلسیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال پر بھی انگلیاں اٹھنی شروع ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ ہے اجیت ڈوبھال کے بیٹے شوریہ ڈوبھال۔ الزام ہے کہ، شوریہ ڈوبھال کے سعودی کے پرنس مشال عبدالعزیز آل سعود اور ایک پاکستانی شخص سید علی عباس کے ساتھ کاروباری رشتہ ہے۔

 

 

دراصل شوریہ ڈوبھال دبئی میں’ جیمنی کارپوریٹ فائنانس لمیٹڈ ‘کے نام سے ایک کمپنی چلاتے ہیں، جس میں4 ڈائریکٹر ہیں، ان میں سے ایک ہے سید علی عباس اور دوسرے ہیں سعودی پرنس مشال عبدالعزیز آل سعود، وہیں صنعتکارگوتم اڈانی کے بھی پاکستان سے کاروباری رشتے ہیں۔ اڈانی پاور کام کے ساتھ مل کر پاکستان کو بجلی سپلائی کرتے ہیں۔ شوریہ ڈوبھال نے اپنی سیاسی اننگز کی شروعات کرتے ہوئے جہاں کچھ وقت پہلے ہی بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں، تو وہیں گوتم اڈانی کو وزیر اعظم نریندر مودی کا سب سے قریبی سمجھا جاتا ہے،ایسے میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب ملک کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے بیٹے اور پی ایم کے قریبی لوگوں کے ہی دشمن ملک کے ساتھ کاروباری رشتے ہیں تو کیاحکومت پاکستان کو منہ توڑ جواب دے گی؟
ان بدلے ہوئے حالات میں پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان بن سعود کا پاکستان اور پھر ہندوستان کا دورہ بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ سعودی پرنس کا پاکستان سفر پر اس لئے بھی سوال اٹھ رہے ہیں کیونکہ یہ سفر کشمیر کے پلوامہ میں انڈین سیکورٹی فورسز پر حملے کے فوراً بعد ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود سعودی پرنس نے نہ صرف پاکستان کا سفر بلکہ پاکستان کی ڈوبتی اقتصادیات کو سہارا دیتے بھی نظر آئے۔ ان کے پاکستان سفر کے دوران اربوں ڈالر کے کئی معاہدوں پر مہرلگی۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ سعودی عرب سے ملے 20 ارب ڈالر کا استعمال پاکستان ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے کرے گا۔ سعودی عرب پاکستان کو پہلے ہی چھ ارب ڈالر کا قرض دے چکا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی سعودی کے کراؤن پرنس پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں، ایسے میں شوریہ ڈوبھال کے سعودی کے پرنس مشال عبدالعزیز آل سعود کے ساتھ تعلقات پر بھی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔
سوال کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ سعودی عرب میں صحافی جمال خاشغجی کا قتل سعودی کے پرنس کے حکم پر ہوا تھا، سی آئی اے نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا ذکر بھی کیا تھا۔ اکتوبر 2018 میں ترکی میں خاشغجی کے قتل کے بعدمحمدبن سلمان پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کا الزام لگا تھا،جس کی وجہ سے کئی مشہور شخصیات نے ریاض میں ہوئی انویسٹمنٹسمٹ میں حصہ لینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

 

 

 

وہیں دوسری طرف الزام ہے کہ جس ملک کے قومی سلامتی کے مشیر کے بیٹا کا دشمن ملک کے شخص کے ساتھ کاروباری رشتیہوں، جو ملک کی سلامتی کو درکنار کر دن- رات منافع کمانے کے بارے میں سوچتا ہو،تو ایسے میں ملک کی حفاظت میں نقب لگانا دشمن کے لئے مشکل نہیں ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر سڑکوں پر اترے لوگ بھی پاکستان سے سارے رشتے ختم کئے جانے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں ایسے میں اجیت ڈوبھال کے بیٹے سے منسلک انکشاف حیران کن ہے۔
ویسے یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب اجیت ڈوبھال یا پھر ان کے خاندان کے کسی شخص پر انگلی اٹھی ہو۔اس سے قبل بھی اجیت ڈوبھال کے دیگر بیٹے وویک ڈوبھال کو لے کر بھی چونکانے والے انکشافات ہوئے تھے، جہاں اجیت ڈوبھال ٹیکس فری اور غیر ملکی کمپنیوں پر سختی سے روک لگانے کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں۔ وہیں اس کے برعکس ان کے بیٹے وویک ڈوبھال کیمن آئی لینڈ میں ہیج فنڈ چلاتے ہیں،اس میں حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ انہوں نے کیمین آئی لینڈ میں اس ہیج فنڈ 8 نومبر 2016 کو ملک میں وزیر اعظم نریندر مودی کے نوٹ بندی کے اعلان کے محض 13 دن بعد رجسٹر کیا تھا۔ وویک کا یہ ہیج فنڈ ان کے بھائی شوریہ ڈوبھال کے بزنس سے منسلک ہے، جو بی جے پی کے لیڈر ہیں اور مودی حکومت کے قریبی مانے جانے والے تھنک ٹینک انڈیا فاؤنڈیشن کے سربراہ ہیں۔

 

 

وویک ڈوبھال چارٹرڈ فنانشیل اینالسٹ ہیں۔ انہیں برطانیہ کی شہریت ملی ہوئی ہیں،جوکہ سنگاپور میں رہتے ہیں۔ وویک جی این وائی ایشیا فنڈ نام کی ہیج فنڈ کے ڈائریکٹر ہیں۔ 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈان ڈبلیو۔ ای بینکس اور محمد الطاف مسلم ویتل بھی اس کے ڈائریکٹر ہیں۔ ای بینکس کا نام پیراڈائس پیپرس میں بھی آیا تھا، وہ کیمین آئی لینڈ میں رجسٹرڈ دو کمپنیوں کے ڈائریکٹر ہیں۔ای بینکس پہلے کیمین حکومت کے ساتھ کام کیا کرتے تھے اور اس کے وزیر خزانہ اور کئی وزراء کو مشورہ دیتے تھے۔ محمد الطاف لولو گروپ انٹرنیشنل کے علاقائی ڈائریکٹر ہیں، یہ کمپنی مغربی ایشیا میں تیزی کے ساتھ توسیع کر رہی ہائی پرمارکیٹ چین ہے۔جی این وائی ایشیا فنڈ کے قانونی ایڈریس کے مطابق، یہ ورکس کارپوریٹ لمیٹڈ سے متعلقہ کمپنی ہے جس کا نام پاناما پیپرس میں آیا تھا۔ انکشاف ہوا ہے کہ شوریہ کے ہندوستانی کاروبار سے متعلق بہت سے ملازم جے این وائی ایشیا اور اس کی کمپنیوں کے ساتھ قریب سے جڑے ہوئے ہیں۔دونوں بھائیوں کے کاروبار کے تار سعودی عرب کے حکمران خاندان سعود گھرانے سے جڑے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *