حساس اطلاعات فراہم کرنے میں حکومت ناکام ’را‘ ہوا فیل، حکومت بدنام

Share Article

کل بھوشن جادھو، ڈالکن عیسیٰ ویزا معاملہ، چینی ویٹو، نیپال، پٹھان کوٹ کسی میںبھی صحیح اطلاع نہیں دے پائی ’پرائم‘خفیہ ایجنسی گھنگور بد نظمی میںپھنسے ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کو دھو ڈالنے پر آمادہ پی ایم مودی اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ڈوبھال
پربھات رنجن دین
p-1وزیر اعظم نریندرمودی ملک کی سب سے اہم اور حساس خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) میںکئی انفراسٹرکچر ل پھیر بدل کررہے ہیں۔’ را‘ کے ٹھہرے ہوئے پانی کو ہلانا مودی کے لےے ضروری بھی ہوگیا ہے، کیونکہ غیر ملکی زمین پر خفیہ اطلاعات حاصل کرنے والی ہندوستا ن کی اس ’پرائم‘ خفیہ ایجنسی کی ناکامیاں ملک پر بھاری پڑ رہی ہیں اور وزیر اعظم دفتر اور وزارت خارجہ کو لگاتار پریشانیوں میں ڈال رہی ہیں۔ را کے کئی اہم ’فیلیور‘ سے حکومت ہند کو انٹرنیشنل فورم پر جھینپ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اَٹ پٹی صفائی پیش کرنے پرمجبور ہونا پڑا ہے۔ پاکستان کے بلوچستان میں’را‘ کے مبینہ ایجنٹ کل بھوشن جادھو کے پکڑے جانے کا مسئلہ ہو یا چین کےیوغر صوبے کے متنازع جلاوطن رہنما ڈالکن عیسیٰ کو ہندوستانی ویزا دےے جانے کا مسئلہ ہو، ایسے کئی معاملوں میں صحیح خفیہ اطلاعات مہیا کرانے میں ناکام رہا، جس سے حکومت ہند کو دفاعی حالت میں آنا پڑا۔ کل بھوشن جادھو معاملے میںمرکز کو دفاعی دلیل کا سہارا لینا پڑا اور چین کی مخالفت کے بعد ڈالکن عیسیٰ کا ویزا منسوخ کرنے کا توہین آمیز فیصلہ لینا پڑا۔ وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسرکا تو یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی دہشت گرد مسعود اظہر کے خلاف اقوام متحدہ میںہندوستانی تجویز کے بارے میں چین کوپہلے ہی جانکاری مل گئی، لیکن چین کے ویٹو کی تیاریوں کے بارے میں’را‘ کو کوئی جانکاری نہیں مل پائی، جس سے ہندوستانی حکمت عملی کو اقوام متحدہ میں کرارا جھٹکا لگا۔ چین سے اس کا ڈپلومیٹک بدلہ لینے کے ارادے سے ڈالکن عیسیٰ کوہندوستان کاویزا دینے کا بچکانہ فیصلہ ہوا، لیکن اسے بھی واپس لے لینا پڑا۔ اس سے حکومت ہند کی بڑی فضیحت ہوئی۔ خفیہ ماہرین بتاتے ہیںکہ پٹھان کوٹ معاملے میںبھی پاکستان سے جڑی ضروری خفیہ اطلاعات مہیا کرانے میں ’را ‘کا کوئی تعاون نہیں رہا، جسے باقاعدہ انڈر لائن کیا گیا ہے۔ نیپال میں حکومت ہند کو لگاتار مل رہے ڈپلومیٹک جھٹکے کے لےے ’را‘ کے کمزورانٹیلی جنس سسٹم کو ہی قصوروار ٹھہرایا جارہا ہے۔
