سروج سنگھ
بہار کا اسمبلی الیکشن اب آخری مرحلے میں ہے لیکن ابھی بھی کچھ بڑے لیڈروں کی پیشانی سے پسینہ خشک نہیں ہورہا ہے۔ رات میں ہلکی خنکی کا احساس بھی انہیں سکون نہیں دے پارہا ہے۔اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے، اور وہ ہے اب تک ہوئے انتخابات کا رجحان۔ نئی حد بندی کے بعد ہونے والے اس پہلے الیکشن میں بازی کس کے ہاتھ لگے گی یہ بتا پانا سیاسی پنڈتوں کے لئے بھی مشکل ہورہا ہے۔ پچاس فیصد سے بھی زیادہ ووٹنگ اور اس میں بھی خواتین کی بڑے پیمانے پر شرکت کا کیا مطلب ہے، اس تعلق سے چوک چوراہوں پر گرما گرم بحثیں جاری ہیں۔رائے دہندگان کی خاموشی نے تو جیت اور ہار کے سوال کو اور بھی الجھادیا ہے۔ اگر مگر اور تذبذب کی حالت میں لیڈروں کے دن گزر رہے ہیں۔ لیڈران پورے دن اپنے حامیوں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں، اٹکلیں لگاتے رہتے ہیں اور شام میں یہ کہہ کر بیٹھک ختم کردیتے ہیں کہ 24نومبر کو صورت حال واضح ہوجائے گی۔
نومبر 2005کے الیکشن کی اگر بات کریں تو اس وقت پورے بہار کی تمام سیٹوں کی نہیں  تو کم سے کم بڑے لیڈروں کے حلقہ انتخاب کے بارے میں ایک واضح رائے قائم کرنے  میں ضرور آسانی ہوگئی تھی کہ کس وی آئی پی سیٹ پر کون سا وی آئی پی امیدوار آگے چل رہا ہے۔ لیکن اس بار تو وی آئی پی امیدواروںکے تعلق سے بھی کوئی رائے قائم کرنا بڑا مشکل ہورہا ہے۔ عوامی سطح پر تو بڑے بڑے لیڈران اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کررہے ہیں، لیکن دل کی بات پوچھنے پر کہتے ہیں کہ بتانا بڑا مشکل ہے، لیکن جیسے تیسے نکل جائیں گے۔ ذات پات کی بنیاد پر جو قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں، وہ نامکمل ہیں، کیونکہ صرف ایک ذات کی بنیاد پر کسی سیٹ کا نتیجہ نہیں بتایا جاسکتا ۔ دوسری بات یہ کہ  رائے دہندگان کی خاموشی کی وجہ سے  سارا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ پسماندہ، مہادلت اور مسلم ووٹوں کے رخ سے کسی بھی نتیجے پر پہنچنے میں دقتیں ہورہی ہیں۔ کوسی کے علاقے میں لولی آنند، رنجیتارنجن، محبوب علی قیصر، وجیندر یادو اور رینو کشواہا وغیرہ کی سیٹوں پر جس طرح کی ووٹنگ ہوئی، اس سے ان لیڈروں کے ہوش ہی اڑ گئے ہیں۔ یہ بڑے لیڈران یہ بتانے کی حالت میں نہیں ہیں کہ ان کی سیٹ نکل رہی ہے ۔ چھوٹے لیڈروں کی سیٹوں کا تو حال اس سے بھی زیادہ برا ہے۔
عام طور پر سارن ڈویژن کے تینوں اضلاع، چھپرہ، سیوان اور گوپال گنج انتخابی تشدد کے لئے مشہور ہیں، لیکن اس بار سخت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے مذکورہ بالا اضلاع میںپرامن الیکشن کا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ ووٹنگ کی شرح میں اضافے سے نتائج کی پیشین گوئی کرنے والے محققین کے اندازے بھی الٹے پڑ رہے ہیں۔ الیکشن کے بعد کوئی بھی یہ کہنے کی حالت میں نہیں ہے کہ کس حلقہ اسمبلی میں کس کی جیت ہوگی، کیونکہ سخت حفاظتی بندوبست کی وجہ سے بوتھوں پر کسی بھی طرح کی گڑبڑیوں کو ناممکن بنا دیا گیاہے۔ اب فتح وشکست کی قیاس آرائیاں ذات پات کے تناظر میں ووٹوں کی تقسیم کی بنیاد پر کی جارہی ہیں،لیکن سبھی لوگ اس بات کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ آرجے ڈی، جے ڈی یو اور کانگریس کے روایتی مخصوص ذات کے ووٹ میں دوسرے اور تیسرے نے نقب زنی کی ہے۔ گزشتہ 2005 کے اسمبلی الیکشن میں آرجے ڈی کے گڑھ سارن سے عوام نے اس کا کلی طور پر صفایا کردیا تھا۔ گزشتہ سال لوک سبھا الیکشن میں آرجے ڈی کے صرف دو امیدوار کامیاب ہوپائے تھے۔ اس بار آرجے ڈی نے امنور چھوڑ کربقیہ تمام اسمبلی حلقوں میں اپنے بااثر امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا، جن میں چھپرہ سمیت مہاراج گنج لوک سبھا حلقہ کے تحت آنے والے اسمبلی حلقوں ایکما، مانجھی، بنیا پور اور تریا میں سابق ممبر پارلیمنٹ پربھوناتھ سنگھ کے حامی میدان میں تھے۔ بقیہ سیٹوں پر آرجے ڈی کے پرانے سپہ سالار امیدوار بن کر عوام کے درمیان کھڑے تھے۔ ان میں سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی سون پور میں بی جے پی کے ونے کمار سنگھ کے ساتھ کانٹے کی لڑائی میں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ مہاراج گنج کے موجودہ آرجے ڈی رکن پارلیمنٹ اوما شنکر سنگھ کا ابتدائی دور سے ہی آرجے ڈی امیدواروں کے خلاف باغیانہ تیور پارٹی امیدواروں کو حیران کرتا نظر آیا، جس کا فائدہ بالآخر این ڈی اے امیدواروں کو ملنا طے مانا جارہا ہے۔ وہیں دوسری جانب کانگریس کی طرف سے ضلع کی تمام سیٹوں پر آرجے ڈی کے مائی (MY)اتحاد کے علاوہ راجپوت امیدوار کھڑے کردئے جانے سے آرجے ڈی کے لئے انتخابی کشتی کو پار لگانا بڑا مشکل ہورہا ہے۔ اسی طرح کے حالات سیوان اور گوپال گنج کے اکثر علاقوں میں نظر آتے ہیں، گوپال گنج میں لالو پرساد کے سالے سادھو یادو کانگریس کے امیدوارہیں ، وہیں رگھوناتھ پور میں کانگریس نے سابق ایم ایل سی ڈاکٹر چندرما سنگھ کو اپنا جھنڈا تھماکر آرجے ڈی کے نئے ایم آر وائی اتحاد کو چیلنج دیا ہے۔ سارن ضلع کے تحت بی جے پی کو ملی چار اسمبلی حلقوں میں سے تین سیٹوں پر راجپوت برادری کے امیدواروں کی موجودگی سے اس طبقے کے رائے دہندگان میں این ڈی اے کے حق میں مثبت تبدیلی کے آثار نظر آرہے ہیں، جس کی وجہ سے آرجے ڈی میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سون پور اسمبلی حلقے میں آرجے ڈی کی رابڑی دیوی اور بی جے پی کے ونے سنگھ کی انتخابی پالیسیاں آرجے ڈی کو تذبذب میں ڈال دینے کے لئے دلچسپ واقعہ کی شکل میں دیکھی جارہی ہیں، جس کا صحیح اندازہ انتخابی نتائج کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ فی الحال اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، یہ کہنا کافی مشکل ہوگا۔ ویسے تیسرے مرحلے میں ضلع کی تمام سیٹوں پر آرجے ڈی اور این ڈی اے اتحاد کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے، جب کہ کانگریس گڑکھا، مانجھی، تریا اور امنور کے دیہی علاقوں میں زبردست چیلنج دینے کی پوزیشن میں ہے۔کانگریس کے ان علاقوں کے امیدواروں نے اپنی سیاسی مہارت اور عوام کے درمیان اپنی مضبوط گرفت کی بدولت آرجے ڈی اتحاد اور این ڈی اے اتحاد کے امیدواروں کا انتخابی میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ ضلع کی زیادہ تر سیٹوں پر باغی امیدواروں کی موجودگی سے سیاسی جماعتوں کے امیدوار حیران ہیں۔ اسی طرح اشونی چوبے، شکونی چودھری، اننت سنگھ اور وجے کرشن جیسے بڑے لیڈران بھی اپنے سیاسی مستقبل کے تعلق سے فکر مند نظر آرہے ہیں۔ جیت کے تعلق سے ان کے دعووں میں جوش زیادہ اور یقین کم نظر آتا ہے۔
کون امیدوار جیت کر پٹنہ جائے گا، اس کا اندازہ لگاناووٹنگ کی شرح میں اضافے کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ آرجے ڈی اور این ڈی اے دونوں اس کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ آرجے ڈی کا ماننا ہے کہ ووٹ کی شرح میں اضافہ ہمیشہ اقتدار کے خلاف عوامی بے چینی کا مظہر ہوتا ہے۔ آرجے ڈی کے جنر سکریٹری رام کرپال یادو کا کہنا ہے کہ اس الیکشن میں غریب اپنی حکومت لانے کے لئے بے چین ہیں، ان کے گھر کی خواتین اور نوجوان بڑی تعداد میں بوتھوں تک پہنچے ، اس وجہ سے ووٹنگ کی شرح میں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر بھیم سنگھ کا ماننا ہے کہ ووٹنگ کی شرح اس لئے بڑھی کہ عوام کا جمہوریت اور حکومت کے تئیں اعتماد ویقین میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں نے بے خوف ہوکر نتیش حکومت کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ الگ الگ دعوے بتاتے ہیں کہ ریاست میں انتخابی نتائج کا سوال کتنا پیچیدہ ہے۔ اس پیچیدگی پر سے پردہ تو 24نومبر کو ہی اٹھے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here