’را‘ کے کئی خفیہ پلان انٹر نیشنل فورمس پر لیک ہوتے رہے ہیں، جس سے ’را‘ کو کئی بار اپنے پیر پیچھے کھینچنے پڑے اور اپنا آپریشن منسوخ کرنا پڑا۔ ’ٹیلی کون آف تھنڈر بولٹ‘ پلان کے لیک ہونے کا واقعہ ’را‘ کی بڑی ناکامی مانا جاتا ہے۔ ’را‘ کے ’ٹاپ سیکرٹ پلان‘ کا آفیشیل لیٹر (نمبر جے زیڈ ایکس/ 629 /آپس 1/5/ڈی بی ، تاریخ 16 جون 2015) دشمن ملک کی خفیہ ایجنسیوںکے ہاتھ لگ گیا تھا۔ اس خط پر ’را‘ کے افسر وشال مولجی، اشمت منوہر او رکنال روہت کے باقاعدہ دستخط تھے۔ کچھ عرصہ قبل ہندوستانی بحریہ اور تائیوان کے بیچ ہونے والے خفیہ فوجی مذاکرات کی اطلاع بھی چین کو لیک ہوگئی تھی۔ اس وجہ سے میٹنگ ملتوی کردینی پڑی۔ شک ہے کہ وہ اطلاع بھی ’را‘ کے کسی کراس ایجنٹ کے ذریعہ ہی چین کی خفیہ ایجنسی منسٹری آف اسٹیٹ سیکورٹی (ایم ایس ایس) کو ملی تھی۔ پاکستان میں رہ رہے مافیا سرغنہ داو¿د ابراہیم کے بارے میں صحیح اطلاعات مہیا کرانے میںبھی ’را‘ فیل رہا ہے۔ حکومت ہند کو داو¿د کے بارے میں اطلاعات حاصل کرنے کے لےے کبھی امریکی خفیہ ایجنسی تو کبھی اسرائیلی خفیہ ایجنسی سے منت سماجت کرنی پڑی ہے۔ اسے لے کر بھی پی ایم اومیں گہری ناراضگی ہے۔ مرکز کی بی جے پی سرکار کئی بار داو¿د کو لے کر عوامی دعوے کرتی رہی، لیکن پھر جھینپ کر خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہوتی رہی ہے۔
کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ پارلیمانی کنٹرول نہیں ہونے کے سبب ’را‘ میں بدنظمی پھیلی ہے۔ ’را‘ کی کوئی جواب دہی قانونی عمل کے تحت طے نہیں ہے۔ فوج کی ساری سرگرمیاں سخت فوجی قانون کے تحت کنٹرول ہوتی ہیں، اس لےے فوج میںبدنظمی اور ضابطہ شکنی نہیں ہے۔ صرف پی ایم و کے تئیںجوابدہ ہونے کے سبب ’را‘ کے افسر اپنے اس خصوصی اختیار کا بیجا استعمال کرتے ہیں اور غیر ملکی ایجنسیوں سے من مانے طریقے سے رابطہ قائم کرتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ راءکے افسروں اور ملازمین کے کام کاج کے طور طریقوں اور پیسے خرچ کرنے پر الگ سے کوئی نگرانی نہیںرہتی، نہ اس کی کوئی آڈٹ ہی ہوتی ہے۔ ’را‘ کے افسروں کے باربار ہونے والے غیر ملکی دوروںکا بھی کوئی حساب نہیںلیا جاتا۔ کون لے اس کا حساب؟ پی ایم او چھوڑ کر کسی کو اس کا حق نہیں ہے۔ اس میںبھی سیدھے وزیر اعظم یا نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کو چھوڑ کر کوئی دیگر افسر ’را‘ سے کچھ پوچھنے یا جواب طلب کرنے کی حماقت نہیں کرسکتا۔ ’را‘ کے افسر امریکہ، کناڈا، انگلینڈ اور یوروپی ممالک میں بے تحاشہ آتے جاتے رہتے ہیں۔ لیکن جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقی ملکوں میں ان کی آمد و رفت کافی کم ہوتی ہے، جبکہ ان ملکوںمیں’را‘ کے افسروں کا کام زیادہ ہے۔ ’را‘ سے کوئی یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ امریکہ، کناڈا اورمغربی یوروپی ممالک سے وہ کس طرح کی ہندوستانی مفاد کی اطلاع لاتے ہیں او رملک کو اس کا کیا فائدہ ملا ہےَ امریکہ، مغربی یوروپ، آسٹریلیا اور جاپان جیسے عالیشان ملکوں میں ’را‘ افسروں کی پوسٹنگ زیادہ کیوںہوتی ہے او رپاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا یا دیگر جنوبی ایشیائی ملکوں یا مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں کافی کم کیوں؟ جنوبی ایشیائی ملکوں میںضرورت کے مطابق معینہ تعداد سے بھی کافی کم افسر تعینات ہیں، ایسے ملکوںمیں ’را‘ کاکوئی افسر جانا ہی نہیںچاہتا۔ لیکن اس بدنظمی کے بارے میں’را‘ سے کوئی کچھ نہیں پوچھ سکتا۔ ’را‘ میں میڈیم اور اس سے نیچے کی سطح میں ہونے والی تقرریوں کا کوئی شفاف عمل نہیں ہے۔ کوئی نگرانی نہیں ہے۔ ’را‘ کے ملازمین کا سروے کریں، تو افسروں کے رشتے داروں کی وہاں بھیڑ جمع ہے۔ سب افسر اپنے اپنے رشتہ داروں کے تحفظ میںلگے رہتے ہیں۔ تبادلوں او رتعیناتیوں پر افسران کے مفاد حاوی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس خفیہ ایجنسی کو سب سے زیادہ پیشہ ور (پروفیشنل) ہونا چاہےے تھا، وہ سب سے زیادہ کمزور ثابت ہورہی ہے۔ ’را‘ میں پھیلی بدنظمی کے سبب ہی محکمہ جاتی افسر اَننیہ چکرورتی، ان کی بیوی اور دو بچوںکے دہلی میںہوئے قتل کا راز دو سال بعدبھی نہیں کھل پایا ہے۔ چکرورتی کو پھانسی سے لٹکی ہوئی حالت میںاور ان کی بیوی جے شری، 17سال کے بیٹے ارنب اور 12 سال کی بیٹی دشا کو فرش پر لہولہان حالت میں برآمد کیا گیا تھا۔ ’را‘ نے یہ کہہ کر معاملہ نمٹانے کی کوشش کی کہ ’را‘ افسر نے اپنے خاندان کے لوگوں کو مار کر خود پھانسی لگالی، لیکن یہ دعویٰ شک میں لپٹا ہوا مانا گیا تھا اور اس کے پیچھے گہری سازش کا خدشہ جتایا گیا تھا، ’را‘ کے’اثر‘ کی وجہ سے دہلی پولیس بھی اس معاملے میںکچھ نہیں کرپائی۔ اننےہ چکرورتی نے بھج کے زلزلے میں یتیم بچی کو گود لیا تھا اور اسے دشا نام دیا تھا۔
بہرحال ان سببدنظمیوں کے سبب ’را‘ کو اسٹرکچرل سطح پر سدھارنے او رٹاسک اوریئنٹیڈ کرنے پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔ ’را‘ کے پورے نظام کو درست کرنے کے ارادے سے ہی اس کی ایک برانچ ایوئیشن ریسرچ سینٹر (اے آر سی) کو بند کرکے اسے نیشنل ٹیکنکل ریسرچ آرگنائزیشن (این ٹی آر او) او رہندوستانی فضائیہ کے ماتحت کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ ایوئیشن ریسرچ سینٹر کے ذریعہ ’را‘ کسی بھی حساس مقام کی خفیہ طریقے سے ہوائی تصویریں اور اس جگہ چل رہی سرگرمیاں ریکارڈ کرتی تھی۔ موجودہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال نے اسے ’را‘ کی دیگر برانچ این ٹی آر او اور فضائیہ کے تحت جوڑنے کے فیصلے پر پی ایم او کی رضا مندی لی۔ قابل ذکر ہے کہ ©’را‘ کے ایوئیشن ریسرچ سینٹر (اے آر سی) کے پاس روسی آئی ایل – 76 ایس،اے این 32-، گلوبل 5000- جیٹ اور امریکی گلف اسٹریم ایئرواسپیس کے جدید ترین جہازوں کا بیڑا اور ایم آئی 17- اور فرانسیسی ایلوتے 2- اور ایلوتے 3- قسم کے ہیلی کاپٹر ہیں۔ اے آرسی کے جہازوں کی اڑان خاص طور پر اڑیسہ کے چربتیا، اترپردیش کے سرساواں ، آسام کے تنسکیا اور دہلی کے پالم ایئر بیس سے ہوتی ہے۔ اے آرسی میں زیادہ ترافسر ملازم فوج اور سیکورٹی فورسیز سے ڈیپوٹیشن پر آتے ہیں۔ اے آرسی ’را‘ کے لےے جوابدہ ہے اور اے آرسی کے چیف ’را‘ چیف کے ماتحت ہوتے ہیں۔
پی ایم او کی تشویش یہ بھی ہے کہ ’را‘ میںسی آئی اے یا کچھ دیگر غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی اندر تک بنی گھس پیٹھ کیسے روکی جائے۔ کئی ایسے واقعے سامنے آچکے ہیںاور کئی ڈھکے چھپے ہوئے ہیں۔ ’را‘ کے ڈائریکٹر تک سی آئی اے کے لےے جاسوسی کرنے کے الزام میںجیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔ لیکن طا قت کے آگے غداری کا الزام بھی زیادہ وقت تک کھڑا نہیں رہ پایا اور وہ باعزت بری ہوگئے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ہے کہ ایک سینئر آئی پی ایس افسر آئی بی کا ڈائریکٹر بننے جارہا تھا کہ عین موقع پر پایا گیا کہ وہ دہلی میں تعینات خاتون سی آئی اے افسر ہیدی ا گسٹ کے لےے کام کررہا تھا۔تب اسے نوکری سے جبراً ریٹائر کیا گیا۔ بھید کھلا کہ سی آئی اے ہی اس آئی پی ایس افسر کو آئی بی کا ڈائریکٹر بنانے کے لےے بالواسطہ طور پر لابنگ کررہی تھی۔ ’را‘ کا اپنا کاو¿نٹر انٹیلی جنس سسٹم بھی بری طرح فیل ثابت ہوا ہے۔ بدنظمی کا عالم یہ ہے کہ ’را‘ کے افسر اور ملازم یونین بازی کررہے ہیں اور کاو¿نٹر انٹیلی جنس ہونے یا اس کا شک ہونے پر بھی سینئر افسروں کا گھیراو¿ کرنے اور نعرے بازی کرنے سے باز نہیںآتے۔ سیکورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ ’را‘ جیسی حساس تنظیم میںعام کل کارخانوں جیسی یونین بازی اور سیاست ملک کے حق میں نہیں ہے، اس پر کارگر طریقے سے سخت قانونی بندشوںکے تحت روک لگنی چاہےے۔
مودی سرکار مرکزی خفیہ ایجنسیوںمیں ہم آہنگی پیدا کرنے اور پیشہ ور طریقے سے جوابدہ بنانے کے لےے گریش سکسینہ کمیٹی رپورٹ کو لاگو کرنے پر غور رکررہی ہے۔ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوبھال کی ٹیم سے جڑے ایک افسر نے کہا کہ نیشنل انٹیلی جنس بورڈ کی تشکیل ہونے سے نہ صرف ’را‘ ، بلکہ آئی بی اور فوج کی خفیہ ایجنسیاں بھی ہم آہنگ ہوجائیں گی اور وہ سب سیدھے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے کنٹرول میں آجائیں گی۔ اٹل بہاری واجپئی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں سیکورٹی سسٹم کے تنظیم نو کے مسئلے پر مطالعہ کرنے کے لےے اس وقت کے وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی کی صدارت میںجو وزراءکا گروپ تشکیل کیا گیا تھا، اس کی سفارشیںبھی وزیر اعظم کے سامنے رکھی گئی ہیں۔ وزراءکے اس گروپ میںاس وقت کے وزیر دفاع جارج فرنانڈیز، وزیر خارجہ جسونت سنگھ اور وزیر خزانہ یشونت سنہا شامل تھے۔ سابق گورنر اور سیکورٹی معاملات کے ماہرین گریش سکسینہ کمیٹی، سابق گورنر این این ووہرا کمیٹی، سابق سکریٹری برائے داخلہ ڈاکٹر مادھو گوڈبولے کمیٹی اور سابق وزیر دفاع ارون سنگھ کمیٹی کی رپورٹیں بھی سامنے رکھی گئی ہیں، لیکن جائزے کے بعد سکسینہ کمیٹی کی سفارشوںکو لاگو کرنے پر مرکز سنجیدہ ہے۔ مذکورہ چاروں کمیٹیوں نے کے سبرامنیم کی کارگل ریویو کمیٹی (کے آر سی ) کی رپورٹ کا الگ الگ پہلوو¿ں سے تفصیل سے مطالعہ کیا تھا۔ کارگل ریویو کمیٹی نے یہ مانا تھا کہ خفیہ اطلاعات جمع کرنے میں ناکامی اور خفیہ ایجنسیوں میں آپسی تال میل نہیں ہونے کے سبب کارگل میںدراندازی کا واقعہ پیش آیا اور ملک کو غیر ضروری جنگ لڑناپڑی اور شہادتوں کا بھاری نقصان جھیلنا پڑا۔ ’را‘ اور آئی بی دونوں ہی کے آرسی کی رپورٹ سے متفق نہیں تھے۔ گریش سکسینہ کمیٹی نے 244 صفحات کی اپنی رپورٹ میں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کی قیادت اور نگرانی میںنیشنل انٹیلی جنس بورڈ کی تشکیل کےے جانے کی سفارش کر رکھی ہے۔ نیشنل انٹیلی جنس بورڈ میںرا، آئی بی، ڈی آر آئی، بری فوج،فضائیہ، بحریہ کی خفیہ اکائیوں کے چیفس کو ممبر کے طور پر شریک کےے جانے کا پروویژن ہے، تاکہ بہتر کو آرڈینیشن کے ساتھ اطلاعات جمع کرنے یا ٹاسک پورا کرنے کا کام پروفیشنل طریقے سے کیا جا سکے۔ سابق وزیر دفاع ارون سنگھ کی کمیٹی نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے تحت فوج کے تینوں ونگس کو ملا کر الگ سے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی بنانے کی سفارش کی تھی۔ مودی سرکار سے پہلے منموہن سرکار نے ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے بیچ بہتر کوآرڈینیشن اور پروفیشنل سسٹم بنانے کے لےے نیشنل انٹیلی جنس اینڈ سیکورٹی اتھارٹی بنانے کی تجویز رکھی تھی۔ یو پی اے سرکار نے یہ خیال کیا تھا کہ ملک کی خارجی، اندرونی اور فوجی خفیہ ایجنسیاں نیشنل انٹیلی جنس اینڈ سیکورٹی اتھارٹی کے تحت رکھی جائیں اور اتھارٹی ملک کی ساری خفیہ ایجنسیوں پر کنٹرول رکھے۔ لیکن فوج کے ماہرین نے اس تجویز کو غیر عملی قرار دیاتھا۔ اس طرح کانگریس سرکار کی وہ تجویز ٹھنڈے بستے میںچلی گئی۔
’را ‘میں لگی ہے غداروں کی لمبی قطار
’را‘ کے جنوبی مشرقی ایشیا مسائل کے انچارج اور جوائنٹ سکریٹری سطح کے اعلیٰ افسر میجر رویندر سنگھ کا سی آئی اے کے لےے کام کرنا اور سی آئی اے کی سازش سے فرار ہو جانا حکومت ہند کو پہلے ہی کافی شرمندہ کرچکا ہے۔ رویندر سنگھ جس وقت ’را‘ کے کور میں سی آئی اے کے لےے کراس ایجنٹ کے طور پر کام کررہا تھا، اس وقت بھی مرکز میں بی جے پی کی سرکار تھی اور اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم تھے۔ سال 2004 میں مرکز میںکانگریس کی سرکار آنے کے بعد رویندر سنگھ ہندوستان چھوڑ کربھاگ گیا۔ اس کے فرار ہونے کے دو سال بعد نومبر 2006 میں ’را‘ نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ میجر رویندرسنگھ کے فرار ہونے کا راز ڈھونڈنے میں ’را‘کو باضابطہ طور پر آج تک کوئی سراغ نہیں مل پایا، جبکہ ’را‘ کے ہی افسر امر بھوشن نے بعد میں یہ راز کھولا کہ میجر رویندر سنگھ اور اس کی بیوی پرمندر کور 7مئی 2004کو راجپال پرساد شرما اوردیپا کماری شرما کے فرضی ناموںسے فرار ہوگئے تھے۔ ان کے فرار ہونے کے لےے سی آئی نے7 اپریل 2004 کو ان فرصی ناموں سے باقاعدہ امریکی پاسپورٹ جاری کیا تھا۔ اس میںرویندر سنگھ کو راجپال شرما کے نام سے سے دےے گئے امریکی پاسپورٹ کا نمبر تھا 017384251۔ سی آئی اے کی مدد سے دونوںپہلے نیپال گنج گئے اور وہاںسے کٹھمنڈو پہنچے ۔کٹھمنڈو میںامریکی ایمبیسی میں تعینات فرسٹ سکریٹری ڈیوڈ واسلا نے انھیںریسیو کیا۔ کٹھمنڈو کے تریبھون ہوائی اڈے سے دونوںنے آسٹریلین ایئر کی فلائٹ (5032) پکڑی اور واشنگٹن پہنچے، جہاںڈلس انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر سی آئی اے ایجنٹ پیٹرک برنس نے دونوں کو ریسیو کیا اور انھیںمیری لینڈ لے گئے۔ میری لینڈ کی تنہا رہائش میں رہتے ہوئے ہی فرضی ناموں سے انھیںامریکہ کے شہری ہونے کی دستاویز تیار کرا کے دی گئےں، اس کے بعد سے وہ غائب ہیں۔ پی ایم او نے رویندر سنگھ کے بارے میںپتہ لگانے کے لےے ’را‘ سے بار بار کہا، لیکن کوئی نتیجہ نہیںنکلا، جبکہ ’را‘ وزیر اعظم کے تحت ہی آتا ہے۔ اس مسئلے میں’را‘ نے کئی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرس کی ہدایات کو بھی ٹھینگے پر رکھا۔ رویندر سنگھ کا معاملہ کھلنے پر ’را‘ کے کئی دیگر افسروں کی بھی پول کھل جائے گی، اس وجہ سے ’را‘ نے اسے ٹھنڈے بستے میںچھوڑ دیا۔ میجر رویندر سنگھ کتنا گرا ہوا شخص تھا، اس کی ایک مثال دیکھےے۔ ہندوستانی فضائیہ کو مگ 21-، مگ 23- اور مگ27- کے لےے کینوپیزکی ضرورت تھی۔ روس میں اس وقت کینوپیز دستیاب نہیںتھی۔ لہٰذا فضائیہ کی ٹیم کینوپیز کے لےے شام کی راجدھانی دمشق گئی۔ وہاں پر تعینات ’را‘ افسر میجر رویندر سنگھ کو فضائیہ کی ٹیم کی مدد میں لگایا گیا۔ دفاعی ہتھیاروں کی خرید کے لےے شام کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی کہ شام میں واقع امریکی سفیر تک یہ خبر پہنچ گئی۔ بعد میںیہ راز کھلا کہ خفیہ اطلاع میجر رویندر سنگھ نے لیک کی تھی۔ اس واقعہ کے بعد رویندر سنگھ کو ہندوستان واپس بھیج دیا گیا تھا۔ لیکن امریکی خفیہ ایجنسی کو خفیہ اطلاعات دینے کا کام وہ کرتا رہا ۔
’را‘ کے بھگوڑے غداروں کی کمی نہیں ہے۔ غیر ملکی ایجنسیوںکے لےے کراس ایجنسی کرنے اور اپنے ملک سے غدری کرنے والے ایسے کئی ’را‘ افسر ہیں، جو پکڑے جانے کے ڈر سے یا لالچ سے ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ میجر رویندر سنگھ جیسے غدار اکیلے نہیںہیں۔ ’را‘ کے فاو¿نڈر رہے رام ناتھ کاو¿ کا خاص سکندر لال ملک جب امریکہ میں تعینات تھا، تو وہیں سے لاپتہ ہوگیا۔ سکندر لال ملک کا آج تک پتہ نہیں چلا۔ ملک کو ’را‘ کے کئی خفیہ پلان کی جانکاری تھی۔ بنگلہ دیش کو آزاد کرانے کی حکمت عملی کی فائل سکندر لال ملک کے پاس ہی تھی، جسے اس نے امریکہ کو لیک کر دیا تھا۔ ملک کی اس کارروائی کو غیر ملکی معاملوں کے ماہرین ایک طرح کی تختہ پلٹ کی کوشش بتاتے ہیں، جسے اندرا گاندھی نے اپنی عقل مندی اور ڈپلومیٹک سوجھ بوجھ سے قابو کرلیا۔
منگولیا کے اولان بٹور اور پھر ایران کے خرم شہر میں تعینات رہے ’را‘ افسر اشوک ساٹھے نے تو اپنے ملک کے ساتھکمینہ پن کی انتہا ہی کردی۔ ساٹھے نے خرم شہر میںواقع ’را‘ کے دفتر کو ہی پھونک ڈالا اور سارے اہم اور حساس دستاویز آگ کے حوالے کرکے امریکہ بھاگ گیا۔ وزارت خارجہ کوجانکاری ہے کہ ساٹھے کیلی فورنیا میں رہتا ہے، لیکن’را‘ اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ پایا۔
’را‘ کے سینئر فیلڈ افسر ایم ایس سہگل کا نام بھی ’را‘ کے بھگوڑوںمیںاول ہے۔ لندن میں تعیناتی کے دوران ہی سہگل وہاں سے فرار ہوگیا۔ ٹوکیو میں ہندوستانی ایمبیسی میںتعینات ’را‘ افسر این وائی بھاسکر سی آئی اے کے لےے کراس ایجنٹ کا کام کر رہا تھا۔ وہیںسے وہ فرار ہو گیا۔ کٹھمنڈو میں سینئر فیلڈ افسر کے طور پر تعینات ’را‘ افسر بی آر بچّر کو ایک خاص آپریشن کے سلسلے میں لندن بھیجا گیا۔ لیکن وہ وہیںسے لاپتہ ہوگیا۔ بچر بھی کراس ایجنٹ کا کام کر رہا تھا۔ ’را‘ ہیڈ کوارٹر میں پاکستان ڈیسک پر انڈر سکریٹری کے طور پر تعینات میجر آر ایس سونی بھی میجر رویندر سنگھ کی طرح پہلے فوج میں تھا، بعد میں’را‘ میں آگیا۔ میجر سونی کناڈا بھاگ گیا۔ ’را‘ میںپھیلی بدنظمی کا حال یہ ہے کہ میجر سونی کی فراری کے بعد بھی کئی مہینے تک لگاتار اس کے اکاو¿نٹ میں اس کی تنخواہ جاتی رہی ۔اسلام آباد، بینکاک، کناڈا میں’را‘ کے لےے تعینات آئی پی ایس افسر شمشیر سنگھ مہا راجکمار بھی بھاگ کر کناڈا چلا گیا۔ اسی طرح ’را‘ افسر آر وادھوا بھی لندن سے فرار ہوگیا۔ کے وی اُنّی کرشن اور مادھوری گپتا جیسے انگلیوں پر گنے جانے والے ’را‘ افسر ہیں، جنھیں کراس ایجنسی یا کہیں دوسرے ملک کے لےے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جاسکا۔ پاکستان کے ہندوستانی ہائی کمیشن میںآئی ایف ایس گروپ- بی افسر کے عہدے پر تعینات مادھوری گپتا پاکستانی فوج کے ایک افسر کے ساتھ مل کر ہندوستان کے ہی خلاف جاسوسی کرتی ہوئی پکڑی گئی تھی۔ مادھوری گپتا کو 23 اپریل 2010 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی طرح عرصہ پہلے ’را‘ کے افسر کے وی انّی کرشن کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ پکڑے جانے والے ’را‘ افسروں کی تعداد کم ہے، جبکہ دوسرے ملکوں کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ ساز باز کر کے ملک چھوڑ کر بھاگ جانے والے ’را‘ افسرو ں کی تعداد کہیںزیادہ۔
طالبان نے کل بھوشن کو اغوا کیااور آئی ایس آئی کے ہاتھوں بیچ ڈالا
پاکستان نے کل بھوشن جادھو نام کے جس ہندوستانی شہری کو پکڑ کر ’را‘ کا ایجنٹ بتایا اور اسے پکڑنے کا کریڈٹ لے کر اپنی ہی پیٹھ ٹھوکی، اس کے بارے میںجرمن ڈپلومیٹ گُنٹر مولیک نے کہا کہ طالبانوں کے ذریعہ اغوا کےے گئے کل بھوشن جادھو کو خرید کر پاکستانی خفیہ ایجنسی اپنی پیٹھ ٹھوک رہی ہے۔ جرمن ڈپلومیٹ کی یہ اطلاع واقعی چونکانے والی ہے۔ بحرین،کویت اور شام میں سفیر رہ چکے جرمن ڈپلومیٹ گُنٹر مولیک نے کہا کہ کل بھوشن جادھو کو طالبان نے کچھ دنوں پہلے ہی اغوا کرلیا تھا۔ کئی دنوںتک طالبان اور پاکستانی ایجنسی کے بیچ مول بھاو¿ ہوتا رہا۔ دونوں طرف سے اتفاق رائے ہونے کے بعد طالبان نے کل بھوشن جادھو کو آئی ایس آئی کے ہاتھوں بیچ ڈالا۔ ایران نے بھی کل بھوشن جادھو کو ’را‘ کا ایجنٹ بتائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان کو ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔
کل بھوشن جادھو ہندوستانی بحریہ میں کمانڈر (سروس نمبر: 41558 زیڈ) تھا۔ بحریہ میں اسے انجینئرنگ کیڈر کے افسر کے طور پر کمیشن ملاتھا۔ اس نے 1987 میںیونین پبلک سروس کمیشن کا امتحان اور سروسیز سلیکشن بورڈ کا اسکریننگ ایگزام پاس کرنے کے بعد نیشنل ڈیفنس اکادمی (این ڈی اے) میں داخلہ لیا تھا۔ اسے بحریہ اکادمی سے 1991 میں کمیشن ملا تھا۔ کل بھوشن جادھو سال 2002 تک بحریہ میں رہا۔ اس کے بعد سال 2003 میںاس نے ایران کے چابہار میںکاروبار شروع کیا۔ کاروبا ر کے سلسلے میں وہ اکثر ایران، افغانستان، پاکستان وغیرہ جاتا رہتا تھا۔ لیکن اسے ایک دن اچانک اٹھا کر ’را‘ کا ایجنٹ قرار دے دیا جائے گا، یہ اس نے کبھی تصور بھی نہیںکیا تھا۔ ممبئی اور پٹھان کوٹ جیسے حادثوں میں پاکستان کے شامل ہونے کی سرکاری طورپر تصدیق ہونے کے بعد سے بوکھلائی پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو کل بھوشن جادھو کے طور پر قربانی کا بکرا مل گیا۔ اس پر طرح طرح کے الزام لادے جارہے ہیں۔ حالانکہ شروعات میں پاکستان نے بھی کہا تھا کہ کل بھوشن کا مختلف بندرگاہوں پر مال لے جانے کا دھندہ ہے۔ اب پاکستان کل بھوشن جادھو کے ذریعہ ہندوستان پر پاکستان میں جاسوسی کرنے اور بلوچستان میں تشدد پھیلانے کے الزام منڈھ رہا ہے۔
القاعدہ نے ’را‘ کو میل پر بتایاتھا ، سی آئی اے کے ہاتھوں مارا جاچکا ہے میجر رویندر
’©را‘ کے جنوبی مشرقی ایشیا معاملوں کے انچارج جوائنٹ سکریٹری میجر رویندرسنگھ کے ملک چھوڑ کر بھاگنے کے سنسنی خیز واقعے کے کچھ ہی دن گزرے تھے ۔ پورا ملک اور پوری دنیا اس فراری پر طرح طرح کے قیاس لگانے میں لگی تھی۔ کافی مشقتوں کے بعد بھی حکومت ہند کو اپنے فرار ایجنٹ کا پتہ نہیںچل پارہا تھا،تبھی ’را‘ کو میل پر ملے ایک پیغام نے اس خفیہ تنتر کوبوکھلا کر رکھ دیا۔ میل پر بدنام دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے ’را‘ کو سنسنی خیز پیغام بھیجاتھا اور امریکہ سے محتاط رہنے کی صلاح د ی تھی۔
القاعدہ نے لکھا تھا کہ سی آئی اے نے ہندوستان سے بھگانے میں رویندر سنگھ کی مدد کی اور بعد میںاس کا قتل کرادیا۔ القاعدہ کی اس اطلاع کا ’را‘ کے پاس کوئی جواب نہیںتھا، آج تک نہیں ہے۔ فرار ایجنٹ کا آج تک کہیںپتہ نہیںچلا۔ اگر وہ امریکہ میںبھی فرضی نام سے رہ رہا ہوتا، تو کسی کو تو دکھائی دیتا، کہیں تو دکھائی دیتا۔ نہ کہیں وہ زندہ ملا اور نہ ہی کہیں اس کی لاش ملی۔ القاعدہ نے امریکہ کے ہاتھوں کھلونا بننے سے ’را‘ کو خبردار کرتے ہوئے لکھا تھاکہ امریکہ کسی کا نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *